کس چیز کا مارشل لاء،

کس نے لگانا اور کس نے لگانے دینا ہے کس میں ہمت ہے مارشل لا ء لگائے‘ چیف جسٹس پاکستان

ہفتہ اپریل 16:02

کس چیز کا مارشل لاء،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک بار پھر جوڈیشل مارشل لاء کو بعض ذہنوں کی اختراع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کس چیز کا مارشل لاء، کس نے لگانا ہے اور کس نے لگانے دینا ہے ،کس میں ہمت ہے مارشل لا ء لگائی کسی کا دبائو قبول نہیں کریں گے ،ملک میں قائد اعظم اور علامہ اقبال کے تصور کے مطابق جمہوریت رہے گی ، پہلے صرف اپنا کہتا تھا لیکن اب عندیہ اورپیغام ہے اگر شب خون مارا گیا تو سپریم کورٹ کے 17 ججز نہیں ہوں گے، یہ 17 ججز مارشل لاء نہیں لگنے دیں گے ،ْجس دن محسوس کیا قوم کی سپورٹ حاصل نہیں اس دن پھر مجھے یہاں مزید کام نہیں کرنا ،امتیازی کلچر کو ختم کرنا ہوگا، عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، کیا وہ پوری کی گئی ، یہ میری ڈیوٹی ہے اور اس پر پرفارم کرنے کو تیار ہوں، اس میں میری مدد کریں اگر فیل ہوجائوں تو اپنے آپ کو ساری زندگی معاف نہیں کر پائوں گا، میں اپنی ذات پر لعنت بھیجتا ہوں میرا اپنا وجود کچھ نہیں میں کوئی عوامی چیف جسٹس نہیںبلکہ ملک او رقوم کا چیف جسٹس ہوں ،،ووٹ کی قدر اور عظمت کی بات کی جاتی ہے تو لوگوں خدمت کریںانہیں وہ حق دیں جو انہیں آئین نے دیا ہے ۔

(جاری ہے)

وہ ہفتہ کو مرکزیہ مجلس اقبال کے زیر اہتمام ایوان اقبال کمپلیکس میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ؒ کی برسی کی مناسبت سے خصوصی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ تقریب میںسینئر صحافی ضیاء شاہد،عارف نظامی ،سجاد میر ،،حامد میر ،سلمان غنی ،احمد جاوید ، بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بد نصیب ہیں وہ لوگ جن کا اپنا ملک نہیں ہوتا ۔

اتفاق سے گزشتہ رات ایک کتاب موصول ہوئی جس کا سرورق پڑھا، ایک فیملی بھارت سے پاکستان آرہی تھی تو صرف ایک بچی زندہ بچ گئی، اس بچی کانام کنیز تھا،مجھے جو کتاب موصول ہوئی وہ اسی نے لکھی تھی، اس بچی کنیز نے کتاب میں پاکستان حاصل کرنے کی جدوجہدبیان کی۔۔علامہ اقبال او رقائد اعظم کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی کی وجہ سے ہمیں پاکستان کی صورت میں تحفہ مل گیا لیکن اس کی اتنی بے قدری ،کوئی اپنے ملک ،دھرتی ماں کی اتنی بے قدرتی کرتا ہے ۔

اپنی ذاتی خواہشات ، مفادات ، اپنی تشہیر اور ذاتی دولت پر اسے قربان کر دیا گیا ۔ہم نے علامہ اقبال کے خواب کو چکنا چور کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میری نظر میں سب سے اہم چیز تعلیم ہے، آج بہت سے قومیں تعلیم کی وجہ سے ترقی کے مینار قائم کر رہی ہیں ۔۔تعلیم سے متعلق کسی چیز پر سمجھوتا نہیں کروں گا، قوم کی بقا ء کیلئے تعلیم بہت ضروری ہے، کیا ہم نے ایسے موقع پیدا کیے جو بچہ ڈاکٹر بن کے ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہے اسے بلا سفارش یا ایسا تعلیمی نظام میسر ہو جہاں جاکر وہ تعلیم حاصل کرسکے۔

حکومت کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کی 80کنال اراضی مانگی جارہی ہے ، کیا کرنا ہے اس پر گرڈ اسٹیشن تعمیر ہونا ہے ۔ تعلیم کو فروغ دینے کی بجائے اسے تباہ کیا جارہا ہے ۔ ہم امتیازی کلچر کو ختم کریں گے۔ ایک بستہ ، ایک سکول، ایک یونیفارم ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ عوام کے بنیادی حقوق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں،پاپولر ازم پر لعنت ہے ۔

تعلیم سے بچوں کا مقدر ہے اور اسی کے ذریعے یہ خود کفیل ہو سکیں گے او راپنا روز گار کما سکیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا یہ عالم ہے، بلوچستان میں 6 ہزار پرائمری سکول پانی اور بیت الخلا ء کے بغیر چل رہے ہیں ، بچیاں حاجت کے لیے فصلوں میں جاتی ہیں، پینے کے لئے پانی میسر نہیں ، پنجاب میں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے، خیبر پختوانخواہ گیا جہاں مجھے بتایا گیا وہاں بہت سے سکول ہیں جہاں پانی اور چار دیوار نہیں ہوسکی، یہ کون دے گا ہمارا ٹیکس کا پیسہ تعلیم پر خرچ نہیں ہوتا تو کہاں ہوتا ہے۔

یہ میری قوم اور میری نسلوں کا حق ہے انہیں تعلیم چاہیے ،جو والدین اپنے بچوں کو تعلیم دینے میں کوتاہی کررہے ہیں وہ مجرم ہیں۔ انہوںنے کہا کہ پہلے اپنے اوپر وہ کیفیت طاری کریں جس میں قوم کی خدمت کا جذبہ ہو، بنیادی حقوق دینے کا جذبہ ہو۔جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ امتیازی کلچر کو ختم کرنا ہوگا، بنیادی حقوق کی ذمہ داری کس کی ہے، کیا وہ پوری کی گئی، یہ میری ڈیوٹی ہے اور اس پر پرفارم کرنے کو تیار ہوں، اس میں میری مدد کریں اگر فیل ہوجائوں تو اپنے آپ کو ساری زندگی معاف نہیں کر پائوں گا۔

اینکرز پرسن بھی تعلیم کے معاملے پر پروگرام کریں ۔۔چیف جسٹس کا کہناتھاکہ انسان کی زندگی بہت نایاب اور قیمتی ہے، ہم کیڑے مکوڑے نہیں، کیا یہ زندگی بے چارگی، ماریںکھانے، کسمپرسی اور ناجائز قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لیے ہے ، زندگی بولنے کے لیے ہے لیکن جب کوئی بولنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بولنے نہیں دیا جاتا۔زندگی صحت کے ساتھ جڑی ہوئی، جس ہسپتال میں گیا وہاں ایم آر آئی مشین نہیں، سی سی یو نہیں، کہیں الٹرا سائونڈ مشین نہیں ، خیبرپختونخوا ہ میں الٹرا سائونڈ کرنے کے لیے لیڈی ڈاکٹر کی ضرورت ہے، کیا یہ رائٹ ٹو لائف ہی 1300 دوائیاں جو ہسپتال میں مفت تقسیم کی جانی چاہئیں ان کی ٹیسٹنگ التواء کا شکار رہی ۔

سربراہ کی تنخواہ سات لاکھ ہے ، اس کے نیچے ساڑھے تین لاکھ کا سیلری پیکج ہے ۔ جب میں نے پوچھا تو بتایا گیا کہ 1300ادویات کی ٹیسٹنگ التواء میں ہے ،اس کے لئے کچھ وقت دیا تو 1300میں سے 1170ٹیسٹ ہو گئی ہیں اور باقی کی ٹیسٹنگ کے لئے مزید دن مانگے گئے ہیں ۔ یہ کس کی ذمہ داری ہے ۔جس ووٹ کی قدر اور عزت کے لیے فرماتے ہیں اس کی عزت یہ ہے کہ لوگوں کی عزت کریں ، ان کی خدمت کریں ان کو وہ حق دیں جو آئین نے ان کو فراہم کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ مکمل آزاد اور غیر جانبدار ہے ، میرا وعدہ ہے ہم کسی کا دبا ئوقبول نہیں کریں گے، سن کر حیرت ہوتی ہے کہ مارشل لا ء آرہا ہے، کون لگا رہا ہے مارشل لا کس نے لگانے دینا ہی کس میں ہمت ہی یہ ملک صرف جمہوری ہے، قائداعظم اور علامہ اقبال کا تصور جمہوریت تھی اور ملک میں صرف جمہوریت رہے گی۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پہلے میں نے کہاکہ اگر ایسا ہوا تومیں نہیں ہوں گا لیکن میرا عندیہ اوور پیغام ہے کہ جس دن شب خون مارا گیا تو سپریم کورٹ کے 17 ججز نہیں ہوں گے، یہ 17 ججز مارشل لا نہیں لگنے دیں گے ، کسی جوڈیشل مارشل لا کا تصور نہ ذہن نہ آئین میں ہے یہ کسی کے دل کی خواہش یا اختراع ہوسکتی ہے، کیوں لوگوں کو اضطراب میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے، ماورائے آئین کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم کے تعاون سے ان کے حقوق کے لیے لڑرہے ہیں، جس دن محسوس کیا اس حیثیت اور طاقت میں نہیں رہے، سمجھ آئی قوم سپورٹ نہیں کررہی تو مزید کام نہیں کریں گے۔۔چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ ہر عدالت میں جارہا ہوں، دیکھ رہے ہیں کیسے کارکردگی ہے، یہاں کوئی وضاحت دینے کے لیے نہیں آیا، کسی ذمہ داری سے اپنے آپ کو نہیں چھڑانا چاہتا، لیکن کیا انصاف کرنا عدلیہ کی ہی ذمہ داری ہے، ہر جس ادارے میں بے انصافی ہو ان کی ڈیوٹی ہے وہاں انصاف کریں کیونکہ جتنے لوگوں کے حقوق مارے جائیں گے اتنے ہی لوگ عدالت میں آئیں گے۔

قانون جدید تقاضوں کے تحت ہوتا ہے ،آج بھی پچھلی صدی کے قانون ہیں ،وہ قانون بدل دیں، کیا مقننہ نے اس بارے میں کوئی کام کیا، سندھ میں پولیس لا ء 1861 کا ہے، میرے پاس کوئی وسائل نہیں کہ ججز کی تعداد بڑھائوں یا بلڈنگ بنائوں، مجھے وسائل دیں۔اس ملک میں اوربھی ادارے ہیں ،کیا انصاف دیناسب کی ذمہ داری ہے، مجھے معلوم ہے، اس وقت کتنے ججز کے پاس کتنے کیسز زیر التوا ہیں، بڑے بھائی کی حیثیت سے منتیں کررہاہوں کیسز کو جلد نمٹائیں، لیکن انصاف کمپیوٹر سے نہیں عقل سے ہوناہے۔

ہم نے جس قانون کے مطابق انصاف دیناہے کیا اس پر توجہ دی گئی ۔انہوں نے کہاکہ ہم پر الزام ہے عام کیسز کو ڈیل نہیں کررہے، ہم عام کیسز کو ڈیل کررہے ہیں، اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کررہا ہے، اپنی ذات پر لعنت بھیجتا ہوں، میں کوئی عوامی چیف جسٹس نہیں، میں اس ملک اور قوم کا چیف جسٹس ہوں۔کسی صوبے کی بات نہیں کررہا، اپنی مرضی سے وائس چانسلر لگادیا جاتا ہے، کسی جگہ ڈھائی سال سے وائس چانسلر نہیں لگا کسی جگہ تین ماہ سے نہیں لگا، میرٹ کا کوئی تعلق نہیں ، سنیارٹی کو مد نظر نہیں رکھا جاتا، یہ وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے، اگر کام ٹھیک ہوں تو عدالتوں پر بوجھ نہیں آئے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کی فراہمی کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔میں کوئی عوامی چیف جسٹس نہیں ،میں پاکستان کا چیف جسٹس ہوں ، مجھے پاکستانی قوم کے چیف جسٹس کے طور پر فیصلے کرنے ہیں ۔