Episode 3 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 3 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
”خالہ حاجرہ ہیں تو ادھر کی ادھر کرنے میں ماہر، ہر کسی کی برائی کرتی رہتی ہیں “اسے بھی اس کی بات کی تائید کرنی پڑی تھی کہ خود جلی بھنی بیٹھی تھی”کئی ہفتوں۔ سے ان کا موضوع اپنے محلے میں آنے والی وہ نئی پڑوسن ہیں جن سے حسب عادت انہوں نے بہت دوستی گانٹھنے کی کوشش کی اور جواباً پذیرائی نہ ملی تو وہ ہاتھ دھوکر ان کے پیچھے لگ گئی ہیں “قدموں سے تیز رجاء کی زبان چل رہ تھی۔

وردہ پورے انہماک سے اس کی گفتگو سن رہی تھی، بول اٹھی۔ 
”واہ! تم نے دیکھا ان کو؟ بخدا آج ہی دیکھا ہے میں نے قریب سے انہیں، واہ!کیا حسن ہے، کم از کم اتنا مکمل حسن میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا“وردہ کے لہجے میں بھرپور ستائش و توصیف تھی جب کہ رجاء خاموش رہی تھی۔ 
”میرے قریب سے گزری تھیں، میں مسکرانے لگی تو کوئی تاثر نہ دیا، نظر انداز کرکے چلی گئی تھیں، بہت مغرور حسینہ ہیں وہ“
”حسن کا احساس مغرور بناہی دیتا ہے، میں بھی انہیں کھڑکی اور بالکونی پر کھڑے دیکھتی ہوں، شاید امی کی ہم عمر ہوں گی لیکن اتنی عمر والی دکھائی نہیں دیتی ہیں “کوچنگ سینٹر گھر سے زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔

(جاری ہے)

وہ دونوں پیدل جایا کرتی تھیں اور سفر کے دوران باتوں میں فاصلہ مزید سمٹ جاتا تھا۔ ابھی وہ اور کچھ کہتی کہ سامنے کھڑے شخص پر نگاہ پڑتے ہی گھبراگئی۔ 
###
فیاض اخبار کے مطالعے میں مصروف تھے۔ سرمئی بارڈر والی گلابی بنارسی ساڑھی میچنگ میں جیولری اور موتیے کے گجرے لگائے بنی سنوری صباحت اندر داخل ہوئی تھیں۔ پہلے ایک طائرانہ نگاہ انہوں نے خود پر ڈالی اور مطمئن ہوکر آگے بڑھ کر فیاض صاحب کے قریب بیٹھ گئی تھیں۔

انہوں نے ایک اچٹتی نگاہ ان پر ڈالی پھر بے نیازی سے مطالعے میں مصروف ہوگئے اور ان کا یہ سرسری و بے نیاز انداز صباحت کو تپا گیا مگر وہ ظاہر نہ کرسکیں۔ 
”دل کھول کر ثریا باجی نے بیٹے کی شادی پر دولت لٹائی ہے۔ مایوں، مہندی ، ولیمہ، ہر تقریب لاجواب۔ نامعلوم کتنے عرصے تک ثریا باجی کے بیٹے کی شادی کے چرچے رہیں گے“میاں بدستور مصروف تھے، انہوں نے خود ہی گفتگو کی ابتداء کی تھی۔

 
”ان کی بہو کو دیکھ کر تو میرے سینے پر سانپ لوٹ گئے۔ اگر آپ مان جاتے تو اس کی جگہ میری عادلہ یا عائلہ دلہن بنی بیٹھی ہوتی، کتنی کوشش کی ثریا باجی نے کہ آپ مان جائیں۔ ان کے بیٹے کو داماد بنالیں مگر آپ کی ”ناں“کبھی ”ہاں“میں نہیں بدل سکتی ہے۔ کینیڈا کی شہریت ہے ان کے پاس۔ ایک بیٹی کسی امیر فیملی میں چلی جاتی تو باقی کے لیے بھی راستے کھل جاتے لیکن…آ پ میری کسی بات کو اہمیت کہاں دینے والے ہیں“ان کے لہجے میں آزردگی درآئی۔

 
”میری بیٹیاں لاوارث نہیں ہیں صباحت بیگم! جو ایسے نودولتیوں کو دوں گا، جن کے حسب و نسب کا معلوم نہیں، ناں ہی اپنے اطوار سے خاندانی لگتے ہیں“وہ اخبار چہرے سے ہٹاکر ان سے مخاطب ہوئے۔ 
”وہ وقت گزر گیا جب خاندان حسب و نسب دیکھا جاتا تھا ۔ اب صرف دولت دیکھی جاتی ہے “
”حرام و حلال کی تمیز مٹ گئی ہے، جائز و ناجائز لوگ بھول بیٹھے ہیں مگر میں نہیں بھولا ہوں اور نہ تمہیں بھولنے دوں گا“وہ اٹل لہجے میں بولے۔

صباحت جزبز ہوکر رہ گئیں پھر موضوع بدل کر بولیں۔ 
”اماں جی نے کچھ بتایا آپ کو…“
”کیا…“وہ دوبارہ مطالعے میں غرق ہوچکے تھے۔ 
”بھابی جان اور طغرل پاکستان آرہے ہیں “
”ہاں بتایا تھا …وہ بھلا مجھے کیوں نہیں بتائیں گی“
”توبہ! مجال ہے جو آپ کوئی سیدھا جواب دے دیں، میرا مطلب ہے وہ لوگ آرہے ہیں تو گھر کا بجٹ تو چار گنا بڑھ جائے گا۔

فی الحال ایک موٹی رقم میرے ہاتھ میں رکھ دیں تاکہ میں شاپنگ کرلوں“
”بھابھی اور طغرل کے سنگ تمام آسٹریلیا آرہا ہے کیا؟“وہ اخبار میز پر رکھ کر حیرانی سے استفسار کرنے لگے۔ 
”آسٹریلیا سے تو وہ صرف دو ہی آرہے ہیں، ان کے آنے کے بعد جو یہاں پر ان کی زیارت کو پورا پاکستان چلا آئے گا ان کو پھنسانے کے لیے ایک بڑے بجٹ کی ضرورت پڑے گی وہ رقم تو میں ابھی مانگ ہی نہیں رہی ہوں “
”یہ رقم کس لیے چاہیے پھر…“وہ ازحد متعجب ہوئے۔

 
”گھر کی تزئین و آرائش کروں گی۔ ہر چیز کی ضرورت ہے۔ بھابھی وہاں محل نما بنگلے میں رہتی ہیں، ہمارے اس کھنڈر میں تھوڑی بہت تو خوب صورتی پیدا کرنی پڑے گی “
”اچھا…“وہ متفکر انداز میں گہرا سانس لے کر گویا ہوئے۔ 
”کیسی لگ رہی ہوں میں؟“وہ ان کے مقابل کھڑی ہوکر گویا ہوئیں۔ 
”بھئی! جیسی ہو…ویسی ہی …اور کیسی“ وہ جھنجلائے۔

 
”وہاں سب نے میری تعریف کی ہے اور آپ کو میں اچھی ہی نہیں لگتی“ہر دفعہ کی طرح ان کے سپاٹ انداز پر وہ جلے کٹے انداز میں بولیں۔ 
”کتنی دفعہ تمہیں کہا ہے ہم سوبر لوگ ہیں۔ عمر کے اس دور سے نکل چکے ہیں جب بننے سنورنے اور تعریف و توصیف کی چاہ ہوتی ہے، اب ہماری بچیاں بڑی ہوچکی ہیں اور جب بیٹیاں جوان ہوجائیں تو ماں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں“وہ ان کے بازو پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے گویا ہوئے۔

”جوان بیٹیوں کی مائیں بنتی سنورتی اچھی نہیں لگتیں۔ ہر عمر کا ایک تقاضا ہوتا ہے اب تمہیں سادگی اختیار کرنی چاہیے۔ میرا مطلب ہے، وہ مائیں میری نظر میں احمق و بے وقوف ہوتی ہیں جو جوان بیٹیوں کے ساتھ خود بھی جوان نظر آنے کی تگ و دود میں لگی رہتی ہیں “وہ کہہ کر چلے گئے۔ صباحت جل کر رہ گئی تھیں ان کے انداز بے نیازی پر۔ 
”ہونہہ!نت نئے فلسفے جھارنے کے علاوہ اس آدمی کو کچھ نہیں آتا۔

اب ایسی بھی عمر نہیں ہوئی کہ بننا سنورنا چھوڑدوں…اس مرد کی نگاہوں میں اور دل میں میرے لیے ابھی تک جگہ نہیں بنی ہے پھر میری عمر ہی کیا ہے ابھی! یہ الگ بات ہے کہ لڑکیاں کچھ جلدی ہی بڑی ہوگئی ہیں اس کا یہ مقصد تھوڑی ہے کہ میں دل مار کر بیٹھ جاؤں “
###
صباحت کو مطلوبہ رقم ملی تو وہ گھر کی تزئین و آرائش میں مصروف ہوگئیں۔ اماں جان اور پری میں کمرے کی وجہ سے خاصی ناراضی بڑھ گئی تھی۔

اگر بات طغرل کی نہ ہوتی تو اماں بھی ایسی کوئی زور زبردستی نہ کرتیں کہ وہ جانتی تھیں، پری اس کمرے سے جذباتی طور پر وابستہ ہے اور جس طرح وہ اپنے کمرے کا خیال رکھتی تھی وہ بھی مثالی تھا۔ ان کے سسر کے دور کا بنا یہ بنگلہ سالوں سے کسی مرمت و دیکھ بھال کے بغیر استعمال سے اب اپنی آب و تاب کھوچکا تھا۔ تہواروں کے موقع پر صباحت اندرونی کمروں پر توجہ دیا کرتی تھیں، باقی حصے تزئین و آرائش، رنگ و روغن سے محروم رہتے تھے، ان کے برعکس پری نے اپنے کمرے اور اس کے ملحقہ پورشن کو بھی خوف صاف و شفاف رکھا ہوا تھا اور اپنی طبیعت کے مطابق سجایا ہوا تھا یہی سگھڑ پن اسے مہنگا پڑ گیا تھا۔

رات سے بھوک ہڑتال کیے وہ کمرے میں پڑی تھی۔ اماں جان نے بہت چاہا وہ ضد چھوڑ کر ان کی بات مان لے اور وہ یہ بات ماننے کو تیار نہ تھی۔ 
”کیوں پریشان کرتی ہو مجھے پری! چند دنوں کی تو بات ہے۔ کمرا مل جائے گا تمہیں واپس، وہ ساتھ تو نہیں لے کر جائے گا“وہ اس کی بھیگی پلکیں دیکھ کر نرم لہجے میں گویا ہوئیں۔ 
”میں جان دے دوں گی، کمرا نہیں دوں گی “وہ منمنائی۔

 
”ٹھیک ہے، کرو اپنی ضد پوری، کردو باپ کی عزت نیلام، تم سے بھلا خیر کی توقع کیوں کی جائے؟“وہ گہرا سانس لے کر افسردگی سے گویا ہوئیں۔ 
”میں نے ایسا کیا کردیا جو آپ یوں کہہ رہی ہیں؟“دادی کی آنکھوں میں در آنے والی نمی نے اسے بوکھلادیا۔ 
”تم جانتی ہوناں تمہارا باپ باوجود کوشش کے بنگلے کی مرمت نہ کرواسکا ناں ہی گیسٹ روم میں جو کچھ کام تھا وہ کراسکا۔

یہ گھر تمہارے دادا کے زمانے کا بنا ہوا ہے۔ جب سے اب تک استعمال ہورہا ہے۔ کبھی اس میں پیسہ لگانے کی ضرورت تمہارے دادا نے محسوس کی اور نہ تمہارے باپ نے اور رہی سہی کسر صباحت کی کاہلی و پھوہڑ پن نے پوری کردی۔ کئی کمرے اجڑے پڑے ہیں۔“
”دادی! وہ کسی پرستان سے تو نہیں آرہا ہے جو آپ اس کو اس قدراہمیت دے رہی ہیں، وہ بھی اسی دنیا کا فرد ہے“
”تمیز سے بات کر ، طغرل تجھ سے بڑا ہے“انہوں نے فوراً ڈانٹا۔

 
”دادی جان! وہ ابھی آئے بھی نہیں ہیں اور آپ بدل گئی ہیں مجھ سے “اس نے ان کے گھٹنوں پر ہی سر رکھ کر رونا شروع کردیا۔ 
”ارے…میں کیوں بدلوں گی“انہوں نے بازو سے پکڑ کر اسے قریب بٹھالیا۔”تُوتو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، تیری جگہ کوئی نہیں لے سکتا“ان کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔ ”ساری بات میں نے تمہیں سمجھادی، اب تمہاری مرضی ہے۔

باپ کی عزت کا خیال کرتی ہو یا اپنی من مانی کرتی ہو۔ وہ وہاں بہت اعلیٰ گھر میں رہنے کا عادی ہے“دادی نے کسی سیاست داں کی طرح آخری حربہ استعمال کیا تھا۔ بات اس کے باپ کی عزت و نام کی آگئی تھی۔ یہاں پر اسے ہتھیار ڈالنے ہی پڑے تھے۔ 
”اب اگر اچھا کرہی لیا ہے تو یوں منہ نہ بناؤ۔خوشی خوشی اپنا سامان میرے کمرے میں لے آؤ“دادی نہال ہوگئی تھیں۔

وہ دل میں طغرل کو گالیاں دیتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ 
”کہاں جارہی ہو؟ پہلے بال باندھو، کتنی بار سمجھایا ہے دونوں وقت مل رہے ہوں تو بال کھولنے نہیں چاہئیں لیکن تمہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی “
”دادو! بال کھلے ہوں تو کیا ہوجاتا ہے؟“ماضی کے جھروکوں سے ایک شوخ صدا ابھری تھی۔ 
”جن عاشق ہوجاتے ہیں میرے بچے!“
”ہاہاہا…جن چڑیل پر عاشق تھوڑی ہوتے ہیں“اس کی استہزائیہ ہنسی آج بھی اس کی سماعتوں میں محفوظ تھی۔

 
###
”کیا ہوا؟“وردہ نے دلچسپی سے اس کی گھبراہٹ نوٹ کرکے پوچھا جب کہ وہ شخص ایک بھرپور نگاہ اس پر ڈال کر خاموشی سے چلا گیا۔ 
”اتنا گھبرانے کی کیا ضرورت تھی؟ چلا گیا بے چارہ، نہ کچھ کہے، تمہیں معلوم ہے کب سے انتظار کر رہا تھا یہاں تمہارا؟“وردہ کے لہجے میں سرزنش تھی ۔ 
”ور…دہ ! مجھے یہ مذاق پسند نہیں ہے“دھان پان سی رجاء خوف سے کانپ رہی تھی۔

وہ شخص جو وردہ کا کزن تھا، پچھلے کئی ہفتوں سے اسی طرح راستے میں آرہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سے چمک ہوتی تھی ، لب تو اس کے ابھی خاموش ہی تھے مگر نگاہیں بول رہی تھیں وہ زبان، وہ فسانے جو سمجھ کر بھی نہیں سمجھنا چاہتی تھی۔ ہر بار اسے دیکھ کر وہ اسی کیفیت کا شکار ہوجاتی تھی۔ 
”کسی کی جان پر بن گئی ہے اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے“
”پلیز! میں اس موضوع پر کوئی بات کرنا نہیں چاہتی“حجاب میں چھپے اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ 

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط