Episode 62 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 62 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
طغرل نے وقتی جذبے کے تحت پری سے وہ سب کہہ دیا تھا جو شاید  وہ کہنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اور جواباً جو پری نے اس سے کہا وہ بھی بھولنے والی بات نہ تھی۔
”جو بے ارادہ وہ کام کر چکا تھا اس نے اس کو بے چین کیا ہوا تھا  وہ بے مقصد سڑکوں پر کار دوڑاتا رہا تھا  سائٹ پر ہونے والی کنسٹرکشن پر بھی اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا جانے کو۔
جب وہ اس مشغلے سے بھی اکتا گیا تو اسے معید کے آفس کا خیال آیا اور وہ وہاں چلا گیا  معید نے اس کا استقبال بڑی گرم جوشی سے کیا۔

”چہرہ بتا رہا ہے کوئی فیصلہ بلکہ اچھا فیصلہ کرکے آئے ہو۔“ وہ اس کے قریب بیٹھتا ہوا بولا تھا۔
”یار! ہماری باتیں کل پارس نے سن لی تھیں۔“
”وہاٹ! کس طرح سن لی تھیں؟“ وہ سخت حیران ہوا۔

(جاری ہے)

”مجھے نہیں معلوم لیکن اس نے سن لی ہیں اور وہ مجھ سے شادی کرنے سے انکاری ہے۔“ طغرل اس وقت بے حد سنجیدہ تھا۔
”یہ تو بہت برا ہوا یار! اب تو وہ مجھ پر بھی یقین نہیں کرے گی  ناراض الگ ہو جائے گی۔

تم نانی جان سے بات کرتے یار!“
”اس نے انکار کر دیا مجھے اس کا اس طرح انکار کرنا ذرا اچھا لگا  وہ سمجھتی ہے میں اس پر ترس کھا رہا ہوں۔“
”وہ ہمیشہ سے ایسے ہی کمپلیکسیز کا شکار رہی ہے اس میں اعتماد کو صباحت آنٹی نے کبھی سروائیو ہونے ہی نہیں دیا ہے  اسے ہمیشہ یہ احساس دلایا ہے کہ وہ ایک نامکمل  ٹھکرائی ہوئی ادھوری لڑکی ہے۔

“ معید کے لہجے میں پری کیلئے تڑپ اور محبت تھی۔
”اب ایسا بھی نہیں ہے کہ آنٹی نے بالکل اس کی برین واشنگ کر دی ہو  وہ اپنا برا بھلا اچھی طرح سمجھ سکتی ہے تم سارا الزام آنٹی کو نہ دو  وہ باشعور اور سمجھدار لڑکی ہے معید!“
”میں نے کہا نا تم ابھی پری کو سمجھ ہی نہ سکے ہو  وہ کیا ہے؟ یہ میں جانتا ہوں۔“ اسی دم طغرل کا سیل بج اٹھا تھا۔

”کس کی کال تھی؟“ وہ کچھ دیر بعد بولا۔
”ممی کی  بلا رہی ہیں دادی جان کو معلوم ہو چکا ہے۔“
###
چمکیلے بھڑکیلے شوخ کپڑوں کا ڈھیر اس کے آگے رکھا تھا  وہ بت بنی ان کپڑوں کو دیکھ رہی تھی۔
”رخ! دیکھ لو ان کو اگر کوئی سوٹ پسند نہیں آئے تو بتا دینا ابھی تو دن میں میں جا کر دوسرے لے آؤں گی۔“ امی نے ایک ایک سوٹ کھول کر اس کے آگے رکھ دیا تھا۔

”یہ سب اتنی جلدی کرنے کیا ضرورت ہے امی! ابھی میرے امتحانات باقی ہیں  مجھے سکون سے تیاری تو کرنے دیں  جب سے شادی کرنے کی دھن آپ پر سوار ہوئی ہے میرا حال خراب ہو کر رہ گیا ہے۔“
”کیا حال خراب ہو کر رہ گیا ہے؟ میں دیکھ رہی ہوں جب سے تمہاری شادی کی تیاریاں شروع کی ہیں میں نے  تمہارا دماغ کچھ زیادہ ہی خراب ہو گیا ہے  کمرے میں بند پڑی رہتی ہو۔

