ہم بحثیت قوم اور اخلاقی پستی

پیر اکتوبر

Abu Abeer Adam

ابو عبیر عدم

پاکستان میں کسی حد تک کووڈ ۔19 کی روک تھام مین کامیابی ہوئی اور زندگی معمول کی طرف رواں دواں ہو رہی ہے ۔ ڈیڈھ ماہ کی مصروفیات کے بعد کچھ لکھنے کے قلم اٹھایا تو موضوعات کا انبار نظر آیا۔ کس پر لکھا جائے، پاکستان میں سیاست کا گرم ماحول، اور پھر اختلافات اور بحث و مباحثہ وہ بھی اخلاقی گراوٹ کا شکار  ۔ شدید مہنگائی کی لہر اور حکومتی بے بسی، وزراء کا نامناسب رویہ اور غیر اخلاقی رویہ۔

موسمیاتی تبدیلی اور اس کے مضر اثرات جیسے آلودگی،بروقت بارشوں کا نہ ہونا اور پھر اس آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں ۔
ابھی موضوع کے انتخاب کے لیے سوچ بچار جاری ہی تھی کہ گلی میں شور شرابہ ہونے پر باہر نکلنا پڑا تو وجہ پتا چلی کہ تیز رفتار گاڑی نے ایک پالتو بلی کو کچل دیا جو موقع پر ہی مر گئ اور گاڑی والا فورا بھاگ گیا، خیر پاکستان میں تو روزانہ سڑکوں پر اتنے حادثات ہوتے ہیں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

لوگ دو چار دن میں بھول جاتے ہیں اور بھی اسی طرح کا ایک حادثہ ہی تھا اور وہ بھی ایک بے زبان جانور کا ۔ لیکن پڑوس کے ماسٹر صاحب کی ایک بات نے مجھے آج کا موضوع دے دیا ۔ ماسٹر صاحب نے فرما تے ہیں کہ ہم اخلاقی طور پر کتنے گر گئے ہیں ایک بے زبان اور بے قصور جانور کو بلا وجہ مار دیا۔ کیا واقعی ہم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں؟؟؟۔ یہی میرا موضوع ہے۔

ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی کے بین القوامی مرکز کے ساتھ بطور رضہ کار وابستگی کی وجہ سے میں نے ان بے زبان جانوروں ساتھ ہونے والے ظلم پر کچھ مزید تحقیق بھی کی جو آپ کی نظر کرتا ہوں۔
کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک تصویر نظر سے گزری ایک گھوڑا گاڑی (کچھ شہروں میں اسے لوڈنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) سڑک پر الٹ پڑی۔ زیادہ لوڈ کی وجہ سے گھوڑا گرا اور دانت ٹوٹ کر سڑک پڑے ہیں منہ خون میں لت پت ہے، درد اور تکلیف کی شدت اس بے زبان جانور آنکھوں میں نظر آرہا ہے۔

جبکہ مالک لوڈ ہوئے سامان کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں اسلام آباد کے چڑیا گھر میں شیروں کو پنجرے میں علیحدہ کرنے کے لیے آگ لگائی گئی اور دو بےزبان شیر دم گھٹنے سے مر گئے۔ اسی چڑیا گھر میں ایک ہاتھی کو کئی سالوں سےزنجیروں سے باندھ کے رکھا گیا تھا جو شاید اب ایک غیر ملکی تنظیم (فور پاز) یعنی کے چار پیروں والے بے زبان جانوروں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے۔

کے تعاون سے کموڈیا ہاتھیوں کے قدرتی مسکن روانہ کیا جائے گا۔
ایک اور ویڈیو بھی نظر سے گزری ،پنجاب کے دیہاتی علاقوں میں سور کو پہلے زندہ قید کیا جاتا ہے پھر کھلے میدان میں لا کر شکاری کتے چھوڑے جاتے ہیں ۔ اور پھر اس بے زبان اور بے بسی کا تماشا دیکھا جاتا ہے۔ ہماری اخلاقی پستی دیکھیں کہ سائبیریا سے ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کو بھی جال لگا کر زندہ پکڑتے ہیں اور فروخت کر دیتے ہیں۔


 دہیاتی علاقوں میں ان معصوم اور بے زبان جانوروں کے ساتھ ہونے والے ظلم کی فہرست بہت طویل ہے۔ سانڈوں کو تیل کے لیے زندہ کاٹنا ہو یا جنگلی چھپکلی  کو قیمتی چمڑے کے نام پر اس وقت پکڑنا جب وہ دن کے اوقات میں کھانے کی تلاش میں چٹانوں سے باہر نکلتی ہے۔ ایک غیر  اسلامی ملک کی ویڈیو بھی نظر سے گزری۔ ایک ٹریفک اہلکار نے سڑک پر گاڑیاں روک رکھی ہیں تاکہ بطخ اور اسکے بچے سڑک پار کر سکیں، ایک اور ویڈیو میں دو خواتین انتہائی مصروف شاہراہ پر ایک زخمی کتے کے بچے اور ماں  کو ہاتھوں سے اٹھا کر سائیڈ پر کرتے ہیں ۔

اسی طرح یورپین ممالک کی کئی ویڈیو نظر سے گزری جہاں یہ لوگ ان بے زبان جانوروں کی خدمت اور خاطر مدارت کرتے نظر آتے ہیں۔ اس میں نہ تو ان کا کوئی بزنس ہے اور نہ کوئی اور کاروباری دلچسپی، آپ اس فور پاز نامی غیر ملکی تنظیم کی دلچسپی دیکھیں جو دنیا بھر کے معصوم، بے زبان،بے قصور جانوروں کی آزادی، بہتری اور بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ہر صوبے میں وائلڈ لائف کے محکمے قائم ہیں لیکن یہ غیر فعال ہی نظر آتے ہیں، ورلڈ وائلڈ لائف کے دفاتر بھی پاکستان میں موجود ہیں جو کچھ بہتر کام کر رہے ہیں لیکن اس شعبے میں سب سے زیادہ فعال اور بہترین کام سندھ وائلڈ لائف والے کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر  روزانہ کی بنیاد پر جانوروں کی بازیابی اور قدرتی مسکن میں واپسی کے مناظر شئیر کئے جاتے ہیں۔ یہ معصوم اور بے زبان جانور ہر لحاظ سے انسان کی خدمت میں پیش ہیں، پالتو جانور، باربرداری والے جانور، حلال جانور ہوں یا پھر ماحول خوشگوار کرنے اور گانے والےپرندے یہ ہر لحاظ سے انسان کے دوست ہی واقع ہوتے ہیں۔ لیکن ہم بحثیت انسان اخلاق پستی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انسانیت بھی بھول جاتے ہیں۔
اس موضوع پر وائلڈ لائف سے تفصیلات حاصل کرکے ایک اور کالم بھی شیئر کیا جائے گا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Hum Bahesiyat Qoum Or Ikhlaqi Pasti Column By Abu Abeer Adam, the column was published on 26 October 2020. Abu Abeer Adam has written 5 columns on Urdu Point. Read all columns written by Abu Abeer Adam on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.