بھارت دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر رہا بلکہ خود دہشت گرد ہے، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے،

شجاعت بخاری کویہی رپورٹ ٹویٹ ٹویٹ کرنے کی وجہ سے شہید کیا گیا آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود احمد خان کا شہید کشمیری صحافی کی یاد میںتعزیتی ریفرنس سے خطاب

منگل جون 16:05

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود احمد خان نے کہا ہے کہ بھارت کسی صورت بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا، بھارت دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر رہا بلکہ خود دہشت گرد ہے، پاکستانی سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کو پارٹی منشور میں سرفہرست رکھیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں نیشنل پریس کلب میں شجاد بخاری شہید کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل، سینئر کشمیری رہنما مشعال ملک اور سینئر صحافی حامد میر بھی موجود تھے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے 14جون کو جاری کی جانے والی رپورٹ نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے، شجاعت بخاری نے وہ رپورٹ ٹویٹ کی اور اس ٹویٹ کی وجہ سے انہیں شہید کر دیا گیا، بھارتی رد عمل شدید منفی تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ شجاعت بخاری نے اپنے آخری وقت میں بھی انسانی حقوق کی آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فسطائیت کی پالیسی کے مطابق حق خود ارادیت کی سزا موت ہے۔ ہم اس پالیسی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ شجاعت بخاری کی شہادت ثبوت ہے کہ ہم بھارتی تسلط کو قائم نہیں رہنے دیں گے۔ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا بھارتی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نہ صرف ناکام رہی بلکہ صحافیوں کے قتل میں ملوث ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ نے بھارتی چہرہ بے نقاب کیا۔ ہم انسانی حقوق کمشنر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ بھارت کے خلاف اہم ثبوت ہے۔ بھارت اس رپورٹ کا جواب نہیں دے سکا۔ کشمیر کی جوں کی توں صورتحال برقرار رکھنے کی کوشش قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔ پاکستانی سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کو پارٹی منشور میں سرفہرست رکھیں۔

بھارت کسی صورت بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر رہا بلکہ خود دہشت گرد ہے۔ ہم بھارتی تسلط کا اتحاد و اتفاق کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔ کشمیری رہنما مشعال ملک نے اس موقع پر کہا کہ شجاعت بخاری بہادر اور بے باک صحافی تھے۔

ان جیسے لوگ واقعی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے سچ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس کی قیمت بھی چکائی۔ کشمیر سے متعلق انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کشمیریوں کیلئے تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو وہ رپورٹ ہضم نہیں ہو رہی۔ بھارت انسانی حقوق کمشنر کو ہٹانے کے لئے لابی کر رہا ہے۔ مشعال ملک نے کہا کہ کشمیری صحافیوں کا قلم بھی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔

سینئر صحافی حامد میر نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شجاعت بخاری نے اپنے آخری دورہ پاکستان میں کچھ گلے شکوے کئے تھے، شجاعت بخاری کو پاکستانی میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے شکوہ تھا، میں نے ان کا گلہ دور کرنے کی کوشش کی۔ ان کی شہادت کے بعد کی صورتحال پر سوچتا ہوں کہ ان کا شکوہ بجا تھا۔ پاکستانی سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں مسئلہ کشمیر کا حل بتائیں۔ پاکستانی سیاسی جماعتیں کشمیر سے متعلق تجاہل عارفانہ کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کشمیریوں کے بارے میں ایسے ہی سوچنا چاہئے جیسے کشمیری پاکستان کے بارے میں سوچتے ہیں۔