“ حسب عادت فاطمہ نے اس کو کھری کھری سنائی تھی۔
”میں اتنی جلدی شادی کرنا نہیں چاہتی ہوں امی! کتنی دفعہ کہا ہے میں نے آپ سے  میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔“ وہ سخت اضطراب میں مبتلا تھی۔
”میں تمہاری اس بے جا ضد کو خاطر میں نہیں لاتی اور نہ ہی تمہاری ایسی تعلیم سے مجھے کچھ دلچسپی ہے جو تمہیں اچھے برے کی تمیز سکھانے کے بجائے گستاخ اور ہٹ دھرم بنا دے اور…“ وہ کچھ توقف کیلئے رکی تھیں۔

”نامعلوم کیوں بہت عرصے سے میرا دل تمہاری طرف سے ایک عجیب بے چینی اور وسوسوں سے بھرا رہتا ہے  جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے میرے دل میں وحشتیں بڑھنے لگی ہیں۔ رخ! اگر تم گلفام سے شادی نہیں چاہتی ہو تو مجھے بتاؤ؟ میں ماں ہوں تمہاری  تمہاری مرضی کے خلاف فیصلہ نہیں ہونے دوں گی۔ تم مجھ پر یقین کرو۔“ لمحے بھر کو وہ حیرانی سے ان کا چہرہ دیکھتی رہ گئی تھی۔

کتنی سچائی اور سادگی سے وہ اس کے دل کا حال بیان کر گئی تھیں۔
”میں امی کو سب سچائی بتا دوں تو… شاید یہ شادی نہیں ہو گی مگر پھر میں اعوان کی بھی نہ ہو پاؤں گی۔ اعوان کے اور میرے مالی حالات میں  رہن سہن میں اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے  پھر اعوان سے جو میں نے جھوٹ بولے ہیں  وہ امی برداشت کر پائیں گی اور نہ ہی اعوان  بہتر یہی ہوگا کہ اپنی کی گئی جھوٹی غلط بیانیوں کی پاسداری کروں۔

”جو بات تمہارے دل میں ہے وہ مجھے بتا دو ماہ رخ!“
”ایسی بات نہیں امی! میں ایسا کچھ نہیں چاہتی ہوں۔“
”پھر شادی سے انکار کی وجہ کیا ہے؟“
”میں امتحان دینا چاہتی ہوں  میری سال بھر کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ امتحانوں کے بعد مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔“ فاطمہ کی نگاہیں اس کے چہرے کو کھوج رہی تھیں  جہاں ایک طرح کی بے چینی و اضطراب پھیلا ہوا تھا  جو ان کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کر دیتا تھا لیکن ہزار کوششوں کے بعد وہ ماہ رخ میں وہ بات محسوس ہی نہ کر سکی تھیں جو ایک بیٹی میں ہوتی ہے۔

”میرے سر پر ہاتھ رکھ کر بول یہی بات ہے  کوئی اور بات تو نہیں ہے؟ تو کسی اور کو تو پسند نہیں کرتی؟“ پل بھر کو اس کا دل بند سا ہوا تھا ماں کے سر کی طرف بڑھنے والا ہاتھ لرز اٹھا تھا  بچپن سے آج تک ماں کی وہ ساری محبتیں  عنایتیں اس کے ہاتھ سے لپٹ گئی تھیں اور دوسری طرف خواہشوں کے انبار تھے  ایک خوش حال اور من پسند زندگی کی رعنائیاں تھیں۔

خوب صورتیاں و آسائشیں تھیں۔
گلفام کے ساتھ کیا مل سکتا تھا  وہ تو ایک سیکنڈ ہینڈ کار تک افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ ساری زندگی وہ اسی گھر اور اسی علاقے میں گزارتا جہاں وہ رہنا نہیں چاہتی تھی۔
بہت سخت امتحان دینا تھا اسے ایک طرف گھر تھا  ماں اور باپ تھے  دوسری طرف خواہشیں تھیں  سنہری زندگی کی چاہ تھی اور اس نے فیصلہ کر ڈالا تھا۔

”امی! میں آپ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہوں اور کوئی بات نہیں ہے  میں کسی کو پسند نہیں کرتی۔“ اس نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر اطمینان سے کہا تھا۔
”تم آرام سے تیاری کرو  شادی تمہارے امتحانوں کے بعد ہو گی۔“
###
وہ سب اماں جان کے کمرے میں موجود تھے  طغرل معید کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ صباحت اور مذنہ ایک صوفے پر بیٹھی تھیں۔

پری اماں کے عقب میں بیٹھی تھی  اماں کے بگڑے مزاج کے باعث عائزہ اور عادلہ اندر نہ آئی تھیں مگر وہ کھڑکیوں سے چپکی کھڑی تھیں  چند لمحے طغرل کو برہم نظروں سے دیکھنے کے بعد وہ گویا ہوئیں۔
”میں نے کیا سنا ہے طغرل! تم نے اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے قبل اپنی ماں یا دادی سے مشورہ لینا بھی ضروری نہیں سمجھا؟“ وہ اس سے سخت لہجے میں استفسار کرنے لگی تھیں۔

”نانی جان! اصل بات یہ ہے کہ اس سارے قصے کے پیچھے طغرل کا کوئی قصور نہیں ہے  یہ سب میں نے ہی اس سے کہا تھا پری کو پرپوز کرنے کیلئے  میں نے اس پر دباؤ ڈالا تھا۔“ طغرل کے بولنے سے پہلے معید بول اٹھا تھا۔
”تم کو کس نے یہ اختیار دیا کہ تم اس گھر کے فیصلے کرو؟“
”میں معافی چاہتا ہوں نانی جان! میرا مطلب یہ نہیں تھا۔“
”بہت اچھے فیصلے ہیں تمہارے  ایک فیصلہ کرتا ہے اور دوسرا فوراً اس پر عمل کرتا ہے نہ کسی کی اجازت کی پروا نہ کسی کے جذبات کا خیال ہوتا ہے تم لوگوں کو۔

شادی بیاہ کو تم لوگ کھیل سمجھتے ہو؟ پھر تم نے ہمت کیسے کی پری سے ایسی بات کرنے کی؟“ معید کو ڈانٹنے کے بعد وہ طغرل سے مخاطب ہوئی تھیں۔
”غلطی ہو گئی دادی جان! مجھے بعد میں احساس ہوا یہ سب مجھے آپ سے اور ممی سے ڈسکس کرنا چاہئے تھا بس۔ میں جذباتیت کا شکار ہو گیا تھا  مجھے معاف کر دیں۔“ اس نے آگے بھڑ کر ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے شرمندگی سے کہا تھا  اس کے قریب آتے ہی پری دور ہو گئی تھی۔

”بھابی جان! قصور ان بچوں کا نہیں ہے  بات ساری یہ ہے کہ جب عورت بہکانے پر آئے تو مرد کیسے نہ بہکے گا؟“ صباحت معاملے کو ٹھنڈا پڑتے دیکھ کر چنگاری دکھانے لگی تھیں۔
”یہ کیا کہہ رہی ہو صباحت! مطلب کیا ہے اس بات کا؟“ ان کے لہجے پر وہ سب ہی چونک اٹھے تھے  مذنہ حیرانی سے گویا ہوئیں۔
”بات یہ ہے کہ میں نے کتنی مرتبہ پری اور طغرل کو باہر سے ساتھ آتے دیکھا ہے اور ایک دن تو حد ہی ہو گئی تھی اس دن صبح صبح ہی یہ دونوں ساتھ آئے تھے  پری بری طرح رو رہی تھی  طغرل اپنے کمرے میں چلے گئے تھے اور یہ روتی ہوئی واش روم میں گھس گئی تھی۔

