پریکٹس ضرور کر لیں !

منگل جنوری

Irshad Bhatti

ارشاد بھٹی

خیال تھا کہ موسمی بخار ہے ‘موسم بدلے گا تو اُتر جائے گا،لیکن جب ایک صاحب ِ علم کا کالم ”نواز شریف کی تاریخ ساز مزاحمت “ نظر سے گذرا ، جب ایک جہاندیدہ، چشم گزیدہ بزرگ کے قلم نے میاں صاحب کو ملک کا نایاب اثاثہ قرار دیدیااورجب چند حریت پسند مسلسل یہ ڈھول پیٹتے پائے گئے کہ میاں صاحب نظریاتی اورمزاحمتی ہو چکے تب پتا چلا کہ یہ موسمی بخار نہیں ،یہ تو لا علاج بیماری، وہ بیماری جس میں عقیدت ،بصیرت پر بھاری پڑ جائے ، تبھی تو دوست کالم نگار نے تاریخ کا لحاظ کیا اور نہ تاریخ ساز مزاحمت کا، محترم بزرگ نے لفظ نایاب کا حلیہ بگاڑ کر اثاثے کا بھی ککھ نہ چھوڑا اور الیکٹرانک میڈیا کے حریت پسند تو یہ بھی بھلا بیٹھے کہ جو بندہ 67سال کی عمر تک نظریاتی نہ ہوا وہ بھلا چند ماہ میں کیسے نظریاتی ہو سکے ،گو کہ بیماری خطرناک ، مریض بھی آمادہ علاج نہیں ، مگر پھر بھی نظریاتی اور مزاحمتی فلم کی دو چار جھلکیاں دکھارہا، کیا پتا کسی کو چندلمحوں کا افاقہ ہی ہو جائے ،میاں صاحب کی مارشل لا ء میں جم پال کو نظر انداز کر کے بات آگے بڑھاتے ہیں ، اگر میاں صاحب نظریاتی اورمزا حمتی ہوتے تو جب ضیاء نے جونیجو حکومت برطرف کی تب نگران وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی بجائے وہ اپنے برطرف وزیراعظم جونیجو کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ، اگریہ نظریاتی اور مزاحمتی ہوتے تو اقتدار کیلئے آئی جے آئی کی سیڑھی استعمال نہ کرتے ، صدر لغاری سے مل کر بی بی کا دھڑن تختہ نہ کرتے ، چھانگا مانگا نہ ہوتا، سپریم کورٹ حملے سے بچ جاتی اور وہ ایک جمہوری حکومت کیخلاف عدالت نہ جاتے ، ا گر یہ نظریاتی اور مزا حمتی ہوتے تو ڈیل ہوتی اور نہ یہ سرور پیلس کے مکین بنتے،اگر یہ نظریاتی اور مزاحمتی ہوتے تو دباوٴ پڑنے پر مشاہد اللہ کو فارغ نہ کرتے ، خود فارغ ہو جاتے (یہ علیحدہ بات کہ مشاہد اللہ نے وہ نظریاتی اور مزا حمتی انٹرویو کس کے کہنے پر اور کیوں دیا ) ، اگریہ نظریاتی اور مزاحمتی ہوتے تو پریشر آنے پر ڈان لیکس کی قربان گاہ پر پرویز رشید اور طارق فاطمی کو قربان کرنے کی بجائے خودکو پیش کرتے (یہ بھی الگ بحث کہ نظریاتی اور مز ا حمتی لیکس کیسے،کیوں اور کس نے کروائیں ) اور اگر میاں صاحب نظریاتی اور مزاحمتی ہوتے تو یہ دہائیاں نہ ڈالتے کہ ” سازشیں نہ رُکیں تو پچھلے چار سا ل میں پسِ پردہ ہوئی سب کارروائیاں بے نقاب کر دوں گا“ کیونکہ وہ تو چار سالوں کے خود بااختیار وزیراعظم، کسی کی کیاجرأت کہ ایک نظریاتی اور مزاحمتی وزیراعظم کے سامنے پر مارسکے لیکن چلو مان لیا کہ کچھ ہوا تھا تو نظریاتی اور مزاحمتی نے تب سازشوں اور سازشیوں کو بے نقاب کیوں نہ کیا، اگر اس وقت ملک وقوم کی بہتری کیلئے ہونٹ سی لیئے تو اب یہ واویلا کیوں ‘ کیونکہ ” بھیڑے رون نالوں چپ چنگی‘ ‘ لیکن چلو یہ بھی مان لیا کہ چار سال سے سویا نظریہ اب جاگا، یہ پہلے نہیں اب مزاحمتی ہوئے تو پھر سب کچھ ثبوتوں کے ساتھ اُس عوامی عدالت میں پیش کیوں نہیں کر رہے جس عوامی عدالت کی یہ روزبات کریں مگر چونکہ نہ ایسا ہے اور نہ یہ ہوگا ۔

(جاری ہے)


ویسے تو بچوں کے انٹرویوز،3تقریروں ‘ ایک قطری خط، 5سو صفحات کے فیصلے اور” اگر میرے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ تو تمہیں اس سے کیا “ نظریئے اور مزاحمت کی اصلیت بتا نے کیلئے کافی لیکن ایک ٹریلر اور بھی ملاحظہ کرلیں، ایک طرف ٹی وی انٹرویو میں مریم صاحبہ فرما ئیں ” مخالفین کہہ رہے کہ حسن اور حسین نواز اتنی چھوٹی عمر میں ارب پتی کیسے بن گئے ‘ میں سب کو بتا دوں کہ حسن اور حسین نواز کا دادا ارب پتی تھا اور انہیں یہ سب دادا جان کی طرف سے ملا “جبکہ دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں شہباز شریف کہیں ” مجھے فخر ہے کہ میں ایک غریب مگر محنتی باپ کا بیٹاہوں “ پھر یہ ذہنوں میں رہے کہ نظریاتی او رمزاحمتی لوگ صادق اور امین ہوں ‘ نہ کہ عوام ‘پارلیمنٹ اور عدلیہ کو بے وقوف بنانے والے ‘ نظریاتی اور مزاحمتی رہنماوٴں کا سب کچھ اپنے وطن میں ہو اور وقت پڑنے پر انکی اولادیں غیر ملکی بھی نہیں ہوجا تیں ۔


لیکن جیسے پہلے بتا چکا کہ عقیدت ‘بصیرت پر بھاری پڑ چکی ‘ لہذا نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سارے وہ کچھ کہہ اور کر رہے جو سوچا بھی نہ جا سکے ‘جیسے ابھی چند دن پہلے میاں برادران کے سعودی عرب جانے پر کچھ یہ کہتے پائے گئے ”قائدین مسلم امہ کے مسائل حل کرانے سعودیہ گئے “ ہنس ہنس کر پیٹ دردہوا ‘جو 35سالہ اقتدار میں ملک اور جو آج اپنے مسائل حل نہیں کر پارہے ‘وہ مسلم امہ کے مسائل کیا حل کریں گے ‘ چند ماہ پہلے مسلم امہ کے اکٹھ ”ریاض کانفرنس “میں وزیراعظم نواز شریف کی جوآوٴ بھگت ہوئی اور جس طرح انہیں تقریر اور ٹرمپ سے ملاقات کے بنا لوٹنا پڑا ‘ اسکے بعد یہ باتیں ‘ اب تو وزارتِ عظمیٰ بھی نہیں اورعدالت عمر بھر کیلئے نااہل بھی کر چکی ‘ اگر پھر بھی کوئی یہ سمجھے کہ مسلم امہ کے مسائل کی کنجی شریف برادران کے پاس تو پھر اسکا اور مسلم امہ کا اللہ ہی حافظ‘ پھر وہ سعودی عرب بھلا مسلم امہ کے مسائل شریف برادران سے کیوں حل کروائے گا جو یمن کے معاملے پر فوج بھیجنے کا وعدہ کرکے مکرنے او ر قطر کا ساتھ دینے پر میاں صاحب سے پہلے ہی ناراض ‘ اب سوال یہ کہ پھر گئے کیوں ‘ 3وجوہات‘ پہلی ممکنہ وجہ یہ کہ شریف برادران کو سعودی قیادت نے اس لیئے بلایا کہ پاکستان کو unmanageableریاست نہ بنائیں ‘ اداروں سے نہ لڑیں‘یعنی ہتھ ذرا ہولا رکھیں اور عدالتوں کی جنگ عدالتوں میں لڑیں ‘ دوسری ممکنہ وجہ یہ کہ سعودی عرب میں جاری کرپشن کے خلاف مہم میں سعد حریری ‘خالدہ ضیاء اور میاں نواز شریف کے نام آنے کے بعد شریف برادران بلائے گئے ہوں اور تیسری ممکنہ وجہ یہ کہ سعودی قیادت نے بڑے میاں کو یہ کہنا ہو کہ شہباز شریف کو آگے لانے اور فری ہینڈ دینے کا وقت آگیا ‘ اصل کہانی کیا‘ چند دن اور انتظار کر لیں ۔


جاتے جاتے ایک نظر شہباز شریف کی دو تقریروں پر ‘ پہلی تقریر وہ جس میں چھوٹے میاں طبقہ اشرافیہ کویوں کوس رہے کہ ” طبقہ اشرافیہ کے تو نزلے زکاموں کے چیک اپس بھی باہر ‘اس طبقے نے قائد کے پاکستان کا ستیانا س کردیا اور قائد کی روح تڑپ رہی “ اب اگر اسے دوعملی ‘ منافقت نہ کہیں ‘ چھوٹے میاں کی نیت پر شک نہ کریں تو بھی یہ جعلی کاروائی ‘ کیونکہ شہباز شریف خود اسی طبقہ اشرافیہ کا حصہ ‘ ان کے اپنے نزلے زکاموں کے معائنے بھی باہر ہو رہے ‘ انہوں نے کبھی بھول کر بھی اپنے اسپتالوں میں علاج نہ کروایا‘ ان کے بچے‘ نواسے نواسیاں اورپوتے پوتیاں سرکاری اسکولوں میں پڑھے اورنہ پڑھ رہے اور موجودہ گھڑی تک وہ شاہی معاملات اور محلات کا حصہ ‘ اگرحبیب جالب کے شعر پڑھنے اور مائیک گراوٴ تقریروں سے انقلابی بناجا سکتا تو یہاں سب چی گویرا ہوتے ‘ پھر اسے کیا کہیں کہ کبھی شہباز شریف ہی فرمایا کرتے ” سرکاری پیسوں سے ہیلی کاپٹرز خریدنے والو میں موٹر سائیکل پر بیٹھ جاوٴں گا مگر یہ جرم نہیں کروں گا‘ ‘لیکن آج چھوٹے میاں ”نواں نکور“ ہیلی کاپٹر خرید چکے، خادم اعلیٰ اپنی دوسری جذباتی تقریر میں قرضے لینے کو ذلت اور رسوائی قرار دے رہے تھے، انہیں کون یاددلائے کہ ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے تو آپ اور آپکے بھائی جان نے لیئے،انہوں نے اپنی تقریر میں کشکول توڑنے کی ضرورت پر بھی زوردیا، انہیں کون بتائے کشکول تو آپ اتنا مضبوط کرچکے کہ اب یہ ٹوٹنے والا نہیں اور شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ ”امریکہ کی امداد نہیں چاہیے، ہم روکھی سوکھی کھالیں گے‘ ‘ گذارش یہی کہ قوم تو 70سال سے روکھی سوکھی ہی کھا رہی ، مسئلہ آپ کا کیونکہ آپ نے صرف روکھی سوکھی کا سن رکھا ، کبھی کھائی نہیں ‘ چونکہ یہ کوئی آسان کام نہیں ‘لہذا بات آگے بڑھانے سے پہلے حفظِ ما تقدم کے طور پر دو چار روز روکھی سوکھی کھانے کی پریکٹس ضرور کر لیں ۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Practice Zaroor Kar Lain Column By Irshad Bhatti, the column was published on 16 January 2018. Irshad Bhatti has written 211 columns on Urdu Point. Read all columns written by Irshad Bhatti on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.