Episode 56 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 56 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
اعوان کو جاپان گئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔
رخ کیلئے یہ ہفتہ بہت بھاری تھا ایک ایک لمحہ ٹھہر ٹھہر کر گزرا تھا۔اس نے اعوان سے محبت نہیں کی تھی بالکل اسی طرح جس طرح گلفام کی بے تحاشہ چاہتیں اس کو موم نہ کر سکی تھیں۔ گلفام یا اعوان اس کو کسی سے محبت نہیں تھی۔
وہ صرف پیسے سے محبت رکھتی تھی  راتوں رات امیر ترین بن جانے کی چاہ تھی اس کو اور اپنے ان خوابوں کی تعبیر اس کو اعوان کے ذریعے پوری ہوتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی اور اس نے یہ سوچ لیا تھا وہ جلدی از جلد اس سے کورٹ میرج کرکے اس گھر کو چھوڑ دے گی۔

اسے نہ اس گھر سے محبت تھی اور نہ ہی یہاں بسنے والے اپنوں سے کوئی انسیت تھی  وہ غریب اور قدامت پسند لوگ تھے۔
اس کے دل میں خوف تھا اعوان وہاں جا کر اسے بھول نہ جائے اسی وجہ سے وہ اس سے کورٹ میرج کرنے پر راضی کر رہی تھی اور وہ راضی بھی ہو گیا تھا مگر ساحر نے وہاں ٹانگ اڑا دی تھی اور وہ اس سے بہت سارے وعدے لے کر چلا گیا تھا۔

(جاری ہے)

”آپا! یہ رخ کیوں دن بدن گم صم رہنے لگی ہے؟ کیا ہوتا جا رہا ہے اس کو؟“ کچن میں کھانا بناتیں ثریا نے فاطمہ سے کہا۔

وہ دونوں کتنی دیر سے ماہ رخ کو نیم کے پیڑ کے نیچے بیٹھے دیکھ رہی تھیں۔ جو گرم شال سے بے نیاز کب سے وہاں بیٹھی تھی۔
”ثریا! تم میری دیورانی بعد میں ہو  بہن پہلے ہو میں کہتی ہوں جتنا پڑھنا تھا اس نے پڑھ لیا۔ منگنی کا خیال چھوڑو ہم شادی کر دیتے ہیں ان دونوں کی  میرا دل تو یہی کہتا ہے۔“
”آپا! میرا بھی یہی خیال ہے مگر گلفام کہہ رہا تھا اس کی نوکری شپ پر لگنے والی ہے  وہاں سے بہت اچھی اس کو تنخواہ ملے گی اور وہ چاہتا ہے پہلے وہ کسی مہنگے علاقے میں بنگلہ لے گا پھر گاڑی  ساری سہولیات ملنے کے بعد ہی وہ شادی کرے گا۔

”شپ پر؟ وہاں کام کرنے کیلئے بہت پڑھنا پڑتا ہے ثریا!“ ان کے لہجے میں حیرت اور خوشی تھی۔
”چپکے چپکے تیاری کرکے امتحان دے کر آیا ہے اور مجھے بھی کہہ رہا تھا  میں کسی کو بتاؤں نہیں  کیپٹن کی وردی پہن کر آؤں گا جب ہی سب کو خوش خبری سناؤں گا۔“”یہ تو بہت خوشی کی بات ہے اللہ جلدی وہ دن لائے۔“
###
معید کے ساتھ وہ راحیل کے فلیٹ آیا تو وہ بند ملا۔

ان کو ناکام ہو کر واپس آنا پڑا۔ طغرل کا موڈ بری طرح بگڑ گیا تھا۔
”آئم سوری یار! تم کو یہاں ایک کے بعد ایک ٹینشن مل رہی ہے۔ میں کہتا ہوں اس سارے معاملے کو فیاض ماموں سے اب چھپانا نہیں چاہئے  ان کو موقع دیکھ کر سب سمجھا دو وہ ہم سے بہتر فیصلہ کریں گے۔“ معید نے ایک کافی شاپ میں کافی پیتے ہوئے مشورہ دیا تھا۔
”مجھے انکل کو بتانا ہوتا تو بہت پہلے ان کو بتا دیتا مگر میں نہیں چاہتا ان کو ایسا ذلت آمیز صدمہ ملے اور وہ کسی کے آگے نگاہیں اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔

”یہ بات تو ہے فیاض ماموں جیسا نفیس اور خود دار بندہ میں نے نہیں دیکھا۔ چھوٹے ہوں یا بڑے وہ سب سے ہی خلوص و اپنائیت سے ملتے ہیں۔ سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں  سب کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچتے ہیں سب کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں اور ان کے اپنے گھر میں اندھیرا پھیل رہا ہے۔“
”آف کورس یار! یہ تم پرفیکٹ کہہ رہے ہو اور تم فکر مت کرو  عائزہ جیسی لڑکیاں صرف ایک بار محبت نہیں کرتی ہیں۔

ان کو جتنی بار موقع مل جائے۔ یہ اسی طرح بی ہیو کرتی ہیں اور جب شادی ہو جائے تو سب بھلا کر میاں کو پیاری ہو جاتی ہیں۔“ سعید کے لہجے میں تمسخر زدہ سچائی تھی۔
”یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟ وہ جتنی کریزی ہو گئی ہے میں نہیں سمجھتا کہ وہ اس کو بھول سکے گی معید!“ طغرل کو رتی بھر یقین نہ آیا تھا کہ اس نے عائزہ کی دیوانگی دیکھی تھی۔
”ارے میرے بھائی! ہمارے یہاں کی لڑکیاں بے حد ایڈونس ہو گئی ہیں  مشرقی روایات کو بھول کر مغربی انداز کی تقلید کرنے لگی ہیں اور تم تو جانتے ہی ہو مغربی اقدار نے وہاں کی عورت سے آزادی کے نام پر عزت و وقار  انا و تقدس سب چھین لیا ہے۔

یہاں بھی یہی چلن فروغ پا رہا ہے لڑکیاں منگنی شدہ ہونے کے بعد بھی بوائے فرینڈ رکھتی ہیں پھر یہی ہوتا تو نہیں اور سہی…“
”ہم مسلمان ہیں  یہ مسلم معاشرہ ہے ہماری روایات نہیں ہیں یہ سب۔“
”چھوڑو یار! اندھوں کے شہر میں آئینہ کوئی نہیں خریدے گا۔“
”تم کبھی فاخر سے ملے ہو؟ بائی نیچر کیسا بندہ ہے وہ؟“
”کئی بار ملا ہوں  بہت پرخلوص اور رعب داب والا بندہ ہے وہ۔

عائزہ کو بہت اچھی طرح ہینڈل کر لے گا  تم فکر مت کرو۔“ معید اس کی کیفیت سمجھ رہا تھا۔
”اچھا بتاؤ… پری کا کیا حال ہے  خاصے دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی ہے اس سے۔ اب تو لڑائی شڑائی نہیں ہو رہی ہے اس سے تمہاری۔“ اس نے مسکراتے ہوئے موضوع بدل ڈالا تھا۔
”وہ اپنی نانو کے ہاں گئی ہوں ہے دو دن سے۔“
”تم سے لڑ کر تو نہیں گئی ہے  لگ تو ایسا ہی رہا ہے مجھے…؟“ پری کے نام پر اس کے چہرے پر رنگ دیکھ کر وہ پوچھنے لگا تھا۔

”جا کر معلوم کر لو اسی سے… ویسے بھی بہت بڑے حمایتی ہو اس کے تم۔“ وہ کافی پیتا ہوا اطمینان سے گویا ہوا۔
”ویسے ایک بات بتاؤں تمہیں؟“ وہ شوخ لہجے میں گویا ہوا۔“ یہ ہر وقت لڑنا جھگڑنا بھی محبت ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔“
”اچھا… بہت تجربہ ہے تمہیں؟“ جواباً وہ بھی شوخی سے استفسار کرنے لگا تھا  معید ہنس پڑا تھا۔
”ہوں… کہہ سکتے ہو تم!“
”رات گہری ہو رہی ہے اٹھ جاؤ  اگر دادی جان تہجد پڑھنے کیلئے اٹھ گئی ہوں گی تو پریشان ہو جائیں گی مجھے اس وقت گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر۔

“ دونوں کافی شاپ سے اٹھ گئے تھے۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو دادی ابھی بیدار نہیں ہوئی تھیں۔ البتہ اس کے روم والی گیلری میں عادلہ موجود تھی۔
”تم… اس وقت؟“ وہ اسے دیکھ کر غصے سے بولا۔ ”تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ تم سوتی کیوں نہیں ہو؟“
”طغرل بھائی پلیز! مجھے معاف کر دیں  مجھے کل رات کو آپ کے روم میں نہیں آنا چاہئے تھا  بہت شرمندہ ہوں میں آپ سے۔

“ وہ آہستگی سے کہہ رہی تھی۔
”اٹس اوکے  جاؤ! میں ناراض نہیں ہوں تم سے مگر آئندہ خیال رکھنا  میں بار بار معاف نہیں کرتا۔“ وہ کہہ کر چلا گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
###
اسلام آباد میں نانو کے کسی قریبی عزیزکی وفات ہو گئی تھی  مرحوم خاتون کی خاص رشتے داری صفدر جمال سے بھی تھی۔ ان کو فلائٹ نہ مل سکی تھی انہوں نے کال کرکے مثنیٰ کو جانے کیلئے کہا تھا  اب وہ دونوں پری کی وجہ سے پریشان تھیں کہ وہ ان کے ساتھ جانے کو تیار نہ تھی۔

”پری! بیٹا ساتھ چلیں ناں  ہم اسی ہفتے میں واپس آ جائیں گے۔“ مثنیٰ نے اصرار کیا وہ کئی بار کہہ چکی تھیں مگر وہ اجنبی لوگوں میں اور وہ بھی ایسی سوگوار فضا میں جانا نہیں چاہتی تھی۔
”آپ میری فکر نہ کریں ممی! میں دادی جان کے پاس واپس چلی جاؤں گی  وہ میرا انتظار کر رہی ہیں۔“
”مگر… آپ تو یہاں بہت سارے دن رہنے آئی تھیں۔

“ اسے محسوس ہوا ممی کہنا چاہ رہی ہیں  تم تو وہاں کسی سے لڑ کر آئی تھیں اور اب ایک ہفتے میں ہی واپس جا رہی ہو۔
”سوچا ہوا کب پورا ہوتا ہے؟ سوچتے تو ہم بہت کچھ ہیں۔ میں اکثر سوچوں میں آپ کو اور پاپا کو اپنے ساتھ دیکھتی ہوں  کیا یہ سوچ میری پوری ہو سکتی ہے؟ نہیں ناں…؟“ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کو خود سے لپٹا لیا۔
”میں تمہاری مجرم ہوں پری! میں نے تمہیں پیدا کیا  مگر حق ادا نہ کر سکی  میں اب یہ نہیں کہوں گی کہ مجھے ادا کرنے نہیں دیا گیا  میں نے یہ فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔

”میں آپ کو ہرٹ نہیں کر رہی ہوں مما! میں تو صرف آپ کو اپنا خواب بتانا چاہ رہی تھی  اپنی تصوراتی دنیا آپ کو دکھانا چاہ رہی تھی  جس میں آپ اور پاپا میرے ساتھ ہیں وہ دنیا بہت ہی خوبصورت بے حد حسین ہے۔“ وہ ان کے سینے سے لگی بے تحاشہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”مت دیکھا کرو ایسے خواب میری جان! جن کی تعبیر میں صرف دکھ ہی دکھ ہو  مت سوچا کرو اتنا جو سائیکی بنا دے  اتنی سوچ  اتنی حساسیت دماغ پر برا اثر ڈالتی ہے۔

میری جان۔“ وہ دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کے آنسو صاف کر رہی تھیں۔ پردے کے پیچھے کھڑی عشرت جہاں خود کو ان کا مجرم سمجھ رہی تھیں۔
###
دادی جان کا آج صبح سے موڈ خراب تھا۔ پہلے ملازمہ کو خوب سنائیں  روم کی دو مرتبہ صفائی کرائی ہے پھر اس کی ڈسٹنگ پسند نہیں آئی  واش روم کا فرش بار بار رگڑوایا اب کپڑے دھونے والی کی شامت آئی ہوئی تھی۔

عائزہ نے لاؤنج میں آکر جھٹکے سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے منہ بنا کر کہا۔
”وہ نوابزادی وہاں جا کر بیٹھ گئی ہے اس کو دادی کا خیال نہیں آ رہا ہے اور ادھر یہ اس کی یاد میں دوسروں پر برس رہی ہیں۔“ عادلہ نے بھی بے زاری سے کہا۔
”میرا بس چلے تو دادی کو کسی اولڈ ہاؤس چھوڑ کر آ جاؤں۔“
”اچھا…! اور ڈیڈی تمہیں کہاں چھوڑ کر آئیں گے اس کا پتا ہے اور وہ طغرل جو دادی کا سب سے بڑا چمچہ ہے وہ تمہارا کیا حشر کرے گا  تم تصور بھی نہیں کر سکتیں۔

“ ایک ہی دم عادلہ کو طغرل کا خیال آیا تو وہ گھبرا کر بولی۔
”ہونہہ… مجھے ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے  میں تو کہتی ہوں وہ یہاں سے دفع ہی ہو جائیں تو اچھا ہے آئے بڑے خدائی فوجدار بن کر۔“
”تمہیں تو ذرا بھی لحاظ و مروت نہیں ہے عائزہ!“ عادلہ کو طغرل کے خلاف اس کی بدتمیزی ذرا نہ بھائی تھی۔
”نامعلوم کسی مٹی سے بنی ہو تم؟ تمہاری کتنی بے عزتی کرکے اس نے بیڈ روم سے نکالا تھا اور تم… پھر بھی اس کی حمایت لے رہی ہو  بہت ہی بے غیرت لڑکی ہو تم۔

”ارے زبان کو لگام دو لڑکی! کس ٹھسے سے بڑی بہن کو بے غیرت کہہ رہی ہو تم؟ یہی تربیت ہے ہمارے گھرانے کی؟ اور عادلہ نے ایسا کیا کر دیا جو تم یوں منہ پھاڑ کے اس کو بے غیرتی کا طعنہ دے رہی ہو؟“ وہ آپس کی تو تو میں میں  میں دادی کو اندر آتے دیکھ نہ سکی تھیں۔ جن کے کانوں میں ان کا آخری جملہ پڑ گیا تھا۔
”اوہ… دادی! میں مذاق کر رہی تھی عادلہ سے۔

“ وہ مسکراتی ہوئی بات بنا کر بولی۔
”جی ہاں دادی… عائزہ تو ایسے ہی مذاق کر رہی تھی۔“
”اچھا… تم لوگ مذاق بھی کتنی سنجیدگی سے کرتی ہو پھر مذاق ہی سہی مگر تم نے بڑی بہن کو بے غیرت کیوں کہا؟“
”غلطی ہو گئی دادی جان! پھر کبھی ایسا نہیں ہوگا۔“
عائزہ کی زبان جو ماں اور بہن کے سامنے بنا لحاظ کے قینچی کی طرح چلتی تھی۔

دادی کے سامنے وہ بول نہیں پا رہی تھی۔
”بول کر دکھائے  اپنے ہاتھوں سے تمہاری زبان کتر دوں گی قینچی سے۔ لو بھلا ہماری سات پشتوں میں کسی نے یہ لفظ ادا نہیں کیا اور یہ جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش کیا لمبی زبانیں کرکے بیٹھی ہیں  بڑوں کا کوئی ادب ہی نہیں ہے ان کی نظروں میں۔“
”دادی جان! آپ غصہ نہ ہوں  میں آپ کیلئے چائے بنا کر لاتی ہوں  آپ اپنے کمرے میں چلیں۔

“ عائزہ کو ان سے جان چھڑانے کی ایک یہی ترکیب سمجھ آئی۔
”چائے مزاج کی طرح کڑوی کسیلی نہیں بنانا عائزہ۔“
وہ کہہ کر چلی گئیں اور ان کی جان میں جان آئی کہ انہوں نے پوری بات سن لی ہوتی تو پھر کیا حال ہوتا ان کا؟
###
”طغرل بیٹا! آپ فری ہو کیا؟“ وہ آفس سے نکلنے ہی والا تھا کہ فیاض صاحب کی کال آ گئی تھی۔
”جی انکل! آفس سے نکل رہا ہوں  کوئی کام ہے؟“ اس نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا تھا۔

”جی  پری کی کال آئی ہے وہ گھر آنا چاہتی ہے شوفر میرے ساتھ ہے  میں کراچی سے باہر ہوں رات ہو جائے گی واپسی پر۔ آپ پری کو پک کر سکتے ہیں  اس کی نانو کے گھر سے؟“
”شیور انکل!“ اس کے وجہیہ چہرے پر دلکش مسکراہٹ ابھری تھی۔ (گڈ! تو محترمہ واپس آ رہی ہیں؟“)
”انکل میں گھر ہی جا رہا ہوں  پک کر لوں گا پری کو۔“
”تھینکس بیٹا! آپ کو ٹائم تو ویسٹ کرنا پڑیگا کیوں کہ وہ آفس سے بالکل اپازٹ ہے مگر…“
”ایسی بات نہیں ہے انکل! آپ فکر مت کریں  میں جا رہا ہوں او کے گڈ بائے!“ سیل فون اس نے کوٹ کی جیب میں رکھا تھا اور بے حد مسرور انداز میں وہاں سے نکلا تھا۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط