اعزاز افضل کی معاشرتی شاعری۔ معاشرتی نظمیں و غزلیں

یہ شہر یہ خوابوں کا سمندر نہ بچے گا

اعزاز افضل

ہم نے میخانے کی تقدیس بچا لی ہوتی

اعزاز افضل

ہر ایک گام پہ آسودگی کھڑی ہوگی

اعزاز افضل

نگاہ باغباں کچھ مہرباں معلوم ہوتی ہے

اعزاز افضل

ندی ندی رن پڑتے ہیں جب سے ناؤ اتاری ہے

اعزاز افضل

سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی

اعزاز افضل

لہو نے کیا ترے خنجر کو دل کشی دی ہے

اعزاز افضل

سلیقہ اتنا تو اے شوق خوش کلام آئے

اعزاز افضل

رسوا بھی ہوئے جام پٹکنا بھی نہ آیا

اعزاز افضل

دلوں کے بیچ بدن کی فصیل اٹھا دی جائے

اعزاز افضل

درس آرام میرے ذوق سفر نے نہ دیا

اعزاز افضل

خوابوں کے صنم خانے جب ڈھائے گئے ہوں گے

اعزاز افضل

چلو کچھ تو راہ طے ہو نہ چلے تو بھول ہوگی

اعزاز افضل

جب پھیل کے ویرانوں سے ویرانے ملیں گے

اعزاز افضل

جام کھنکے تو سنبھالا نہ گیا دل تم سے

اعزاز افضل

اے نقش گرو لوح تحریر ہمیں دے دو

اعزاز افضل

آنگن آنگن خانہ خرابی ہنستی ہے معماروں پر

اعزاز افضل

اجالے تیل چھڑکنے لگے اجالوں پر

اعزاز افضل

اجالا کیسا اجالے کا خواب لا نہ سکے

اعزاز افضل

آج دل ہے کہ سر شام بجھا لگتا ہے

اعزاز افضل