شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کے فیصلے سے متعلق نیب کا اہم ترین اعلان

نیب ریفرنسز، احتساب عدالت کا ٹرائل مکمل کرنے کی مدت میں توسیع کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع ، سپریم کورٹ کے جواب کے بعد ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں نواز شریف اور مریم نواز سمیت دیگر ملزمان کے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے نیب کی درخواست پر فیصلہ ہو گا، تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا،فاضل جج محمد بشیر

منگل مئی 19:01

شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کے فیصلے سے متعلق نیب کا اہم ترین اعلان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کے خلاف العزیز سٹیل ملز ریفرنس میں سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیا کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئی10مئی کو طلب کر تے ہوئے فاضل جج محمد بشیر نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کی مدت میں توسیع کیلئے دوبارہ سپریم کورٹ کو درخواست دی ہے، سپریم کورٹ کے جواب کے بعد ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں نواز شریف اور مریم نواز سمیت دیگر ملزمان کے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے نیب کی درخواست پر فیصلہ ہو گا، تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا۔

منگل کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

(جاری ہے)

ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی تو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے ملزمان کے خلاف شہادتیں مکمل ہونے سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا اور ملزمان کے بیان ریکارڈ کرنے کی تاریخ مقرر کرنے کی استدعا کی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کیا عدالت کو نیب جو کہے گا وہی ہو گا پہلے دیگر دو ریفرنسز میں واجد ضیا کا بیان قلمبند کیا جائے۔ واجد ضیا کے بیان سے پہلے ملزمان کا بیان قلمبند کرنے سے ہمارا دفاع ظاہر ہوجائے گا۔ عدالت پہلے ہی اپنے حکم نامے میں کہہ چکی ہے کہ ایک ریفرنس میں بیان ہونے کے بعد واجد ضیا کا دیگر دو ریفرنسز میں بیان قلمبند کیا جائے گا۔

تینوں ریفرنسز میں استغاثہ کے گواہوں کے بیان مکمل ہونے پر ملزمان کے بیان ریکارڈ کیے جائیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ مکمل ہونے پر قانون کے مطابق اگلا مرحلہ ملزمان کا بیان ہے ، یہ کوئی قانون سازی کر لیں پھر کچھ ہو سکتا ہے ، ابھی تو کیس اسی ضابطہ فوجداری کے قانون کے تحت چلنا ہے۔

ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ کیس کبھی مکمل نہ ہو ۔ یہ سمجھتے ہیں ملزم کی سہولت اہم ہے اور وہی فیئرٹرائل ہے ۔ احتساب عدالت کے جج نے ٹرائل کی مدت میں توسیع کیلئے پھر سپریم کورٹ کو درخواست دی ہے۔ فیصلہ آجائے تو پھر ملزمان کے بیان کا معاملہ دیکھیں گے۔ خواجہ حارث نے کہا میرے خیال میں سپریم کورٹ کو مزید تین ماہ کا وقت دینا چاہئے۔ جج بولے یہ تو سپریم کورٹ کی مرضی ہے کہ کتنا وقت دیا جاتا ہے۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا شفاف ٹرائل کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہمیں بھی اتنا ہی وقت ملنا چاہئے جتنا پراسیکیوشن کو ملا۔ انہوں نے 18گواہوں پر 8 ماہ لگا دئیے۔