موبائل فون اور ہمارا معاشرہ

بدھ اکتوبر

Sadiq Anwar Mian

صادق انور میاں

موبائل فون یقیناً جدید دور کی ایک بہت کارآمد ایجاد ہے جس نے اس گلوبل ولیج کو سمیٹ کر انسان کے ہاتھ میں پکڑا دیا ہے۔ انسان اگر کوریج ایریا میں موجود ہو تو وہ ہر وقت دستیاب ہوتا ہے اور دنیا کے کسی بھی کونے سے اس سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ جہاں ہر نئی چیز کے بہت سے فائدے ہوتے ہیں وہیں اس کے کچھ مضر اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح موبائل فون نے جہاں انسان کو پوری دنیا سے منسلک کیا وہیں بہت سی خرابیاں بھی ساتھ لایا ہے۔

اگر ہم اس سہولت کا درست استعمال نہیں کریں گے تو یہ فائدہ مند گیجیٹ ہماری زندگی کا وبال بن کر سامنے آئے گا۔
آج سے تقریباً بیس سال قبل جب ہمارے معاشرے میں پی ٹی سی ایل کا دور دورہ تھا تب کسی محلے کے صرف چند گھروں میں فون ہوا کرتا تھا اور وہ بھی کامن روم میں پڑا ہوتا تھا جس پر آنے والی کال گھر کا کوئی بھی فرد سن سکتا تھا اور آج کی طرح پرایئویسی کا رواج نہیں ہوتا تھا۔

(جاری ہے)

پھر ہمسائیوں نے اپنے رشتے داروں کو بھی یہی نمبر دیا ہوتا تھا اور ان کے فون بھی اسی پر آتے تھے جس سے ایک دوسرے سے رابطہ استوار ہوتا تھا۔ موبائل فون جہاں رابطے کی سہولت ساتھ لایا وہیں اس نے قریب بیٹھے افراد کو عملاً ایک دوسرے سے دور کر دیا۔ اب ساتھ بیٹھے فرد کی پرواہ کیے بغیر دور دراز کے نامعلوم اور فیک دوستوں سے رابطہ بڑھانا ایک عام چلن بن چکا ہے۔


اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ موبائل کو ہر وقت ساتھ رکھنا اور اسے ہر رشتے یا تعلق پر فوقیت دینا حتیٰ کہ مساجد میں اپنے پروردگار کی عبادت کے دوران بھی اس کا استعمال جہاں ایک درجے کی جہالت اور توہین ہے وہیں یہ رویہ ہماری عبادات کی اصل روح کو تباہ کر رہا ہے۔ خطبہ اور نماز جمعہ کی جتنی تلقین اور اہمیت قرآن و حدیث میں‌بیان کی گئی ہے معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ ہم نے وہ اہمیت اب موبائل فون کو دے رکھی ہے۔

حدیث مبارکہ میں صحابہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضور صل اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوتے تو ہم ایسے ساکن اور متوجہ ہو کر بیٹھتے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور ہماری ذرا سی حرکت سے وہ اڑ جائیں گے۔ لیکن ہمارا رویہ کیا ہے؟ مسجد میں‌اول تو موبائل سائیلنٹ ہی نہیں‌کرتے اور اگر کسی کی کال آ جائے تو وہ عبادت کو چھوڑ کر فوراً کال سننے کو دوڑ پڑتا ہے۔

بندے کو یہ سوچنا چاہیے کہ میں‌اللہ کی بارگاہ میں بیٹھا ہوں اور یہاں دنیا کے سب دھندے پیچھے چھوڑ کر صرف اسی ذات سے کنکشن جوڑنے کی کوشش کرنی ہے۔ آنے والی کال کو بعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اور اس سب پر مستزاد یہ کہ حرمین طیبین میں بھی یہی رویہ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ زندگی میں ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے اللہ کےگھر اور روضہ رسول کی زیارت نصیب ہو لیکن صد افسوس کہ ہم نے وہاں بھی روحانی ترقی حاصل کرنے کی بجائے اس روحانی سفر کو بس ایک پکنک اور حرمین شریفین کو فوٹو گرافی کا پوائنٹ بنا دیا ہے۔

جس طرح نماز عبادت ہے اور ہم نماز کے دوران کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کرتے کہ نماز ٹوٹ جائے گی اسی طرح طواف کعبہ بھی عبادت ہے لہٰذا طواف کے دوران موبائل سے تصاویر اور ویڈیوز بنانا اور پھر انہیں‌سوشل میڈیا پر نشر کر کے ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ بعض لوگ تو دوران طواف لائیو نشریات پیش کر کے پتہ نہیں کونسا ثواب لینا چاہ رہے ہوتے ہیں حالانکہ جو کچھ وہ موبائل سے دکھانے میں مصروف ہوتے ہیں اس سے کہیں بہتر مکہ کے ٹی وی چینل سے براہ راست دیکھا جا سکتا ہے۔

ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ کیا کبھی ہم کسی اعلٰی حکومتی عہدیدار یا وزیر کے سامنے اس کےدفتر میں‌اس طرح موبائل استعمال کرتے ہیں‌جیسے ہم مسجد اور حرمین شریفین میں‌ اللہ کے حضور پیش ہو کرکرتے ہیں؟ کیا ہمارا یہ رویہ حرمین کی توہین کے زمرے میں نہیں آتا؟ اللہ کے بندو اس موبائل کو اتنا سر پر سوار نہ کرو کہ یہ ہمیں اللہ سے ہی غافل کر دے۔


سورہ منافقون میں‌ارشاد ہوتا ہے " اے ایمان والوتمارے مال اور تماری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا" اور ہمارا حال کیا ہے؟ ہمیں‌تو موبائل فون نے ہی ہر شے سے غافل کر رکھا ہے۔ کم از کم بندہ اپنی ذاتی مصروفیات جیسے عبادات، نیند، حوائج ضروریہ تو سکون سے پوری کرے پھر بعد میں موبائل کو بھی اٹینڈ کر لے۔

احادیث میں‌حوائج ضروریہ کے دوران باتیں کرنے سے منع فرمایا گیا ہے لیکن کئی لوگ باتھ روم میں بھی فون پر باتوں‌میں مصروف رہتے ہیں جو کہ سراسر غیر اخلاقی حرکت ہے۔ زندگی کو اتنا مشکل نہیں‌بنا لینا چاہیے کہ ہر وقت آن لائن رہنے کے چکر میں بندہ اپنی زندگی کو خود ہی اجیرن بنا لے۔
اسی طرح لوگ ہسپتال میں یا ڈاکٹر کے کلینک میں بھی دوسرے مریضوں کی پرواہ کیے بغیر بے دھڑک موبائل پر بلند آواز میں گفتگو کرتے ہیں حالانکہ اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ فون کو سائیلنٹ پے رکھنا چاہئے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Mobile Phone Or Hamara Muashra Column By Sadiq Anwar Mian, the column was published on 28 October 2020. Sadiq Anwar Mian has written 13 columns on Urdu Point. Read all columns written by Sadiq Anwar Mian on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.