Episode 35 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 35 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
آصفہ پھوپو کے بیٹے معید سے اس کی قریبی دوستی تھی۔ اسے یقین تھا کہ وہ بھید کو پانے میں اس کی مدد کرے گا اور گھر کی بات ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے کی سماعتوں تک پہنچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اب وہ دونوں ساحل پر بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ طغرل نے اس سے کچھ بھی نہیں چھپایا تھا ایک ایک بات  ایک ایک لفظ کہہ سنایا تھا جس نے معید کو بھی پریشان کر ڈالا تھا۔


”یہ تو ایک پراسرار سی بات ہے  گھر سے رات کی تاریکی میں ایک لڑکی نکلتی ہے پوری پلاننگ کے ساتھ اور غائب ہو جاتی ہے۔ نہ لڑکی کا پتا ہے اور نہ یہ معلوم کہ وہ کس کے ساتھ گئی ہے جب کہ گھر میں تینوں لڑکیاں بھی موجود ہیں۔“
”اور گھر میں موجود قیمتی سامان اور جیولری بھی چوری نہیں ہوئی ہے۔ پہلے میں پری کو سمجھا تھا مگر وہ مسئلہ آج حل ہو گیا پھر کون تھی وہ…؟ گھر کی ملازمہ بھی نہیں۔

(جاری ہے)

“ طغرل نے آتی جاتی لہروں پر نظریں جماتے ہوئے کہا۔
”مجھے دکھ ہے تم نے پری کو غلط سمجھا  تمہارا رویہ اس کے ساتھ ہمیشہ ہی خراب رہا ہے مگر آج تم نے حد ہی کر دی۔ جانتے ہو صباحت آنٹی اس کو گھر میں رکھنا نہیں چاہتی ہیں  ماموں جان اس کو مثنیٰ آنٹی کے پاس اس لئے رہنے کی اجازت نہیں دیتے کہ وہاں اس کا سوتیلا باپ ہے  جب یہاں آنٹی ایک عورت ہو کر اس کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں تو… تو پھر سوچ لو سوتیلا باپ  باپ نہیں ہوتا صرف مرد ہوتا ہے۔

“ معید نے گہری سانس لے کر آہستگی سے کہا۔ معید کا تجربہ سو فیصد درست تھا۔ مرد کی فطرت کیا ہے وہ بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ بھی ایک مرد تھا۔
”اچھا بس ختم کرو اب اس کو۔“ وہ اضطرابی انداز میں کھڑا ہو گیا۔
”تمہیں بھی اچھا نہیں لگا  نا مجھے بھی نہیں لگتا ہے جب آنٹی کی آنکھوں میں اس کیلئے نفرت دیکھتا ہوں  کسی کو بھی نہیں معلوم ہے پری سے میری بہت اچھی دوستی ہے  میں اکثر اس کو فون کرتا ہوں  تحائف دیتا ہوں۔

مگر بہت چھپ کر۔“
”چھپ کر کیوں؟ یہ اچھی دوستی نہیں ہے  خلوص نہیں ہے۔۔“
”صباحت آنٹی کو بھنک بھی پڑ گئی تو میرا کچھ نہیں ہوگا  شامت بے چاری پری کی آ جائے گی  جو میں کسی صورت نہیں چاہتا۔“
”تم اس سے محبت کرتے ہو یا وہ تم سے محبت کرتی ہے؟“ نامعلوم اس وقت کیا تھا اس کی آنکھوں میں  معید چند لمحے اس کو دیکھتا رہا تھا پھر کچھ توقف کے بعد ہنسنے لگا۔

”ضروری نہیں دو کزنز ایک دوسرے سے محبت کریں تو وہ محبت لیلیٰ مجنوں والی محبت ہی ہو  محبت کے اور بھی ہزاروں پاکیزہ روپ ہیں۔“
”میرا دل کہتا ہے تمہاری یہ ”مسٹر لیلیٰ“ ہی اس پر اسرار مسئلہ کو حل کروائیں گی  مگر مجھے معلوم ہے وہ میرا ساتھ کبھی بھی نہیں دے گی۔“ آئندہ گھنٹہ وہ سر جوڑ کر کوئی پلاننگ کرنے لگے  معید کار لے کر چلا گیا تو طغرل اس ہٹ کی طرف آ گیا جو معید نے حال میں خریدا تھا۔

کارفراٹے بھرتی آ رہی تھی ساتھ ساتھ چلتا سمندر خوبصورت لگ رہا تھا۔ معید نے ایک خوبصورت ہٹ کے قریب کار روکی تو پری نے کہا وہ اسے یہاں کیوں لایا ہے؟
”آؤ نا! موسم بہت اچھا ہے پھر ایک خاص بات کرنی ہے۔“ وہ کار سے نکل کر ہٹ کی طرف بڑھ رہے تھے جو قریب ہی تھا۔
”تمہیں معلوم ہے مما کو معلوم ہو گیا تو…“
”نانو سے کہہ کر آیا ہوں  وہ معلوم ہونے نہیں دیں گی۔

“ اس نے ہٹ میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
”ہٹ تو بہت خوبصورت ہے مگر یہ تو بتاؤ  بات کیا ہے آخر؟“ وہ دونوں اندر ایک کوریڈور سے گزر کر بڑے کمرے میں پہنچے تھے۔ وہ لیونگ روم تھا جو بہت دلکش انداز میں ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔ وہ ستائشی نظروں سے دیکھتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی کمرے میں بھاری پردوں کے باعث نیم تاریکی تھی۔
”یہاں اتنے بھاری پردے ڈالنے کی ضرورت ہی کیا تھی معید!“ گیٹ بند ہونے کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا  معید غائب تھا۔

اس کا دل دھڑکنے لگا۔
”معید نے یہ کیا حرکت کی؟“ ابھی وہ گیٹ تک جانا ہی چاہ رہی تھی کہ چٹ کی آواز سے پورا کمرا روشن ہو گیا اور سامنے اطمینان سے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ سہم کر بولی۔
”آپ…! یہاں…؟“
###
طغرل اس کے سامنے کھڑا تھا۔
بلیو جینز اور سفید شرٹ میں اس کے وجیہہ چہرے پر ایک اضطراب تھا۔ کنچوں کی طرح چمکتی براؤن آنکھوں میں بے چینی سمندر میں اٹھتی لہروں کی طرح ہلچل مچا رہی تھی۔

”یس!“ اسے حیران و پریشان دیکھ کر طغرل نے کہا تھا پھر آگے بڑھ کر پردے ہٹا دیئے تھے۔ سامنے شیشے کی دیوار تھی  جس سے بپھرا ہوا سمندر صاف نظر آ رہا تھا۔ ”بیٹھ جاؤ! کب تک کھڑی رہو گی؟“ اس کو ساکت کھڑا دیکھ کر وہ بولا۔
”یہاں آپ ہیں؟ معید نے آپ کی یہاں موجوگی کا نہیں بتایا  اس نے کہا کہ دونوں پھوپو اور کزنز یہاں موجود ہیں۔

“ طغرل کی یہاں موجودگی اور معید کا اس طرح دھوکے سے لاکر یہاں چھوڑ جانا اس کے حواسوں پر بجلی بن کر گرا تھا۔ وہ دروازے سے کچھ فاصلے پر گم صم سے انداز میں کھڑی رہی پھر اس کی آواز اس کو حواسوں میں لائی تو بے ربط انداز میں بولی۔
”میں نے ہی کہا تھا اس کو۔“ اس کا لہجہ پر اعتماد تھا۔
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ# مگر بنا نہ گیا
سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانہٴ درد
سمجھ میں آنے لگا جب تو سنا نہ گیا
”کیوں…؟ آپ کون ہوتے ہیں مجھے اس طرح دھوکے سے بلوانے والے؟“ پری کا لہجہ ہی نہیں آنکھیں بھی آگ برسا رہی تھیں۔

”سچ سن کر تم آتی نہیں۔“ وہ اس کے غصے سے مرعوب نہیں لگ رہا تھا۔
”مگر کیوں…؟“ اس کے لہجے میں الجھن تھی  غصہ اس کو معید پر بھی آ رہا تھا جس سے اس کی دوستی بہت پر اعتماد اور پرانی تھی  وہ بے لوث و پرخلوص طبیعت کا مالک تھا۔ آج بھی دادی جان سے اجازت لے کر اسے لے آیا تھا اور…!
”تم بیٹھو گی تو بات ہو گی ورنہ اتنے خراب موڈ کے ساتھ بات نہیں ہو سکتی۔

”کیا بات کرنا چاہتے ہیں آپ مجھ سے… اور کیوں…؟“
”اس طرح کے احمقانہ سوالات کرنے سے بہتر ہو گا کہ تم بیٹھ کر ٹھنڈے دماغ سے میری بات سنو۔“ وہ بھی زیادہ دیر خود کو پابند نہ رکھ سکا تھا۔
”میں نے آپ سے کہا تھا نا! مجھے آپ کی بات نہیں سننی ہے۔ آپ کے کسی بھی غم  خوشی یا پریشانی سے مجھے رتی بھر بھی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی میں دلچسپی رکھنا چاہتی ہوں آپ کے پرابلم حل کرنے میں۔

“ وہ جتنی اس سے نفرت کرتی تھی  جس قدر اس کو ناپسند کرتی تھی  وہ سب اظہار اس کی آنکھوں سے  لہجے اور انداز سے عیاں ہو رہے تھے اور وہ جس نے آنکھ کھولتے ہی خود کو سب کی نگاہوں کا مرکز پایا تھا  اپنے اور غیر سب اس کو چاہتے تھے  بچپن سے اب تک جس نے محبت ہی محبت سمیٹی تھی۔ آج وہ اپنے لئے اس کی نفرت اور ناپسندیدگی پر دنگ رہ گیا تھا۔ وہ بے یقین نگاہوں سے اپنے سے چند فٹ کے فاصلے پر کھڑی اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو اس کی کزن تھی۔

دبلی پتلی  اونچی ناک اور بڑی بڑی آنکھوں پر سیاہ دراز پلکیں سجائے وہ لڑکی جس کی سفید رنگت میں سرخی کے بجائے زردیاں گھلی ہوئی تھیں۔ جس کے مزاج میں شگفتگی کی جگہ تلخی و بے زاری تھی۔ جو ہر ایک سے خفا اور روٹھی روٹھی رہتی تھی۔ جو کل بھی اسی کی مخالف تھی اور آج بھی…! اور آج اس لڑکی نے اس کو یہ احساس دلایا تھا کہ اپنے لئے کسی کی ناپسندیدگی اور نفرت دیکھ کر کیسا احساس ہوتا ہے… خاصی دیر تک وہ اپنے اندر پیدا ہونے والے منفی احساسات سے نبرد آزما رہا تھا  دیر لگی تھی اسے خود کو یہ یقین دلانے کیلئے کہ ممکن ہے اس لڑکی کیلئے وہ قابل نفرت ہو  جو خود اپنے سکون کی محبتوں سے محروم ہے۔

ایک گہری سانس لے کر وہ اسی کو غور سے دیکھنے لگا۔ جو پندرہ منٹ گزرنے کے باوجود اسی جگہ کھڑی تھی  اپنی جگہ سے وہ ایک انچ بھی نہیں ہلی تھی  چہرے پر وہ ہی سرد تاثرات تھے۔
”تم اتنی ضدی کیوں ہو؟“ وہ آہستگی سے گویا ہوا۔ پری خاموش کھڑی رہی گویا سوال اس سے نہیں دیواروں سے کیا گیا ہو۔ ”ضد کرنے والے نقصان میں رہتے ہیں اور بلاوجہ کے ضدی تو تباہ ہو جاتے ہیں۔

”میری فکری کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو…“ لٹھ مار انداز میں جواب دیا  اس کی یہ اکڑ طغرل کو مزا دینے لگی۔
”مجھے تو فکر کرنی پڑے گی تمہاری۔ تم میرے ماموں کی بیٹی ہو اور مجھے اپنے ماموں سے بہت محبت ہے۔“ وہ اب صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ وہ ہنوز کھڑی رہی۔ “پلیز! بیٹھ تو جاؤ  میں تمہیں ہڑپ تو نہیں کر جاؤ ں گا۔“ اس کو پھر خاموش دیکھ کر وہ نرمی سے گویا ہوا۔

”معید کو بلائیں  وہ کہاں ہے؟ میں یہاں اب ایک منٹ بھی نہیں ٹھہروں گی۔“
”معید آ رہا ہوگا وہ کھانے پینے کیلئے سامان لینے گیا ہے۔“ اس کے کہنے پر وہ کچھ آگے بڑھ کر سنگل صوفے پر بیٹھ گئی۔ آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا اس کو کھڑے کھڑے معید نہیں آیا تھا۔ اس کی ٹانگیں بھی شل ہونے لگی تھیں۔
محبت ایک ایسا بندھن ہے۔ جب بندھ جائے تو دو اجنبیوں کو بھی اپنائیت و قربت کی ڈور سے ایک کر دیتی ہے پھر زبان خواہ خاموش رہے بھی تو آنکھیں بولنے لگتی ہیں  سانسیں ایک دوسرے کی موجودگی کا پتا دیتی ہیں اور احساسات ہجوم بن کر خاموشی کو مٹا دیتے ہیں اور جہاں دلوں میں نفرت و انا کی دراڑیں پڑ جائیں وہاں اپنے بھی اجنبی بن جاتے ہیں پھر نہ لب ہلتے ہیں نہ آنکھیں پیام دیتی ہیں  ایک دوسرے کی سانسوں کے زیرو بم سے بھی نا آشنائی رہتی ہے اور دو انسانوں کی موجودگی میں بھی خاموشی پر پھیلائے گھومتی ہے۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط