احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سوالنامے پر اعتراض کے باعث سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) محمد صفد کا بیان قلمبند نہ ہوسکا

عدالت نے خواجہ حارث کی مزید وقت دینے کی استدعا منظور کرلی، یہ آخری موقع دے رہے ہیں، پیر کو ملزمان کے بیانات قلمبند ہونگے، جج محمد بشیر

جمعہ مئی 15:10

احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سوالنامے پر اعتراض کے باعث سابق ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سوالنامے پر اعتراض کے باعث سابق وزیراعظم محمد نواز شریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن(ر) محمد صفد کا بیان قلمبند نہ ہوسکا۔ عدالت نے خواجہ حارث کی مزید وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ آخری موقع دے رہے ہیں، پیر کو ملزمان کے بیانات قلمبند ہونگے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے جمعہ کو ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی تو سابق وزیراعظم محمد نواز شریف،، مریم نواز اور کپیٹن (ر) محمد صفدر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ فاضل عدالت نے 16 مئی کو ہونے والی سماعت کے دوران محمد نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے بیانات جمعہ (18 مئی) کو ریکارڈ کرنے کا فیصلہ سنایا تھا اور تینوں ملزمان کو 127 سوالات پر مشتمل سوالنامے دے دیئے گئے تھے۔

(جاری ہے)

سماعت کے آغاز پر وکیل صفائی خواجہ حارث نے سوالنامے پر اعتراض کر تے ہوئے کہا کہ کچھ سوالات میں درستگی کرنی ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ وکیل صفائی خواجہ حارث عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں، ہم تعاون کر رہے ہیں لیکن وکیل صفائی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہم تو سوالنامہ بھی دینے کو تیار نہ تھے، لیکن عدالت نے ان کی سہولت کے لیے سوالنامہ تک انہیں دے دیا۔

جج محمد بشیر نے کہا کہ یہ آخری چانس ہے، پیر کو ملزمان کے بیانات قلمبند ہوں گے۔ جس کے بعد ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت پیر (21 مئی) تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ واضح رہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کے گواہ تھے اور وہ اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں وکیل صفائی خواجہ حارث کی جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح جاری ہے، جس کی آئندہ سماعت منگل 22 مئی کو ہوگی۔