استاد اور سیاستدان

ہفتہ 15 جنوری 2022

Saif Awan

سیف اعوان

ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے پیشے ہیں جو خالصتا عزت و تکریم کے لائق ہیں ۔جن کو ہمیشہ معاشرے میں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ان میں سرفہرست استاد اور ڈاکٹرہیں ۔انہی استاد وں کی بدولت بچے وزیراعظم،صدر،آرمی چیف،جج،سیاستدان،بیوروکریٹ اورصحافی بنتے ہیں ۔جبکہ ڈاکٹر جیسے مسیحا پھر انہی سب کا علاج معالجہ کرتے ہیں ۔بچپن سے بڑھاپے تک ڈاکٹر ہی ہر فرد کو چلنے پھر نے کے قابل بناتے ہیں ۔

اس میں دوسری کوئی رائے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر مریض کو شفاء دینے والا ہے لیکن ڈاکٹر کا بھی اس میں اہم رول ہوتا ہے۔لیکن بدقسمتی ہے ہمارے ملک میں ان دونوں شعبوں کو جب چاہے ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے ۔شاید کچھ لوگوں نے اس کا م کا باقاعدہ ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ایک استاد 25 سال سے شعبہ تعلیم میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہوتا ہے اس کے پڑھائے بچے اعلیٰ افسر بن جاتے ہیں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں لیکن بیچارہ استاد ہر بجٹ پر اپنی تنخواہ بڑھنے کا انتظار کرتا ہے۔

(جاری ہے)

وہ بھی اگر بڑھتی ہے تو دو ہزار،تین ہزار یا پانچ ہزار بڑھتی ہے۔یہی صورتحال ڈاکٹرز کی ہے۔گزشتہ دنوں سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر اطہر محبوب پر ارکان اسمبلی نے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے ۔یہ الزامات لگانے وہ ارکان اسمبلی تھے جہنوں نے کبھی بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی اور اطہر محبوب کواپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ۔

یہ الزامات صرف اخباری تراشوں پر مشتمول تھے۔میں ذاتی طور پر اطہر محبوب صاحب سے دو بار مل چکا ہوں اور بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کے اولڈ اور نیو کیمپس کا دورہ بھی کرچکا ہوں۔بہاولپور اسلامیہ یو نیورسٹی کو جنوبی پنجاب تو دور پورے ملک کی جدید ترین یونیورسٹی بنانے میں اطہر محبوب کا اہم اور مرکزی رول ہے۔آپ اگر یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں داخل ہوں تو آپکو ایسے لگے گاجیسے آپ کسی مغربی ملک کی یونیورسٹی میں داخل ہوگئے ہیں۔

اطہر محبوب ایک نامورماہرتعلیم اور مثالی منتظم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور تدریس،تحقیق اور صنعتی اداروں میں کام کا 25 سالہ وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اطہر محبوب ابن خلدون سسٹمز کے بانی ہیں اور 100 سے زیادہ صنعتی،مالیاتی اور دفاع سے منسلک اداروں میں پروجیکٹس کر چکے ہیں۔ اطہر محبوب وائس چانسلر کی شخصیت، اْن کا وسیع تجربہ اور بھرپور عزم اس بات کا واضح اظہار ہے کہ جامعہ اسلامیہ دورِ جدید کی ایک عظیم یونیورسٹی بن گی ہے۔

انہوں نے آتے ہی کہا کہ یونیورسٹی وسائل کا بھرپور استعمال کر کے کمیونٹی کو فائدہ پہنچایا جائے گا اور طلباء کی تعداد کو دْگنا کیا جائیگا۔انہوں نے عزم ظاہر کیا تھا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کو دنیا کی پہلی100جامعات میں شامل کرائیں گے۔ صرف 20ماہ کی مدت میں ہی انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور دنیا کی پہلی 1000یونیورسٹیوں میں شامل کرادیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی صرف 17جامعات ہی اس فہرست میں شامل ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی سینڈیکیٹ نے اپنے71ویں اجلاس میں اطہر محبوب کی جانب سے یونیورسٹی کو صفِ اول کی جامعہ بنانے کے لیے پیش کیے گئے جامع پلان کوبروقت اور دوررس نتائج کا حامل قرار دیا۔ اراکین نے یونیورسٹی کودنیا کی ٹاپ جامعات میں شامل کرنے کے لیے اْن کے عزم کی تعریف کی۔

جامعہ اسلامیہ کو قومی وبین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ اور مقامی ضروریات کے مطابق بنانے کے لیے ویڑن پلان کی سینڈیکٹ سے منظور ی کے بعد یونیورسٹی کے تدریسی اور انتظامی شعبہ جات کی ترقی وتوسیع کے لیے وسیع تر اصلاحات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ یونیورسٹی کو غیر معمولی ترقی اور توسیع دینے کے عمل کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں پر عمل کیا جا رہا ہے۔

اس مقصد کے لیے بہاول پور اور بہاولنگر میں پانچ بڑے میگا پراجیٹکس کی منصوبہ بندی تیزی سے جاری ہے۔ان ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔4ارب روپے مالیت کا حالیہ میگا پراجیکٹ برائے جامعہ اسلامیہ، احمد پور ایسٹ سب کیمپس، انسٹیٹیوٹ آف فزکس، میکینکل انجینئرنگ کا شعبہ، انسٹیٹیوٹ آف ایگری بزنس، بہاولنگر سب کیمپس میں اکیڈمک بلاک وہوسٹل،ایک ہزار کے رہائشی گنجائش کے حامل چار ہاسٹل فعال کر دئیے گئے۔

مینجمنٹ سائنس فیکلٹی بلڈنگ کی تزئین وآرائش اور جدید فرنیچر کی فراہمی۔تین سالہ ترقیاتی پلان کے تحت پانچ نئے اکیڈمک بلاکس برائے بہاول پور و بہاولنگر کی منظوری۔250میگا واٹ کے شمسی توانائی پلانٹ پر کام کا آغاز۔2.5میگا واٹ کے شمسی توانائی پلانٹ۔صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں ڈھائی میگا واٹ شمسی توانائی کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔

یہ منصوبہ اکتوبر 2021میں فعال ہو گیا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں لگائے جانے والے شمسی توانائی منصوبے سے 3.906ملین یونٹ سالانہ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔جس سے 70ملین روپے کی بچت ہو گی۔یہ چند ایک اطہر محبوب کی خدمات اور کاوشیں ہیں ۔اگر انکی یونیورسٹی کیلئے خدمات کو لکھنا شروع کریں تو کم از کم تین آرٹیکل لکھے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر مجاہد کامران و دیگر اساتذہ کی نیب میں تذلیل اور گجرات یونیورسٹی کے پروفیسر کی نیب کے زیر حراست ہلاکت سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین اور دیگر ارکان کے نوٹس میں ہوگی۔ہمارے سیاستدان استاد کو عزت نہیں دے سکتے تو کم از کم استاد کی تذلیل مت کریں ۔انہی استادوں سے پڑھ کر آپ لوگ سٹینڈنگ کمیٹیوں تک پہنچے ہیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :