نوازشریف این آراوکیساتھ پلی بارگین بھی ہوگی،حسن نثار

این آر او کیساتھ پلی بارگین ایسی کہ لوٹ مارکا90 فیصد پیسا واپس کریں، جس سے ملک کا قرض اترجائے،ان کے پاس اتنا پیسا کہ صفریں ختم ہوجائیں، اگر این آر او ڈھنگ سے نہ ہوا تولوگوں کا اداروں سے اعتباراٹھ جائیگا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اگست 21:16

نوازشریف این آراوکیساتھ پلی بارگین بھی ہوگی،حسن نثار
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست 2018ء) : سینئر تجزیہ کار حسن نثارنے کہا ہے کہ نوازشریف کے این آر او کیساتھ پلی بارگین بھی ہوگی، این آر او کے ساتھ پلی بارگین ایسی ہو کہ لوٹ مار کا 90 فیصد پیسا واپس کریں،جس سے ملک کا قرض اترجائے، ان کے پا ساتنا پیسا ہے کہ صفریں ختم ہوجائیں،اگر این آر او ڈھنگ سے نہ ہوا تولوگوں کا اداروں سے اعتبار اٹھ جائے گا۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال ”شہبازشریف کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بغیر دنیا زندہ رہ سکتی ہے، نہ کوئی این آر او لینا چاہتا ہے اور نہ ہوئی این آر او دینا چاہتا ہے؟ کے جواب میں کہا کہ مذاکرات کی کسی حد تک جزوی طور پر بات ٹھیک ہے۔ لیکن بھیڑیا اور بھیڑ میں ایک ہی قسم کے مذاکرات ہوسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

کہ بھیڑ بھیڑیے کے پیٹ میں جانے کے بعد سکون کرے۔

باقی ان کا یہ کہنا ہے کہ کوئی این آر او ہورہا ہے نہ کوئی دے رہا ہے نہ لے رہا ہے۔ تویہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پہلے تو یہ بڑی منت سماجت اور ترلے کرکے باہر گئے۔پہلے بھی این آر او کیا چودھری برادران تک کوپتا نہیں چلا تھا۔ جب تک ٹیک آف نہیں کرگئے کسی کوپتا نہیں چلا۔ کمال یہ ہے کہ واپس آنے کے بعد بھی نہیں مانے اور مکر گئے۔یہ اس کریکٹر کے لوگ ہیں۔

اب رہ گیا این آر او توکہتے ہیں جہاں دھواں ہو وہاں آگ ہوتی ہے۔ حسن نثار نے انکشاف کیا کہ شریف فیملی کی این آر او کے ساتھ پلی بارگین کی بات چل رہی ہے یہ بڑی دلچسپ بات ہے۔ان جوہمدرد ہیں وہ رحم کی اپیلیں کررہے ہیں۔پھر وہی بھیڑ بھیڑیے والی بات ہے۔کہ بھیڑیے کے ساتھ رحم کرنا بھیڑوں کے ساتھ بے رحمی کے مترادف ہے۔بھیڑیں کون ہیں؟ یہ ہم سب لوگ بھیڑیں ہیں۔

اب این آر او اور پلی بارگین ساتھ ساتھ چلے گا۔پلی بار گین بھی ایسی کہ اگر یہ لوٹ مار کا 90 فیصد پیسا واپس کریں ۔اس پیسے سے ملک کاقرض اتر جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اتنا پیسا ہے کہ صفریں ختم ہوجائیں۔ہماری ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی تونہیں ہے جائیں ہم ان کا کوئی اچار ڈالنا ہے۔اگر این آر او ڈھنگ سے نہ ہوا تولوگوں کا اداروں سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ان کے ذریعے باقی لوگوں کوبھی عبرت ملے گی۔