Episode 144 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 144 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
جو اس کے چہرے پر رنگ حیا ٹھہر جائے
تو سانس‘ وقت‘ سمندر ہوا ٹھہر جائے
وہ مسکرائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسم
وہ گنگنائے تو باد صبا ٹھہر جائے
”یہ… ایسا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے؟“ اس کے چہرے کی سنجیدگی و پر اعتماد لہجہ اس کے پختہ فیصلے کے گواہ تھے  وہ سخت پریشان دیکھ بدحواس دکھائی دینے لگی تھی۔
”ناممکن کو ممکن جذبے بناتے ہیں ، کیا تم کو میری محبت پر یقین نہیں ہے یا جذبوں میں کوئی کھوٹ نظر آ رہا ہے جو تم اس قدر بدحواس ہو گئی ہو پارس؟“
”ایسا کچھ نہیں ہے ، لیکن میرے خیال میں آپ کا ایٹی ٹیوڈ بے حد سیلفش ہے اس فیصلے میں ، میں آپ کا ساتھ نہیں دوں گی۔

“ وہ قطعیت بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
”کیا…“ اس نے اچانک سے بریک لگائے اور بریک لگنے سے ٹائرز کی چرچراہٹ سے سرد خاموشی میں زور دار آواز گونج اٹھی تھی۔

(جاری ہے)

”کیا کہا تم نے،تم میرا ساتھ نہیں دوں گی؟“ اس کی آواز خاصی بلند تھی۔
”اوہ مائی گاڈ!“ اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے بے ساختہ کہا تھا۔
موسم میں سردی کی ٹھٹھرا دینے والی خنکی بتدریج بڑھ چکی تھی اور سرد ہواؤں نے پرندوں کو سرشام ہی گھونسلوں میں دبکنے پر مجبور کر دیا تھا تو انسان بھی گرم بستروں میں پناہ لئے ہوئے تھے سڑک پر بھی ٹریفک موجود نہ تھا اور وہ عین سڑک کے درمیان کا روک چکا تھا۔

”ابھی کوئی دوسری گاڑی سڑک پر موجود ہوتی تو ایکسیڈنٹ ہو جانا تھا۔“ وہ اس کی طرف دیکھ کر بولی جو برہمی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
”مجھے پروا نہیں ،تم یہ بتاؤ ابھی کیا کہا تم نے۔ تم میرا ساتھ نہیں دوں گی ،اس کا کیا مقصد ہوا؟ میں تم کو سیلفش نظر آ رہا ہوں؟ اپنا حق مانگنا ،اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا خود غرضی ہوتی ہے؟“ وہ سرد مہری سے پوچھ رہا تھا۔

”آپ غصہ کرنے کی بجائے میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔“
”تم شاید میرے لئے سیریس رہنا ہی نہیں چاہتی ہو ،تب ہی اس طرح کہہ رہی ہو۔“
”آپ مجھے سمجھنے کا دعویٰ تو بے حد کرتے ہیں پر شاید اپنے دعوے پر یقین آپ کو بھی نہیں ہے۔“ وہ گردن جھکا کر آہستگی سے گویا ہوئی۔
”یقین ہے تب ہی تو میں تمہارے برے برتاؤ کے باوجود بھی تم سے نا امید نہیں ہوا اب تک۔

“ اس نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
”پھر اتنی جلدی کرنے کی کیا ضرورت ہے آپ کو؟“
”تھی نا ضرورت۔“ اس کے سنجیدہ چہرے پر شوخ مسکراہٹ چمکی تھی۔
”تم پر یقین ہے ،اعتبار نہیں۔ نامعلوم کب تمہارا ارادہ بدل جائے مجھ سے محبت کرنے کا اور میں آہیں بھرتا بھرتا ہی مر جاؤں گا۔“ اس نے جواب دینے کیلئے منہ کھولا ہی تھا مگر اس کی آنکھوں میں دلآویز جذبوں کی چمک ایک گہری سرخی سی اس کے چہرے پر ابھر آئی تھی اس نے سٹپٹا کر نگاہیں جھکالی تھیں۔

”مجھ سے ایک وعدہ کرو پارس!“ اس کی بھاری آواز میں از حد سنجیدگی ابھر آئی تھی پری کے انداز میں بھی سنجیدگی بڑھنے لگی تھی۔
”خواہ کچھ بھی ہو جائے ،ہمارے ملن کی راہ میں کتنی رکاوٹیں و دشواریاں پیدا ہو جائیں تم میرا ساتھ نہیں چھوڑو گی ،تم ہمت نہیں ہارو گی۔“
”یہ سب اتنا آسان بالکل نہیں ہے آپ سمجھنے کی کوشش کریں پلیز۔

”مجھے صرف تمہارا ساتھ چاہئے پھر کسی کی بھی پروا نہیں ہے۔“
###
آج موسم بے حد سرد تھا ،صبح ہونے والی بارش نے سردی میں مزید اضافہ کر دیا تھا ،بارش رک چکی تھی لیکن ہواؤں نے شدت اختیار کر لی تھی۔ موسم کی سختی سے بے پروا شیری ٹراؤزر اور سلیویس ٹی شرٹ میں ملبوس لان چیئر پر بیٹھا تھا۔ وہ رات بھر سو نہیں پایا تھا مما کی ضد نے اس کو سخت مضطرب کر دیا تھا اپنے اور عادلہ کے تعلقات کی خبر مما کو ہو جانے پر اس کو وقتی طور پر ملال اور شرمندگی میں مبتلا کر گیا تھا مگر وہ اپنی غلطیوں پر زیادہ تک پشیمان ہونے والا شخص نہ تھا سو اس وقت اس نے ان سے معافی مانگ لی تھی اور سوچا تھا وہ اس کی خطا بھلا کر اب پری کا رشتہ لینے چلی جائیں گی اور یہ محص اس کی صرف سوچ ثابت ہوئی تھی۔

مسز عابدی اپنے فیصلے سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہ تھیں پھر اس کی کوئی دھمکی ،کوئی دھونس ان کو زیر نہ کر سکی تھی وہ عادلہ کو بہو بنانے کا عزم کر چکی تھیں گو کہ طبیعت کی خرابی کے باعث وہ ابھی تک جا نہ سکی تھیں اور شدت سے اپنی صحت یابی کیلئے دعا گو تھیں۔
”چھوٹے صاحب اتنی سخت سردی میں آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں ،کوئی گرم کپڑا بھی آپ نے پہنا ہوا نہیں ہے اس طرح تو آپ بیمار پڑ جائیں گے۔

“ ملازم رجب جو کسی کام سے وہاں آیا تھا شیری کو دیکھ کر موٴدب لہجے میں بولا جواباً شیری نے چند لمحوں تک اس کو گھور کر دیکھنے کے بعد کہا۔
”ڈیم اٹ! تم کو کہا ہے اپنے کام سے کام رکھا کرو ،مجھ پر اپنی بکواس تھونپنے کی اسٹپوپڈ سی کوشش مت کیا کرو۔“ اس کا لہجہ حقارت آمیز تھا۔
”میں اپنی اوقات جانتا ہوں صاحب! پاؤں کی جوتی کبھی سر پر نہیں سج سکتی۔

“ رجب نے خوف سے کانپتے لہجے میں ہاتھ جوڑ کر کہا۔
”پھر کیوں بکواس کر رہے ہو؟ جاؤ دفع ہو یہاں سے۔“
”میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں صاحب! اندر چلیں اگر بیگم صاحبہ نے آپ کو اس طرح بیٹھے ہوئے دیکھ لیا تو وہ پریشان ہو جائیں گی۔ بڑے صاحب نے سختی سے منع کیا ہے بیگم صاحبہ کو کسی قسم کی ٹینشن دینے کو۔“ اس کے تیور دیکھنے کے باوجود وہ حق نمک نبھا رہا تھا۔

”ہوں… اچھا ٹھیک ہے ممی کیا کر رہی ہیں؟“ وہ اٹھتے ہوئے کچھ نرم لہجے میں پوچھنے لگا۔
”وہ صاحب کو کال کر رہی ہیں ان کو فیاض صاحب کے ہاں جانا ہے۔“ رجب کہہ کر آگے بڑھ گیا تھا جب کہ وہ پہلے تو چند لمحے کھڑا سوچتا رہا پھر تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا۔
”ممی… ممی کہاں جا رہی ہیں آپ؟“ وہ سیدھا ان کے روم میں چلا آیا جہاں مسز عابدی موبائل پکڑے بیٹھی تھیں۔

”بتایا تو تھا آپ کو فیاض بھائی کے ہاں جاؤں گی۔“ انہوں نے گزشتہ ایک ہفتے سے اس سے بات چیت بند کر رکھی تھی ،عابدی صاحب کے خیال سے اس کی ضروری باتوں کا جواب دے دیا کرتی تھیں۔ اس وقت بھی انہوں نے قدرے رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھے بنا جواب دیا تھا۔
”عابدی کال ریسو نہیں کر رہے ہیں موبائل آف جا رہا ہے ان کا۔“
”میٹنگ میں ہوں گے پاپا! آپ کو معلوم ہے وہ میٹنگ کے دوران موبائل آف رکھتے ہیں ،فری ہوتے ہی آن کر دیں گے۔

”کب سے ٹرائی کر رہی ہوں خود ہی تو کہہ رہے تھے ،دوپہر کے بعد فون کرکے ان کو یاد دلا دوں کہ فیاض بھائی کے گھر جانا ہے۔“ وہ دانستہ اس سے رخ موڑے ہوئے تھیں۔
”ممی! آپ خاصی خفا دکھائی دے رہی ہیں ،رئیلی آپ مجھ سے اس قدر بدظن ہو چکی ہیں کہ میری شکل بھی دیکھنے کی روا دار نہیں ہیں؟“ وہ ان کے قریب جا کر آہستگی سے گویا ہوا۔
”پہلے جا کر اپنا حلیہ درست کریں ،مجھے تکلیف دے کر آپ کو خوشی ہوتی ہے“ وہ بیڈ پر بیٹھتی ہوئیں اس کی طرف دیکھ کر گویا ہوئیں۔

”وہ ایم سوری ممی! میں چینج کرکے آتا ہوں۔“ چند لمحوں بعد وہ سعادت مندی سے چینج کرکے آیا اور ان کے قریب بیٹھتا ہوا بولا۔
”اب خوش ہیں آپ ،میں گرم کپڑے پہن کر آ گیا ہوں۔“
”خوشیاں میری دسترس سے بہت دور جا سوئی ہیں ،خوشی نام کی چڑیا میرے ہاتھ میں آنے سے قبل ہی اپنا سارا رنگ و روپ کھو بیٹھی ہے۔“
”میں جانتا ہوں ممی! آپ کیسی ٹیپکل باتیں کر رہی ہیں ،خیر یہ بتائیں آپ فیاض انکل کے ہاں کیوں جا رہی ہیں؟“
”آپ کو معلوم ہے میں عادلہ کیلئے آپ کا پرپوزل لے کر جا رہی ہوں پھر بار بار پوچھنے کا مقصد کیا ہے؟“ وہ ناگواری سے بولیں۔

”میں نے آپ کو منع کیا ہے میں عادلہ سے…“
”شرم آنی چاہئے تمہیں شیری! اتنا آگے بڑھنے کے بعد بھی اس طرح ڈھٹائی سے اپنے رویئے پر شرمندہ نہ ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ اس طرح کی زندگی گزارنے کے عادی ہیں جو کچھ بھی ہوا وہ پہلی بار نہیں ہے ،آپ اس طرح کی گناہ آلود زندگی…“ باقی ماندہ الفاظ ان کے حلق میں اٹکے رہ گئے تھے شیری خاموش تھا۔

مگر اس کے چہرے پر پھیلے رنگ ان کے اندیشوں کے سچے ہونے کی گواہی دے رہے تھے وہ چہرہ شناس عورت تھیں۔
بیٹے کی غیر ملک میں ہونے والی تربیت و کردار کی پستی نے اپنے آپ کو عریاں کر دیا تھا اور وہ خود سے بھی نگاہ ملانے کے قابل نہ رہیں۔
”یہ کیا آپ گناہ ثواب کے چکر میں پھنسی رہتی ہیں ممی! ابھی تو عمر پڑی ہے جب بڑھاپا آئے گا تو گناہوں سے توبہ کر لوں گا۔

“ وہ شانے اچکاتا ہوا بے پروائی سے کہہ رہا تھا۔
”گناہ کی امید رکھ کر توبہ نہیں کی جانی شیری! پھر اس بات کی کیا گارنٹی ہے زندگی بڑھاپے پر ہی ختم ہو گی؟“
”آپ کا مطلب میں جوانی میں ہی مر جاؤں گا؟“ وہ متنفر انداز میں منہ بنا کر استفسار کرنے لگا۔
”میں آپ کو بددعا نہیں دے رہی بلکہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ ابھی بھی وقت ہے اللہ سے معانگ لیں آپ۔

”یہ میرا میٹر ہے آپ ٹینس نہ ہوں۔“ وہ رکھائی سے بولا۔
”میں تو آپ کی ہدایت کیلئے دعا ہی کر سکتی ہوں شیری وگرنہ عابدی کو ذرا بھی آپ کے کارناموں کی سن گن مل گئی تو آپ کو کھڑے کھڑے تمام پراپرٹی سے عاق کر دیں گے۔“
”آپ مجھے پراپرٹی کے نام سے بلیک میل کرنے کی کوشش نہیں کریں ،آپ عادلہ کو بھول جائیں میں شادی کروں گا تو صرف پری سے ،یہ میری بات سن لیں آپ ممی! اگر آپ نے ڈیڈ سے کہہ کر مجھ پر برڈن ڈالنے کی معمولی سی بھی کوشش کی تو…“
”کیا کریں گے ،گھر چھوڑ دیں گے؟ ہم کو چھوڑ دیں گے؟“ وہ اس کی بات قطع کرکے غصہ سے بولیں۔

”چھوڑ دیں ہمیں ایسی گمراہی و بے راہ روی کا شکار بیٹے کی ہمیں ضرورت بھی نہیں ہے۔“
###
دلربا کھانے کی ٹرالی لے جاتی ہوئی ذاکرہ کے پیچھے پیچھے خاموشی سے راہداری کے اس حصے تک آئی تھی جہاں ماہ رخ کا بیڈ روم تھا اور ذاکرہ کو دروازے کے قریب دیکھ کر وہ اسی طرح دبے پاؤں پلٹ جاتی ہے اس کے لبوں پر طمانیت آمیز مسکراہٹ تھی۔
چال میں بھی اعتماد و سرخوشی درآئی تھی اس کیلئے یہ تصور ہی بڑا سرور آمیز تھا کہ آج اس کی راہ کا کانٹا ہمیشہ کیلئے فنا ہونے والا ہے۔

ماہ رخ کی ارمانوں بھری موت اس کیلئے خوشیوں بھری زندگی تھی اپنے کمرے میں جاکر وہ بڑے دلفریب انداز میں تیار ہوئی اور غفران احمر کے من پسند سبز رنگ کا ہی رنگ کا سوٹ یب تن کرکے آنکھوں میں کاجل ،ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک ،بالوں میں گجرا اور خوشبو لگا کر وہ مٹک مٹک کر چلتی ہوئی غفران احمر کی خواب گاہ میں پہنچ جاتی ہے۔ غفران احمر جو کل کے سہانے سپنے کھلی آنکھوں سے دیکھنے میں مگن تھا دلربا کو دیکھ کر بے حد خوش ہو کر بولا۔

”آؤ آؤ دلربا! مجھے اس وقت تمہاری کمی محسوس ہو رہی تھی ،نیند تو آج رات آئے گی نہیں سوچا کسی سے باتیں ہی کی جائیں۔“
”زہے نصیب! آج بھولی بسری دلربا رئیس کو یاد آ گئی۔ یہ کنیز کی خوش نصیبی ہے۔“ وہ آداب بجا لائی۔
”آؤ یہاں بیٹھو دلربا!“ غفران احمر نے اس کو اپنے قریب بیٹھنے کا کہا۔
”ہمیں لگ رہا ہے تم کچھ دنوں سے ہم سے کوئی بات کہنا چاہتی ہو اور کہہ نہیں پا رہی ہو ،اب کہو کیا کہنا چاہتی ہو ہم سے؟“
”میں اب کیا کہوں آپ سے رئیس! کچھ کہنے سننے کا وقت گزر چکا ہے۔

“ وہ حسرت زدہ لہجے میں کچھ اس انداز سے گویا ہوئی تھی کہ غفران احمر جو اس وقت اس کو دیکھ رہا تھا اس کے لہجے میں پنہاں بے چینی بھانپ کر بارعب لہجے میں استفسار کرنے لگا۔
”جو کہنا ہے صاف کہو گھبراؤ نہیں ،ہم تم پر بے حد اعتبار کرتے ہیں۔“
”نوازش ہے بڑی آپ کی رئیس جو آپ کنیز کو اس قابل سمجھتے ہیں۔“
”ہوں ،پہلے ہمارے ساتھ کھانا تناول کرو پھر کھل کر کہنا جو بھی کہنا چاہتی ہو۔

“ ٹیبل پر لگے برتنوں کی طرف اشارہ کرکے وہ اٹھتا ہوا بول۔ دلربا مسکراتی ہوئی اٹھ گئی۔
وہ کھانا خاموشی سے کھانے کا عادی تھا دلربا بھی خاموشی سے اس کے ساتھ کھاتی رہی اس کی زبان پر چپ تھی مگر اندر بڑا شور تھا وہ ان لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی جو کسی شعلے کی مانند اس کی زبان سے نکلیں اور غفران احمر کے دل میں ماہ رخ کی محبت و چاہت کی لہلہاتی کھیتی کو جلا کر بھسم کر دیں۔

وہ ایک تیر سے دو شکار کرنے کا پروگرام بنا چکی تھی ایک طرف اس نے کھانے میں زہر ملا کر ماہ رخ کو بھجوا چکی تھی دوسری طرف وہ غفران احمر کو ماہ رخ اور اعوان کی محبت کی کہانی سنا کر ،اعوان کی یہاں کافی عرصہ سے ٹھہر جانے کی وجہ سے اس کو باخبر کرنے کا تہیہ کر چکی تھی۔ اس کو معلوم تھا غفران احمر کو بھڑکانے کیلئے اعوان کا نام ہی کافی ہو گا وہ ان دونوں کو زندہ نہیں چھوڑے گا اور ایسی صورتحال میں اس پر ماہ رخ کے قتل کا الزام بھی نہیں آئے گا ویسے تو اس نے بہت احتیاط سے اپنا کام کیا تھا لیکن پھر بھی چوری کرنے والے کے دل میں خوف ضرور ہوتا ہے جو اس کو وسوسوں میں مبتلا رکھتا ہے سو یہی حال اس کا بھی تھا۔

”اب کہو کیا کہنا چاہتی ہوہم سے؟“ کھانے سے فارغ ہو کر وہ آرام دہ چیئر پر بیٹھتے ہوئے گویا ہوا۔
”کس طرح زبان کھولوں ،چھوٹا منہ بڑی بات ہو جائے گی۔“ وہ اس کے قرب کھڑی ہو کر تذبذب لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
”دلربا! تم کو معلوم ہے ہم ان فضول چالاکیوں کو کبھی پسند نہیں کرتے قبل اس کے کہ ہم غصے میں تمام لحاظ و مروت بھول جائیں تم کوجو کہنا ہے وہ کہہ دو۔

“ اس کی آواز میں فیض و غضب ابھر آیا تھا دلربا کانپ اٹھی تھی۔
”رئیس!کیا آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ وہ اعوان صاحب محل میں اتنے عرصے سے کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں؟“ اس نے دھڑکتے دل سے گفتگو کی ابتداء کی۔
”ہاں اعوان! اپنی کاروباری کسی الجھن کی وجہ سے یہاں رکے تھے اب جانا ہی چاہتے تھے کہ ہم نے اپنی شادی کی…“ بات کرتے کرتے اچانک ہی غفران احمر کی حالت غیر ہو گئی۔

”ذاکرہ کھانا لگا کر گئی… تو کہہ رہی تھی قہوہ لے کر آ رہی ہے دیکھو وہ آئی کیوں نہیں…؟“ غفران احمر سینہ مسلتا ہوا گھبرائے لہجے میں گویا ہوا۔
”دل… ربا… یہ… کھانا… یہ کھانا… دل ربا…“ اس سے بھی جملے کی ادائیگی پوری طرح نہ ہو سکی تھی شدید ترین تکلیف سے وہ گر کر تڑپنے لگی تھی اس کی آنکھوں میں وحشت تھی چہرے پر اذیت پھیلتی جا رہی تھی۔

”کھانے میں… زہر… تھا؟“ غفران احمر کرسی سے اٹھ بھی نہ سکا اس کے گلے سے بھینچی بھینچی آواز نکلی وہ سخت اذیت و تکلیف میں مبتلا تھا۔
”ہاں… یہ کھانا… ما… رخ… کے…“ وہ اپنی آواز سے اور سانسوں سے محروم ہوتی گئی۔
کمرے کی فضا میں موت کا سکون پھیل گیا تھا ،دو زندگیاں موت کی آغوش میں جا سوئی تھیں ،تمام کروفر ،جاہ و حشمت ،مکاریاں و چالبازیاں کچھ بھی کام نہ آ سکا تھا۔ باہر روشنیاں پھیلی ہوئی تھیں ،گہما گہمی عروج پر تھی اور یہاں سانس نہ آس کوئی باقی نہ بچا تھا۔ ذاکرہ نے وال کلاک دیکھا کئی گھنٹے گزر چکے تھے وہ دبے قدموں سے اس خواب گاہ میں داخل ہوئی تھی اور ان دونوں کو مردہ دیکھ کر کھڑی رہ گئی تھی۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط