Episode 32 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 32 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
اولا لا، او لالا !
آج ساڑھے بارہ بجیمیرا انٹرویو مرکزی شہر ٹورانٹو( ڈاؤن ٹاؤن) میں تھا۔یہ انٹرویو ایک ساؤ تھ ایشین ایجنسی میں تھا انہیں اپنے کسی پروجیکٹ کے لئے ایک ویب ڈیزائنر کی ضرورت تھی۔ میں اس انٹرویو کی خاطر خواہ تیاری نہیں کر سکا کیونکہ اس ایجنسی کی اپنی ویب سائٹ بھی نہیں تھی۔ ایجنسی کے متعلق معلومات حاصل کرتا تو کہاں سے کرتا؟ خیر دیکھی جائے گی۔

یہ شکر ہے کہکہیں سے انٹریو کا بلاوا توآیا۔
 یوں تو میرے شہر بریمپٹن اور ٹورنٹو ڈاؤن ٹاؤن تک عام حالات میں زیادہ سے زیادہ پچاس منٹ کی ڈرائیو ہے، لیکن رش کے اوقات خاص کر صبح کے وقت ہائی وے ۴۰۱ پر بہت زیادہ ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ میں نے تما م ممکنہ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے یعنی ٹریفک جام، پارکنگ کا نہ ملنا، راستہ بھول جانا،بلڈنگ کا نہ ملنا جہاں انٹرویو ہے وغیرہ وغیرہ ،میں صبح نو بجے ہی گھر سے نکل پڑا ۔

(جاری ہے)

نوکری کا انٹرویو تھا اور میں اس معاملہ میں کسی قسم کا کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔
اب اس وقت گیارہ بجا تھا، میں نے گاڑی بھی مناسب جگہ پارک کر دی تھی، بلڈنگ کاچکر بھی لگا لیا تھا بلکہ ادارے کا آفس بھی تلاش کر لیا تھا جہاں انٹرویو تھا او راب سکون سے آ کرٹم ہارٹن میں بیٹھ گیا تھا۔
میں نے سوا بارہ بجے ایجنسی کے دفتر کے دروازے پر دستک دی۔

جواب نہیں ملا تو دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ کوئی بھی سامنے نظر نہیں آرہا تھا۔ ایک کمرے سے کسی کی گفتگو کی آوا ز آ رہی تھی، غالباً کوئی فون پر بات کر رہا تھا۔ میں سامنے پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا اور آفس کا جائزہ لینے لگا۔ چھوٹے چھوٹے تین کیوبک نما کمرے نظر آ رہے تھے۔ ایک چھوٹا سا استقبالیہ ہے جہاں میں بیٹھا تھا، وہیں فوٹو کاپی مشین ، کمپیوٹر اورکتابوں کی الماریاں رکھی تھیں۔

مجھے کچھ مایوسی سی ہوئی۔ پتہ نہیں کس قسم کا ادارہ ہیں بھی ساؤتھ ایشین دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ٹیلیفون پر گفتگو کا اختتام ہوا اور ایک دیسی خاتون باہر نکلیں۔
"آپ غالباً انٹرویو کے لئے آئے ہیں"
"جی ویب ڈیزائنر کے انٹرویو کے لئے" میرا زیادہ زور ویب ڈیزائنر پر تھا
"آپ بیٹھیں ہماری ٹیم آنے والی ہے"
میں نے اپنی ٹائی کی گرہ ڈھیلی کی اور ایک لمبا سانس لے کر دوبارہ بیٹھ گیا۔


انٹرویو شروع ہو، وہ خاتون اس ادارے کی ایکزیکٹیو ڈائریکٹر(ای ڈی) نکلیں۔ان کے ساتھ ادارے کے دو بورڈ ممبر بھی تھے۔ دو چار منٹ میں ہی اندازہ ہو گیا کہ میری اور ان لوگوں کی گفتگو متوازی چل رہی ہے، جس کا کوئی نکتہ اتصال نظر نہیں آرہا تھا ۔ انہیں ویب ڈیزائننگ کا کچھ پتہ نہیں تھا اور میری معلومات ان کے کام کے بارے میں واجبی سی تھیں۔
مثلاً مجھے کینیڈا کے چارٹرڈ آف رائٹس اینڈ فریڈم کے بارے میں کچھ پتہ تھا نہ ہی مجھے ملٹیکلچرزم اور کلچرل شاک کی اصطلاحات کا کچھ علم تھا۔

مجھے اس بات کا بھی کچھ علم نہیں تھا کہ کینیڈا میں غربت کے خاتمے کے لئے کیا قدامات کئے جاسکتے ہیں۔ کم سے کم اجرت کتنی ہونی چاہئے؟ اور پتہ نہیں کیا کیا؟
اس سنجیدہ ماحول میں خدا جانے میرے ذہن میں سالوں پہلے پڑھی ہوئی ایک مزا حیہ نظم حافظے میں ابھر آئی۔ عنوان تو یاد نہیں لیکن اس میں"مقابلے" کے امتحان میں پوچھے جانیوالے بے سروپا سوالات کچھ اس طرح تھے:
 دھوبڑی پور میں کتنے مالی ہیں؟
شہر میں کتنے مکان خالی ہیں؟
اردو فکشن میں کیا جھکاؤ ہے؟
کیوں نئی شاعری میں تاؤ ہے؟
شہر میں نالیاں ہیں کل کتنی؟
تیرے گھر تھالیاں ہیں کل کتنی؟
کتنے میں ایک آلو آتا ہے؟
 گھوڑا کیسے بھگایا جاتا ہے؟
مجھے بھی یہ انٹرویو کچھ ایسا ہی لگ رہاتھا۔

میری رہی سہی امیدیں بھی ختم ہو گئیں۔ ابھی تک انہوں نے ویب سائٹ ڈیزائین کے بارے میں ایک بھی سوال نہیں کیا تھا۔ میرا گمان یقین کی حدوں کو چھو رہا تھا کہ یہ سب لوگ اس کوچہء جاناں سے نابلد ہیں یا شائد مجھے فقط خانہ پری کے لئے بلایا گیا۔ سلسلہ کچھ اور ہی ہے۔
 میں انٹرویو کے خاتمہ کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک کسی نے سوال کیا
"آپ یہ بتائیں کہ اس کام کے لئے آپ کو کیوں منتخب کیا جائے؟"
میرے ذہن میں ایک دم سے پروفیسر صاحب کی شبیہ ابھری .........یہ تمہارا عملی پروجیکٹ بھی ہو جائے گا اور تمہاری صلاحیتوں کا شو کیس بھی ۔


"میں نے ایک کمیونٹی ویب سائٹ بنائی ہے ، آپ اسے دیکھ لیں، شائد اس طرح آپ کو میری صلاحیتوں کا کچھ اندازہ ہو جائے"
یہ کہہ کر میں نے سامنے پڑے ہوئے پیڈ پر انتہائی نیم دلی سے اپنی کمیونٹی ویب سائٹ کا ایڈریس لکھ دیا۔
ایک بورڈ ممبر نے سنبھل سنبھل کر ایک انگلی سے میری سائٹ کاا یڈریس ٹائپ کیا۔ میری ویب سائٹ کھلتے ہی تینوں اس کی طرف متوجہ ہو گئے
یہ آپ کی اپنی ویب سائٹ ہے؟ کب بنائی؟یہ دوسری زبان کون سی ہے؟ اردو ہے؟ کچھ سوال مجھ سے ہو رہے تھے، کچھ وہ آپس میں بات کر رہے تھے۔

مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اس ویب سائٹ نے کچھ ہل چل سی مچا دی ہے۔ اور بورڈ والوں پر کافی مثبت اثر چھوڑا ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ فقط میری خوش فہمی ہو۔
انٹرویو ختم ہو گیا اور مجھ سے کہا گیا کہ میں باہر چند منٹ انتظار کروں۔
تھوڑی دیر کے بعد ای ڈی باہر آئیں اور کہنے لگیں
"ہمیں آپ کیحوالہچیک کرنے ہیں۔فہرست ہے آپ کے پاس۔ نہیں تو ہے کسی کاغذ پر لکھ دیں؟"
میری فہرست میں سب سے اوپر پروفیسر صاحب کا نام تھا۔


باہر نکل کر میں نے سب سے پہلے ایک پبلک ٹیلیفون سے پروفیسر صاحب کو فون کیا اور بتایا کہ ابھی میرا یک انٹرویو ہوا ہے اور میں نے ان کا نام بطور استاد دیا ہے۔ پروفیسر صاحب خوش ہوئے اور بہت مثبت جذبات کا اظہار کیا۔ میرے حوصلے بڑھ گئے۔ میرے خیالوں میں امید کے خوشے لگنے لگے
ٹیلیفون کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ ٹورانٹو ڈاؤن کیبارے میں پڑھا تو کافی ہے اور ایک آدھ دفعہ چکر بھی لگایا ، آج کیوں نہ اس کا تفصیلی چکر لگالیا جائے، ویسے بھی پارکنگ میں پورے دن کے پیسے ڈال دیئے تھے۔

اگر نوکری مل گئی تو روازنہ ہی آنا ہو گا، اگر نہیں توآج ہی ذرا گھوم پھر لیتے ہیں، روزانہ کون آ سکتا ہے۔
رات دھیرے دھیرے گزر رہی تھی۔ میں آہستگی سے کمرے سے نکل کر کرسی پر آکر بیٹھ گیا اور روشندان کے پار دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔
ہے امید کی کوئی کرن؟ قسمت کے ستارے کی کوئی چمک؟ یا الٰہی کیا میرے امتحان کی گھڑیا ں ختم ہونے کو ہیں یاا بھی مزید امتحان باقی ہیں؟ میری قست ایک کچھ دھاگے سے بندھی تھی۔

ایسی بے خواب راتیں میری زندگی کے تجربے میں کم ہی شامل تھیں۔ مرا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی مجھے یقین دلادے کہ تو کامیاب ہوا۔ لیکن وہاں کون تھا؟ سوائے میں اور میرا روشندان۔
صبح کے دس بجے ہونگے جب ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ڈسپلے پر ایجنسی کا نام نمایاں تھا۔ میں نے دھڑکتے دل سے فون اٹھایا، دوسری طرف سے ای ڈی بول رہی تھیں۔ رسمی جملوں کے بعد انہوں نے کہا
"ہمارے بورڈ نے آپ کو منتخب کر لیا ہے۔

آپ کب سے آ سکتے ہیں؟"
 دل تو چاہ رہا تھا کہ میں کہہ دوں کہ میں تو ابھی دوڑتا ہوا آسکتا ہوں۔ بہرحال پیشہ ورانہ تقا ضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے کہا
"آپ بتائیں؟"
"ایسا کریں آپ پیر سے آ جائیں"
 میرا سر شکرانے سے جھک گیا۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
آج اس آفس میں میراپہلا دن تھا۔ ای ڈی (میڈم )خود، ایک پروجیکٹ کوارڈینیٹر، ایک رضاکار سٹوڈنٹ اور میں۔

یہ تھا ادارہ کا کل سٹاف۔ نہ کوئی ریسپشنسٹ ہے نہ کوئی اکاوئنٹ کا بندہ۔میڈم نے سب سے میرا تعارف کرایا۔
 مجھے بہت اچھی طرح خوش آمدید کیا گیا ، میز اور کمپیوٹر بھی دے دیا گیا۔
 مجھے اس بات کی فکرتھی کہ مجھے میرا کام بتا دیا جائے تاکہ میں سٹارٹ لے لوں۔یہی بات دوسر ے دن میں نیمیڈم سے کہی
"میں آپ کو پروجیکٹ کا کاپی ای میل کر دیتی ہوں۔

آپ کو کیا کام کرنا ہے، یہ آپ خود معلوم کریں۔ مجھ سے نہ پوچھیں۔ ہا ں اس پر پروجیکٹ کی پہلی رپورٹ چار ہفتوں میں بھیجنی ہے ، کام پہلے ہی لیٹ چلا آرہا ہے"
میرے تو پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ ابھی کام کا پتہ نہیں ، رپورٹ کی بات ہو رہی ہے۔ اب تو لوگوں سے مبارکباد بھی وصول کر چکے ہیں، مٹھائی بھی کھا چکے ہیں۔ عزت رہ جائے اور یہ نوکری چل جائے تو جانو!
 الیکٹرانک کاپی میں پروجیکٹ کا رنگین' لوگو 'موجود تھا اور مجھے اس بات کا اندازہ بہرحا ل ہوگیا کہ ابتدا کہاں سے کرنی ہے۔

رنگین لوگو کی وجہ سے ویب سائٹ کے رنگ اور ڈیزائین کا مسئلہ بھی حل ہو تا نظر آنے لگا۔
میں ایک دم سے بہت مصروف ہو گیا ۔ ا س وجہ سے نہیں کہ میرے پاس ویب سائٹ کاکام بہت تھا، بلکہ اس وجہ سے کہ مجھے کمپیوٹر ایکسپرٹ سمجھ لیا گیا تھا۔اندھوں میں کانا راجہ۔دفتر کے دوسرے کمپیوٹروں کے مسائل بھی حل کرنا پڑ رہے تھے، کسی پر ای میل نہیں آرہی تھی، کسیکاپرنٹر کام نہیں کر رہا تھا، فون کے پیغامات بھی نوٹ ہو رہے تھے آفس کی چابی بھی دے دی گئی تھے، غرضیکہ میں ہر لحاظ سے خود کفیل ہو چکا تھا۔


میڈم بہت مصروف تھیں ان کی میٹنگ زیادہ تر آفس کے باہر ہی ہوتی تھیں۔ کیا کرتی تھیں، کچھ پتہ نہیں؟بورڈ کے وہ ممبر جو میرے انٹرویو میں موجود تھے، وہ بھی نظر نہیں آرہے تھے۔
 ہفتے بھر کے بعدومیڈم سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگیں" یہ بتائیں ویب سائٹ کہاں تک پہنچی؟"
میں نے کمپیوٹر پر ویب سائٹ کا ایک ابتدائی نمونہ دکھا دیا
"بہت خوب، آپ تو آپ بہت کام کے آدمی نکلے۔

دیکھا ہم بھی آدمی پہچاننے میں کمال رکھتے ہیں"
وہ تو آدمی پہچاننے میں کمال رکھتی تھیں۔ لیکن میں اس معاملہ میں ذرا مار کھا گیا۔ مجھے ان کی صلاحیتوں کاا س وقت اندازہ ہو اجب میں نے ان کو ایک ٹی وی پروگرام میں ایک سماجی موضوع پربولتے سنا، اور ان کا ایک مضمون اخبار میں دیکھا۔ کیا رواں انگلش تھی۔ امیگریٹنس کے مسائل پر مکمل عبور تھا۔
"وہ پہلی پروجیکٹ رپورٹ بھی تو بھیجنی ہے، کل بیٹھ جاتے ہیں ، ڈرافٹ تیار کر لیتے ہیں۔

کیا خیال ہے؟"
"میں نے ابتدائی طور ہر ایک ڈرافٹ تیا رکیا ہوا ہے، چاہیں تو اسے دیکھ لیں"۔
نہوں نے ڈرافٹ پر ایک نظر ڈالی اور کہا " ڈر افٹ ؟ یہ تو ہرلحاظ سے ایک مکمل رپورٹ ہے۔ میں اسی کو اپنے نوٹ کیساتھ بھیج دیتی ہوں۔ میرا کام ختم"
اس ڈرافٹ میں میراکوئی کمال نہیں تھا، فنڈرز کی طرف سے عبوری رپورٹ کی مکمل ہدایات تھی ایک مکمل خاکہ موجودتھا۔

میں نے اس خاکہ کے مطابق معلومات فراہم کر دی تھیں۔
ادارے کی اپنی ویب سائٹ کے ساتھ مجھے غیر ملکی سند یافتہ ڈاکٹروں کے ایک پروجیکٹ کی ویب سائٹ پر بھی کام کرنا تھا۔ میڈم مجھے ڈاکٹروں کے پروجیکٹ کی انچارج سے ملوانے کے بعد خود رخصت ہو گئیں
"کیا آپ غیر ملکی ڈاکٹر ہیں"
"میں ڈاکٹر تو نہیں لیکن غیر ملکی ضرور ہوں۔ میرے والدین کافی عرصہ پہلے اسرائیل سے کینیڈا آگئے تھے۔

ہم لوگ یہودی ہیں"
اسرائیل اور یہودی! میرا ذہنی اور نفسیاتی مدافعتی نظام ایک دم سے چوکنا ہو گیا۔ میں نے ان منحنی سی خاتون پر ایک گہری نظر ڈالی تو مجھے اندازہ ہو ا کہ فوری طور پر مجھے ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے، پھر بھی میں نے درمیانی فاصلہ کو ذرا بڑھا لیا۔ احتیاط بہر حال اچھی چیز ہے۔
پروجیکٹ انچارج کے مطابق اس وقت صرف ٹورانٹو میں ہی ایک ہزار سے زیادہ غیر ملکی سند یافتہ ڈاکٹرز موجود تھے جو موجودہ قوانین کے مطابق دیگر غیر ملکی پیشہ وروں کی طرح اپنے پیشے میں کام کرنے کے اہل نہیں تھے ۔

ان میں سے بیشتر ڈاکٹر اپنا گھر چلانے کے لئے ٹیکسی چلا ر ہے تھے، پیزا کی دکانوں پر کام کر رہے تھے یا ایسی ہی کوئی چھوٹی موٹی نوکری کر رہے تھے۔
میں تو صرف انجینئروں کو ہی سمجھ رہا تھا لیکن ڈاکٹروں کی حالت تو ان سے بھی گئی گزری تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ سمجھ میںآ ئی کہ طب وصحت مفت ہے اور اس کا انتظام حکومت کی ذمہ دار ی ہے۔ یہ امریکہ کی طرح نجی شعبہ میں نہیں ہے۔


میرے ذہن میں فوری طور پرخیال آیا کہ ان سب غیر ملکی بے روزگار ڈاکٹروں کو مل کر اربابِ اقتدار کے خلاف مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اور ان کے کانوں تک بات پہچانی چاہئے۔جب میں نے یہی بات پروجیکٹ انچارج سے کہی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہاں کے طور طریقے مختلف ہیں۔ ہم بطور ادارہ، غیر ملکی سند یافہ ڈاکٹروں کے تعاون سے ان کے لئے وکالت (ایڈوکیسی) یا ایک طرح لابننگ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹرز کی پیشہ وارنہ تنظیم جوصحت و طب کے پیشے کو باضابطہ بناتی ہے ، ڈاکٹروں کو لائسنس دیتی ہے،کلی طور پر ایک خو د مختار ادار ہ ہے۔ اس کے قاعدے قوانین میں تبدیلی کے لئے بھی قانونی حدود میں رہ کر ہی کام کرنا ہے اور یہ پروجیکٹ اس سلسلے کی ایک کڑی تھا۔
جیسے جیسے میں اس پروجیکٹ کی ویب سائٹ پر کام کرتا گیا، مجھے پرو جیکٹ انچارج کی باتوں میں پنہاں حقیقت کی گہرائیوں کا اندازہ ہوتا گیا۔


ڈاکٹروں کی زبوں حالی کااندازہ مجھے اس طرح ہوا جب ا یک دن ایک بزرگوار آفس کا دروازہ کھول کر سیدھے میرے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ شکل صور ت اور لباس سے بہت معقول شخصیت لگ رہے تھے، لیکن ا ن کے چہرے پر کافی وحشت تھی ۔ انہوں نے کاندھے پر پرانے زمانے کا سیاہ رنگ کا ایک ٹیلیفون ریسیو ر اٹکا رکھا تھا۔ انکی باتوں میں بھی کوئی ربط نہیں تھا اور میں صرف یہ سمجھ سکا کہ وہ ڈاکٹر ہیں۔

ڈاکٹر کا لفظ سن کر میں ان کو ڈاکڑوں کے پروجیکٹ انچارج کے پاس لے گیا۔بعد میں مجھے یہ پتہ چلا کہ یہ ایک امیگرینٹ ڈاکٹر ہیں گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی ذہنی حالت بھی دگرگوں ہے، ہو سکتاہے اس کی کچھ ذاتی وجوہات ہوں لیکن میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ شائید یہ سب کچھ بے روزگاری کے سبب ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو میں نے ڈاکٹرز کے پروجیکٹ پرمزیدتندہی سے کام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

میرے حساب سے کمیونٹی طرف سے بھی مجھے یہ ذمہ داری نبھانی تھی۔
دفتر کا ماحول بہت دوستانہ تھا۔اگر کوئی شخص باہر کافی پینے جاتا تو سب سے پوچھ لیتاتھا۔ خواہش مند افراد اپنا آرڈر اور پیسے اسے پکڑا دیتے ۔بعض دفعہ خود سے بھی کوئی آفر کر دیتا کہ آج کی کافی اس کی طرف سے۔کسی کے ساتھ کوئی تخصیص نہیں، ای ڈی بھی نہیں کہ اس غیر رسمی کافی کلب کا یہی اصول تھا۔


یہ سب کچھ صحیح تھا ،لیکن مجھے جس بات کی فکر تھی وہ تھی تنخواہ ۔ مہینہ ختم ہونے کو آرہا تھا لیکن تنخواہ سے متعلق لکھاپڑھی کے کوئی آثار لگ نہیں رہے تھے۔
 یہاں حاضری کا رجسٹر بھی نہیں تھا جس پر لوگ روزانہ حاضری لگائیں۔ آفس میں بھی کوئی شخص اکاؤنٹنگ کرتا نہیں نظر آتا تھا ۔ابھی تک کسی نے میرا بینک اکاؤنٹ نمبر تک نہیں پوچھا تھا ،اگر یہ تنخواہ جمع کرائیں گے تو کہاں کرائیں گے۔

میری الجھن اپنی جگہ بہت حقیقی تھی۔ بات کروں تو کس سے کروں؟
آج میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ ایک صاحب میری ڈیسک پر آئے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ یہاں کے پارٹ ٹائم اکاؤنٹنٹ ہیں۔ معذرت کر نے لگے نہ ان کو پچھلے ہفتہ آ جانا چاہئے تھا مگر وہ بیماری کے سبب نہ سکے۔ میں نے دل میں سوچا دیر آئید درست آئید۔
انہوں نے میرا سوشل انشورنس نمبر لیا، ملازمت کے خط کی کاپی لی اور میرے بینک اکاوئنٹ کی مکمل معلومات لیں۔

پھر پوچھنے لگے
" کیا آپ کا کوئی ریٹائرمنٹ سیونگ کا کھاتہ کھلا ہوا ہے؟
"کیا آپ رجسٹرڈ ریٹائرمنٹ سیونگ پلان یعنی آر آر ایس پی کی بات کر رہے ہیں؟ ابھی تک تو نہیں ہے" میں نے جواب دیا۔ کھاتا تو اس وقت کھولتا جب کوئی مستقل نوکری ہوتی۔ اتنے عرصے میں پہل دفعہ تو مستقل نوکری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ میں نے دل میں سوچا
"میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر ابھی تک نہیں ہے تو اب اس کا کھاتہ کھول لیں۔

ایک سو پچاس ڈالر تک اس کھاتہ میں آپ جوذاتی رقم ڈالیں گے، ادارہ بھی اتنی رقم آپ طرف سے ڈال دے گا۔گویا اگر ایک سو پچاس آپ کے تو ادارہ کی طرف سے بھی ایک سو پچاس اور یوں آپ کے حساب میں ہر ماہ تین سو ڈالر کی بچت"
بات معقول تھی، میرا خیال تھا کہ میں موجودہ صورتِ حال میں ایک سو پچاس ڈالر ماہانہ کی بچت تو کر ہی سکتا ہوں، میں نے فوراً ہا ں کر دی۔
اکاؤنٹنٹ صاحب اٹھ کر گئے تو میں نے تہہ دل سے اللہ کا شکریہ ادا کیا اور اپنی بے صبری پر خود کو لعن طعن کی۔ اس بات کا بھی شکر اد ا کیا کہ میں نے جلد بازی میں خود سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
اگلے ہفتے بنک میں میری تنخواہ آ گئی اور ای میل کے ساتھ اس کی اطلاع بھی۔ یوں تنخواہ اور ماہانہ بچت کا معاملہ رواں ہو گیا ۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر37

قسط نمبر38

قسط نمبر39

قسط نمبر40

قسط نمبر41

قسط نمبر42

قسط نمبر43

قسط نمبر44

قسط نمبر45

قسط نمبر46

قسط نمبر47

قسط نمبر48

قسط نمبر49

قسط نمبر50

قسط نمبر51

قسط نمبر52

قسط نمبر53

قسط نمبر54

قسط نمبر55

قسط نمبر56

آخری قسط