میں نے پری سے بہت معلوم کرنے کی سعی کی  پیار سے ڈانٹ سے معلوم کرنا چاہا کہ اس صبح ان کے درمیان کیا ہوا تھا؟ اس صبح ہی یہ لوگ گئے تھے یا رات بھر سے غائب تھے۔ یہ تو یہ لوگ جان سکتے ہیں یا اللہ! میں نے جو دیکھا وہ بتا رہی ہوں۔“
”بہت خوب بہو! گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھاتا ہے۔ اول تو مجھے اپنے بچوں کے کردار پر کوئی شک نہیں ہے  میں جانتی ہوں میرے بچے ایسا کوئی کام نہیں کر سکتے  جو ہماری عزت کو داغدار کرے۔

”اماں جان! آپ مجھے کیا بتا رہی ہیں یہ دونوں آپ کے سامنے موجود ہیں۔ ان سے معلوم کریں ابھی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔“ وہ پری کو گھورتی ہوئی بولیں۔
طغرل بڑی حیرت سے میٹھے لہجے میں بات کرنے والی صباحت کا یہ جارحانہ انداز دیکھ رہا تھا جس میں نہ کوئی لچک تھی اور نہ ہی تدبر و لحاظ انہوں نے آسانی سے پری کے ساتھ اس کے کردار پر بھی کیچڑ اچھالی تھی۔

اس کا وجیہہ چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا۔
”میں کیوں معلوم کروں؟ مجھے اپنے بچوں پر اعتماد ہے۔“ وہ دائیں ہاتھ سے پری کو سینے سے لگاتی ہوئی گویا ہوئیں۔ پری کی حالت غیر ہو رہی تھی۔
صباحت کے لفظوں نے اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی تھی اس بات سے بے خبر کہ وہ ایک انگلی اس کی طرف اٹھا رہی ہیں اور دوسری انگلیاں از خود ان کی جانب اٹھی ہوئی ہیں۔

”بھابی! یہ آپ کے بیٹے کا معاملہ ہے آپ تو خاموش اس طرح بیٹھی ہیں  جیسے طغرل آپ کی نہیں کسی اور کی اولاد ہو۔“ مذنہ جو خاموشی سے سب سن رہی تھی  سنجیدگی سے بولیں۔
”طغرل میرا ہی بیٹا ہے صباحت! میں جانتی ہوں تم کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ تم نے طغرل اور پری کو ساتھ آتے جاتے دیکھا ہے یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ آفٹر آل یہ لوگ کزنز ہیں اور کزنز کے درمیان اس طرح کی ریلیشن شپ چلتی ہے پھر یہ سب میری نالج میں ہے۔

طغرل نے ہر بات مجھ سے فون پر شیئر کی ہے یہ عموماً پری کو ان کی نانو کے ہاں سے پک کرتے رہے ہیں اور وہ بھی فیاض کے کہنے پر اور جس صبح کی تم بات کر رہی ہو وہ میں جانتی ہوں  کیا ہوا تھا ان دونوں کے درمیان۔“ وہ ایک کے بعد ایک دھماکا کرتی چلی گئیں صباحت کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا  وہ جس کو لاعلم سمجھ رہی تھیں وہ زیادہ باخبر ثابت ہوئی تھیں۔

”آپ کو معلوم ہے…؟“
”ہاں! اس صبح پری اور طغرل کہیں رات گزار کر نہیں آئے تھے بلکہ ان کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی اور پری کو طغرل اس کی نانو کے ہاں سے ہی لے کر آیا تھا۔“ ان کا اندرز بے حد نرم تھا۔
”بس ہو گئی تمہاری تسلی؟ یا ابھی بھی کچھ گل کھلانے باقی ہیں؟ صباحت! اللہ کے قہر سے ڈرو  کیوں اس مظلوم بچی کے پیچھے پڑ گئی ہو؟ کیا بگاڑا ہے اس نے تمہارا؟“
”آپ کو تو میں ہی غلط نظر آتی ہوں۔“ وہ اٹھ کر چلی گئی تھیں۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط