عمران اسماعیل گورنر ہائوس کے نئے مکین

عام انتخابات کی شب جب گورنر عمران اسمٰعیل مسلم لیگ(ن) کے جذباتی گورنر محمد زبیر سے گورنرہائوس خالی کرنے کامطالبہ کررہے تھے تو کسی کے وہم وگمان میں نہ تھا کہ وہ خود گورنر ہائوس کے مکین بن جائیں گے۔

ہفتہ ستمبر

Imran ismael governor house ke naye makeen
شہزاد چغتائی
عام انتخابات کی شب جب گورنر عمران اسمٰعیل مسلم لیگ(ن) کے جذباتی گورنر محمد زبیر سے گورنرہائوس خالی کرنے کامطالبہ کررہے تھے تو کسی کے وہم وگمان میں نہ تھا کہ وہ خود گورنر ہائوس کے مکین بن جائیں گے۔ پیر کو انہوں نے سندھ کے 33ویں گورنر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا اورفرائض کی انجام دہی شروع کردی۔گورنر سندھ کے لئے سب سے پہلا نام تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل نعیم الحق کا آیا تھا‘ لیکن عمران اسماعیل نے ان کا پتہ کاٹ دیا اور حلف اٹھانے سے پہلے اپنی تعلیمی اسنادکے حوالے سے خودہی متنازعہ بن گئے۔

مسلم لیگ (ن) نے دوراقتدار میں 5 سال مکمل کئے‘ لیکن مسلم لیگ (ن) کے دورمیں ڈاکٹر عشرت العباد نے گورنر کی حیثیت سے زیادہ وقت گزارا۔

(جاری ہے)

عشرت العباد کے بعد جسٹس سعید الزماں صدیقی مرحوم اور محمد زبیر گورنر رہے۔ مسلم لیگ (ن) کے دوسرے دور میں ممنون حسین بھی گورنر رہے جو کہ اس وقت صدر ہیں۔ سندھ میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی دوسری اور عمران اسماعیل کی پہلی اننگزہے۔

سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ بھی دوبار وزیراعلیٰ رہے ہیں۔ ان دنوں کراچی سے اسلام آباد تک تبدیلی کا بڑا چرچا ہے۔ سندھ میں تو تمام پرانے چہرے دوبارہ آگئے لیکن یہ تبدیلی آئی کہ سابق ڈپٹی اسپیکر شہلارضا کی جگہ ریحانہ لغاری ڈپٹی اسپیکر بن گئیں۔ شہلارضا نے وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔ زیادہ وزراء مشیر پرانے ہیں‘ ویسے تبدیلی تو وفاق میں نہیں آسکی۔

حکومت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ہفتہ میں دو دن کی چھٹی ختم کرسکے۔ وفاقی کابینہ نے تین گھنٹے تک غوروخوص کے بعد ہفتہ میں دو چھٹیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح پاکستان میں اسٹیٹس کُو برقرار ہے اور تبدیلی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ گورنر کے حلف اٹھانے سے بہت پہلے سندھ کابینہ نے حلف اٹھایا تھا۔ کابینہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی تھی اور اس کی منظوری پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دی تھی جو کہ جمہوریت کی نفی تھی اور اس بات کی غماز تھی کہ پاکستان کا جمہوری نظام منتخب نمائندوں کے پاس نہیں۔

کم از کم سندھ میں منتخب نمائندے نہیں بلکہ آصف زرداری خاندانی حکمراںہیں۔ تمام منتخب نمائندے اس خاندان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ مراد علی شاہ کابینہ میں اپنی پسند کاایک وزیر نہیں لے سکتے کہنے کو وزیراعلیٰ ہیں۔
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری جب صدر تھے تو بار بار کراچی آکر طویل قیام کرتے تھے جس پر بڑی لے دے ہوتی تھی افسانے بنتے تھے۔

اخباروں میں یہ خبریں آتی تھیں کہ پیر نے ان کو سمندر کے نزدیک رہنے کی ہدایت کی ہے۔کراچی میں سمندر بلاول ہائوس سے چند قدم کے فاصلے پر ہے پیر کا خیال تھا کہ سمندر کے نزدیک رہنے بسنے سے آصف علی زرداری کو کوئی گرنذ نہیں پہنچاسکے گا خاص طورپر حکومت کے آخری دور میں آصف زرداری کراچی میں بہت طویل قیام کرتے تھے اب وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ خبریں شائع ہورہی ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

لیکن کوئی ان کو سمندر کے نزدیک آ کررہنے کا مشورہ نہیں دے رہا سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ عمران خان مزار قائد پر حاضری دینے کیوں نہیں آئے۔شاید ان کو کراچی جانے سے کسی نے منع کیا ہے ایک صحافی نے جب نامزد صدر عارف علوی کی توجہ اس جانب دلائی اورکہا کہ وہ عمران خان سے کہیں کہ وہ مزار قائد پر جائیں تو عمران خان کو قائل کرنے کے بجائے عارف علوی خود بغیر پروٹوکول کے مزار قائد پہنچ گئے اس روز انہوں نے صدارتی الیکشن کیلئے ہائی کورٹ جاکر کاغذا ت نامزدگی جمع کرادیئے پیر کو نامزد صدر کی مصروفیات بہت زیادہ تھیں۔

وہ کئی سیاسی جماعتوں کے دفاتر پرووٹ مانگنے پہنچ گئے ۔ ایم کیو ایم نے عارف علوی کی حمایت کا اعلان پہلے ہی کردیا تھا۔ پیر کو گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے سربراہ اور فنکشنل مسلم لیگ سربراہ پیر پگارا نے بھی تحریک انصاف کے امیدوار کے حق میں فیصلہ سنادیا۔ دوسری جانب اعتزاز احسن اورمولانا فضل الرحمن کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد عارف علوی نے سکون کا سانس لیا۔

سندھ کے گورنر عمران اسمٰعیل اسمبلی کی رکنیت سے مستعفیٰ ہوگئے لیکن گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی حلف برداری 4ستمبر کو صدارتی الیکشن تک ملتوی کردی گئی۔ وہ عارف علوی کو سینیٹ میں ووٹ ڈالنے کے بعد مستعفیٰ ہوں گے اورپھر حلف اٹھائیں گے۔شاید مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی دونوں چاہتی تھیں کہ عارف علوی صدر بن جائیں کیونکہ دونوں جماعتوں کے بعض رہنمائوں نے نجی گفتگو میں کہا تھا کہ فلاں کے صدر بن جانے سے بہتر ہے کہ عارف علوی صدر بن جائیں اس موقع پرپیپلز پارٹی نے 11مارچ 2018 کو اسٹیٹج کیا جانے والا ڈرامہ دہرایا اور مسلم لیگ کی سفارش پر رضا ربانی اوریوسف رضا گیلانی کو صدارتی امیدوار نامزد کرنے سے انکارکردیا۔

حیرت ناک بات یہ ہے کہ جب یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم کی حیثیت سے سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا تو عدالتی فیصلے کو مسلم لیگ (ن) کی فتح قرار دیا تھا اوریوسف رضا گیلانی نے فیصلے کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھاکہ یہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ شریف کورٹ ہے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اس فیصلے کو پیپلز پارٹی نے تسلیم کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ (ن) کے درمیان تلخی بہت بڑھ گئی تھی ۔

10سال قبل وکلاء کی تحریک کے دوران اعتزاز احسن مسلم لیگ(ن) کے ہیرو تھے اب ولن کیسے بن گئے۔ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور اعتزاز احسن ایک ہی گاڑی میں تھے جب اچانک جنرل کیانی نے اعتزا زاحسن کو فون کرکے عدلیہ کی بحالی کا مژدہ سنایا تھا ۔کراچی میں بہ باتیں ہورہی ہیں کہ صدارتی الیکشن کیلئے متحدہ اپوزیشن کے نمبر پورے نہیں تھے۔

اگرپورے ہوتے توآصف علی زرداری امیدوار ہوتے۔ لیکن یہ سوال موجود ہے کہ کیا مسلم لیگ(ن) آصف علی زرداری کو صدر بناتی؟ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اورمریم نواز تو صدارتی الیکشن لڑنے میں سنجیدہ نہیں تھے۔ انہوں نے بہت پہلے مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کو کہہ دیا تھا کہ آپ خاموشی سے ا پوزیشن میں بیٹھیں عمران خان کو حکومت کرنے دیں اور تماشہ دیکھیں۔

10سال پہلے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا تھا۔ سیاسی حلقوں کے مطابق ستمبر2008 میں جب وہ باآسانی صدر بن گئے تو یہ جنرل کیانی کی مہربانی تھی اب ان پر اتنا بُرا وقت آیا کہ پرویز مشرف جیسے طاقتورحکمراں کو فارغ کرنے والے آصف علی زرداری عارف علوی جیسے بے ضرر سیاستداں کا راستہ نہیں روک سکے اوربے بس دکھائی دیئے۔اب سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ سیاسی سائنسدان آصف علی زرداری کو سیاست میں پی ایچ ڈی کی ڈگری جنرل کیانی نے تفویض کی تھی جس کو اب کوئی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Imran ismael governor house ke naye makeen is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 01 September 2018 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.