Episode 70 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 70 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
 ان دیکھی قوتوں کا مشاہدہ کرنے والوں کا خیال ہے کہ پاکستان اور عمران خان کے گرد دائرہ تنگ کرنے والی اندروانی اور بیرونی قوتیں باہمی خلفشار کا باعث بن کر ایک بڑے حادثے کا شکار ہو جائیگی اور پاکستان نہ صرف اس یلغار سے بچ جائیگا بلکہ ایک اہم اورمنفرد رول ادا کرنے والا ملک بن جائیگا ۔ نوکا ٹولہ اور چالیس کا اتحاد عوام کے ہاتھوں ذلت اٹھاکر نیست و نابود ہو جائیگا۔

پاکستان کے حالات یکسر بدل جائینگے اور قومی سطح پر مائینڈ سیٹ خود بخود بدل جائیگا۔ نیاپاکستان عمران خان نہیں بلکہ حالات کی تبدیلی کی وجہ سے بنے گا۔اگر عمران خان اس تبدیلی کا حصہ بننا چاہے تو اُسے اپنی سوچ اور مزاج میں مثبت تبدیلی لا نا ہو گی۔اُسے اپنی ٹیم کو ازسرے نو تشکیل دینا ہو گا ورنہ وہ اپنی موجودہ سوچ و عمل کے سیلاب میں بہہ کر نیازی حکمرانوں کی طرح گم گشتہ تاریخ کا عبرت ناک باب بن جائے گا۔

(جاری ہے)

بحثیت وزیراعظم وہ ہر نیکی وبدی میں برابر کا حصہ دار ہے۔ عوامی مشکلات کے معاملے میں وہ بلکل حساس نہیں ہے۔وہ نہیں جانتا کہ ہر شخص عمران خان ، نواز شریف ، زرداری، بلاول اور مریم نواز جیسے ماحول میں پیدا نہیں ہوتا۔بد قسمتی سے اُس کی ٹیم بے حس ،عوام دشمن، کرپٹ ، بد اعتماد اور ابن الوقت لوگوں پر مشتمل ہے۔ عمران خان کی ہر خوبی اس بے حس اور عوامی مسائل سے بے خبر ٹیم کی موجودگی میں خامیوں میں بدل جائے گی اور عوام کا حوصلہ پست ہو جائے گا۔

غریب طبقے پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ معاشرتی اور اخلاقی برائیوں کو جنم دے گا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس ہو کر ہاتھ اُٹھا دیں گے یا پھر خود جرائم کا حصہ بن جائیں گے ۔ ملک افرا تفری اور بد نظمی کا شکار ہو جائے گا مگراپوزیشن کو بھی اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ عوام کا سیاست اور جمہوریت سے اعتماد اُٹھ جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ سیاسی جماعتیں، سیا سی لیڈر ، ان کا حامی میڈیا اور مافیا عوامی غیض و غضب کا نشانہ بن کر اپنا وجود ہی کھو بیٹھے۔البتہ ان دیکھی قوتیں حرکت پذیر ہوں گی اور مکمل بد حالی کے بعد بحالی کا سفر شروع ہو جائے گا۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط