چوہدری نثار کے خلاف لیگی امیدوار کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کس کا تھا ،اندر کی خبر سامنے آ گئی

نواز شریف نے آخری وقت چوہدری نثار کا معاملہ پرویز رشید کے سپرد کر دیا تھا اور انہوں نے ہی چوہدری نثار کو ٹکٹ نہ دے کر ان کے خلاف لیگی امیدواروں کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر جون 22:58

چوہدری نثار کے خلاف لیگی امیدوار کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کس کا تھا ،اندر ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-25جون 2018ء) ::چوہدری نثار کے خلاف لیگی امیدوار کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کس کا تھا ،اندر کی خبر سامنے آ گئی۔ نواز شریف نے آخری وقت چوہدری نثار کا معاملہ پرویز رشید کے سپرد کر دیا تھا اور انہوں نے ہی چوہدری نثار کو ٹکٹ نہ دے کر ان کے خلاف لیگی امیدواروں کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔تفصیلات کے مطابق چوہدری نثار کو مسلم لیگ ن میں ایک ستون کی حیثیت حاصل ہے۔

انکی مسلم لیگ ن کے ساتھ 35سالہ رفاقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔انہوں نے مشکل سے مشکل حالات میں جس طرح پارٹی کے ساتھ وفاداری قائم رکھی اسکی پاکستانی سیاست میں مثال کم ہی ملتی ہے۔انہوں نے پارٹی کے سیاسی نشیب و فراز میں پارٹی اور پارٹی قیات کا مکمل ساتھ دیا لیکن ہر حال میں ساتھ چلنے والے چوہدری نثار اب مسلم لیگ ن سے ناراض ناراض نظر آتے ہیں ۔

(جاری ہے)

پانامہ کیسسز اور اس کے بعد کی صورتحال میں پارٹی قیادت کی جانب سے جو اقدامات اٹھائے گئے ،سابق وزیر داخلہ کسی صورت بھی ان سے متفق ہونے پر راضی نہیں۔اس لیے بارہا ایسا موڑ بھی آیا کہ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی پنڈتوں کا کہنا تھا کہ شائد سابق وزیر داخلہ پارٹی کو خیرباد کہہ دیں۔تاہم مسلم لیگ ن کے ساتھ چوہدری نثار کے تعلقات اتار چڑھاو کے ساتھ موجود ہیں۔

اس دوران کبھی لیگی قیادت چوہدری نثار پر چڑھائی کردیتی ہے تو کبھی چوہدری نثار مسلم لیگ ن کی قیادت بالخصوص نواز شریف پر۔اسی باعث آئندہ الیکشن میں چوہدری نثار کا ٹکٹ بھی کھٹائی میں پڑی ہوئی تھی۔کبھی چوہدری نثار کہتے ہیں کہ انہیں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کی ضرورت نہیں تو کبھی لیگی قیادت چوہدری نثار کو ٹکٹ دینے کے لیے درخواست کی ڈیمانڈ کرتی ہے۔

3 روز قبل چوہدری نثار کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس جس میں انہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں لیگی قیادت کے لیے نرم گوشہ ظاہر کر دیا ،جس کے بعد ن لیگ نے بھی چوہدری نثار کے لیے نرم گوشہ ظاہر کرتے ہوئے انکے خلاف کسی بھی امیدوار کو ٹکٹ نہ دینے کا اعلان کیا۔تاہم گزشتہ روز مسلم لیگ ن نے چوہدری نثار کے مخالف ن لیگی امیدواروں کا اعلان کردیا۔اس یوٹرن کے پیچھے کی کہانی بیان کرتے ہوئے سینئیر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کے خلاف امیدوار کھڑانہ کرنے کا فیصلہ صرف شہباز شریف کا نہیں تھا بلکہ بہت سے مرکزی قائدین جو نواز شریف کے بیانیے کے حامی سمجھے جاتے ہیں وہ بھی نواز شریف کو چھوڑ کر شہباز شریف کے ہم زبان تھے اور چاہتے تھے کہ چوہدری نثار کے مقابلے میں کسی کو کھڑا نہ کیا جائے تا ہم نوازشریف نے مرکزی قائدین اور اپنے بھائی کے مشورے کو بھی پس پشت ڈال دیا اور اس معاملے کو حتمی طور پر سابق وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے سپرد کر دیا گیا اور پرویز رشید چونکہ چوہدری نثار سے مخاصمت رکھتے ہیں لہذا انہوں نے اس موقع پر یہی کہا کہ ایک ایسے شخص کے لیے نرم گوشہ رکھنا جس نے پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست نہیں دی اور بارہا پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے ایسے شخص کو ٹکٹ دینا ناقابل قبول ہے ۔

انہوں نے نہ صرف یہ بات کی بلکہ اس بات کا بھی فیصلہ کیا کہ چوہدری نثار کے خلاف ن لیگی امیدوار کو ضرور ٹکٹ دے گی۔جس کے بعد چوہدری نثار کے مخالف ن لیگی امیدواروں کو آگے لانے کا فیصلہ کیا گیا۔