اسلام میں اسراف کی ممانعت

اتوار نومبر

Sadiq Anwar Mian

صادق انور میاں

”اسراف“اپنے وسیع معنی کہ لحاظ سے ہر قسم کے کام میں تجاوز کا مفہوم رکھتا ہے لیکن عام طو ر پر اخراجات میں حد سے تجاوز کے لیے بولا جاتا ہے۔قرآن میں اسراف کی بہت ممانعت کی گئ ھے اور معاشرے پر اس کے بُر ے اثرات کو بھی بیان کیا گیا ھے ۔ واضع رہے کہ اسراف ہر قسم کی فضول خرچی کو کہا گیا ھے نہ کہ راہ خدا میں بندگان خدا میں سے محتاجوں اور مسکینوں کی امداد میں سخاوت کرنے کی کوئ ممانعت ہوئی ہے۔

خود آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اسراف کنجوسی اور تنگی کا متضاد ہے ۔
کوئی شک نہیں کہ فرعون روئے زمین پر بڑا بن بیٹاٹھاتھا اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ مسرفین میں سے تھا ۔
 قرآن میں مسرفین کو شیطان کا بھائی اور ہمنشین شمار کیاگیا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ کرہٴ ارض میں موجود نعمتیں اس میں رہنے والوں کے لیے کافی و وافی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انہیں بے ہودہ اور فضول استعمال نہ کیا جائے بلکہ صحیح اور معقول طریقے سے ہر قسم کی افراط وتفریط سے بچ کران سے استفادہ کیا جائے ورنہ یہ نعمتیں اس قدر غیر محدود بھی نہیں کہ ان کے استعمال کے مہلک نتائج نہ نکلیں ۔

(جاری ہے)


 افسوس کا مقام ہے کہ اکثر اوقات زمین کے ایک علاقے میں اسراف اور فضول خرچی کے باعث دوسرا علاقہ محرومیت کا شکار ہوجاتا ہے یاایک زمانے کے لوگوں کا اسراف آیندہ نسلوں محرومیت کا باعث بن جاتاہے ۔
 یہ بات بھی قابل غور ھے کہ جس زمانے میں آج کے دَور کی طرح لوگوں کے پاس آبادی کے اعداد وشمار مو جود نہ تھے ، اسلام نے خبر دار کیا تھا کہ خدائی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اسراف اور فضول خرچی نہ کرو۔


 ہوسکتا ہے یہ کام انسان کو دنیا میں بلند مرتبہ کردے لیکن آخرت میں وہ یقینا پست وحقیر ہوگا ۔ہو سکتا ہے عام لوگوں کی نظر میں اسے عزت واکرام حاصل ہو جائے مگر بارگاہ الٰہی میں یہ کام انسان کی تنزلی اور سقوط کا سبب ہے۔ احکام اسلامی میں اسراف اور تبذیر کی اس قدر ممانعت کی گئی ہے کہ وضوکے لیے زیادہ پانی ڈالنے سے بھی منع کیا گیا ہے اگرچہ وضو کرنے والا لب دریا ہی کیوں نہ بیٹھا ہو ۔


 عصر حاضر کے انسان نے بزھتی ھوئ آبادی کے پیش نظر اسراف کے نقصانات کو محسوس کیا ہے
حال ہی میں لاہورمیں ہونیوالی پاکستان کی مہنگی ترین شادی کی گئ ہے ۔ ماسٹر ٹائلزلمٹیڈ کے ڈائریکٹر شیخ محمد اقبال کی بیٹی اور جلال سنزکے مالک کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں مبینہ طور پر دو ارب روپے خرچ کئے گئے۔
شادی کی تقریب کےلئے روزا بلانکا کنٹری کلب 120 روز کےلئے بک کیا گیا ،کلب کو 15 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی، تقریب ولیمہ بحریہ گرینڈ ہوٹل میں منعقد کی گئی ،بحریہ گرینڈ ہوٹل میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا  ،راحت فتح علی خان کو 55 لاکھ روپے اورعاطف اسلم کو 50 لاکھ روپے کی ادائیگی کئے گئے۔


 ایک اندازے کے مطابق کے ایس ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کو ڈیڑھ سے دو کروڑروپے،آتش بازی کےلئے وہیمسیکا پارٹیز کو ایک کروڑ روپے،ڈیکوریشن کےلئے قاسم یارٹوانہ کو ڈیڑھ سے دو کروڑروپے اوراحسن حبیب کو ایک کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی،فوٹو گرافی کےلئے عرفان احسان کو30 لاکھ روپے، مبین سٹوڈیوز کو 20 لاکھ روپے ، مغل شاٹس کو 35 لاکھ اوراحمد فیاض فوٹو گرافرکو 10 لاکھ روپے اداکئے گئے۔


دو ارب روپے میں کتنی غریبوں کی شادیاں کی جاسکتی تھی ۔دو ارب میں کتنے خاندان مل سکتے تھے ۔دو ارب میں کتنی بہنوں کی زندگی میں بہار انی تھی ۔دو ارب میں کتنے خاندان ایک دوسرے کے اپنے ہوجاتے تھے ۔لیکن افسوس ہمیں یہ احساسات کب ہیں ۔جب بھی ہمارے معاشرے میں یہ احساس پیدا کیا گیا کہ ہم غلط راستے پر ہے ۔تو میرے خیال سے ہماری زندگی میں کافی مشکلات حل ہوسکتے ہیں ۔اللہ ہم سب کو اسراف جیسے گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Islam Main Asraf Ki Mumaniyat Column By Sadiq Anwar Mian, the column was published on 22 November 2020. Sadiq Anwar Mian has written 13 columns on Urdu Point. Read all columns written by Sadiq Anwar Mian on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.