سینیٹر فرحت اللہ بابر کا ایبٹ آباد کمیشن،سانحہ اے پی ایس اور لاپتہ افراد سمیت دیگر رپورٹس کو منظر عام پرلانے کا مطالبہ

ملک کو پہلے ریاستی عناصر پھر غیر ریاستی عناصر اور اب جو نظر نہیں آتے ، ان سے خطرہ ہے پارٹی ٹکٹس کیلئے 360 سے زائد امیدواروں کی درخواستیں موصول ہوگئی، سیکرٹری جنرل پی پی پی پارلیمنٹیرینز کا یوم عزم کے حوالے سے تقریب سے خطاب ،خصوصی گفتگو

اتوار مئی 19:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایبٹ آباد کمیشن ‘صحافی حامد میر ا ور ہدایت اللہ پر حملہ،، سانحہ آرمی پبلک سکول اور لاپتہ افراد کی 2010 ء کی رپورٹس کو منظر عام پرلانے کا مطالبہ کردیا‘ پہلے ریاستی عناصر پھر غیر ریاستی عناصر اور اب جو نظر نہیں آتے ہیں، ان سے ملک کو خطرہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام ضیاء الحق کے دور میں صحافیوں کو کوڑے مارے جانے کے چالیس سال پورے ہونے پر 13 مئی کو یوم عزم کے حوالے سے تقریب سے خطاب اور آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 2018 ء کے الیکشن کیلئے پارٹی ٹکٹ کے حصول کے خواہش مند امیدواروں کی360 سے زائد درخواستیں موصول ہوگئی ہیں ۔

(جاری ہے)

پیپلزپارٹی کا منشور تقریباً مکمل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے ضیاء الحق کے دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں یہ ان کا اعزاز میں تقریب ہے آج چالیس سال ہوگئے ہیں 1978 ء میں جھوٹ اور مکرو کا دور تھا اس میں آئین کے ابتدائیے کو ختم کردیا گیا جس میں اقلیتوں کے حقوق کو نکال دیا گیا صرف یہ رہنے دیا گیا کہ اقلیتوں کو اپنی عبادت کرنے کا حق ہے اور آزادی کو ختم کردیا گیا جس کو بعد میں ڈالا گیا کہ وہ اپنی آزادی کے ساتھ اپنی عبادت کر سکتے ہیں۔

جن صحافیوں کے آمریت کے دور میں کھڑے ہوئے اور آمر کو للکارا اور ان کے جسم پر جو کوڑے کے نشان ہیں وہ تمام میڈلز سے زیادہ اہم ہیں یہ لوگ قابل فخر ہیں جنہوں نے آزادی اظہار کیلئے اپنی آواز کو بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب مزاحمتی جرنلزم اور سیاست کی ضرورت ہے پہلے سٹیٹ ایکٹر اور پھر نان سٹیٹ ایکٹر کی طرف سے آواز کودبایا گیا تھا اور اب جو نظر نہیں آتے ان سے خطرہ ہے۔

اب بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور مزاحمتی تحریک کم نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں کتنے صحافی شہید ہوئے لیکن کسی کے کیس پر کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ صحافیوں کی پروٹیکشن کے حوالے سے کوئی قانون نہیں بنایا گیا ہم نے اپنی پارٹی کے منشور میں صحافیوں کے تحفظ کی شق کو بھی رکھا ہے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں پر دبائو ڈالیں کہ وہ اپنے منشور میں صحافیوں کی حفاظت کے حوالے سے باب کو بھی شامل کریں۔

اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کی آئیڈیالوجی آج بھی موجود ہے انہوں نے کہا کہ ملک کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور انجان قوتوں سے خوف آتا ہے۔ لاپتہ افراد کو سامنے لایا جانا چاہیے اور ان پر مقدمات چلائے جانے چاہئیں لیکن ایسا نہیں ہورہا میں ارباب اختیار کو کہتا ہوں کہ ماضی سے سبق سیکھیں اور اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کریں۔ ریاست اندر سے مضبوط ہو تو وہ حوصلے میں ہوتی ہے۔

صدر آر آئی یو جے مبارک زیب نے کہا میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ہم ضیاء دور میں کوڑے کھانے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ضیاء الحق کا دور ایک سیاہ دور تھا اور 13 مئی سیاہ دن کے دور پر ہر سال منایا جاتا ہے۔ صدر پریس کلب شکیل انجم نے کہا کہ ضیاء الحق نے صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی لیکن اس کا جو حشر ہوا وہ پوری دنیا نے دیکھا صحافیوں نے سچ بولنے کی وجہ سے کوڑے کھائے اور آج بھی ہمیں آپس میں اتحاد کی ضرورت ہے۔

سیکرٹری آر آئی یو جے علی رضا علوی نے کہا کہ ضیاء الحق کے دور میں نہ صرف صحافیوں پر کوڑے برسائے گئے بلکہ ہمیں تقسیم کرنے کی بھی ناکام کوشش کی گئی۔ ہم اپنے اس دور میں ضیاء الحق کے ظلم کا شکار ہونے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ضیاء الحق کے ظلم کا شکر ہونے والے ناصر زیدی نے کہا کہ ضیاء دور میں اظہار رائے کی آزادی کو صلب کیا گیا اور صحافیوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں تیس ہزار سے زائد لوگوں کو کوڑے مارے گئے اور صحافیوںکو برطرف کیا گیا سینسر شپ نافذ کردی گئی۔

200 سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا گیا صحافیوں کی دشوار گزار راستوں پر جدوجہد آج بھی جاری ہے پہلے صحافیوں کو کوڑے مارے جاتے تھے اب کو شہید کیا جارہا ہے۔ ان کے علاوہ سابق فنانس سیکرٹری پریس کلب اسحاق چوہدری‘ سابق ایم ڈی اے پی پی ریاض نے بھی خطاب کیا۔