کچھ پرانے یادیں

جمعہ نومبر

Sadiq Anwar Mian

صادق انور میاں

یادیں بھی کچھ عجیب چیز ہوتی ہیں ، جو پرانی ہوتی ہیں وہی یادیں کہلاتی ہیں۔ کیوں کہ نئی تو کوئی یاد نہیں ہوتی۔ لیکن یاد پھر بھی کیا عجیب چیزہے۔ ہنساتی ہے، رلاتی ہے، تڑپاتی ہے۔ کبھی کبھی مر جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
کچھ یادیں اندر ہوتی ہیں۔ جب باہر آتی ہیں ، کچھ نہ کچھ تباہی ضرور چھوڑ جاتی ہیں۔ ان یادوں کی نفسیات بھی کچھ عجیب ہے۔

آپ بچپن کے کسی خوشی کے لمحے کو یادکریں تو رونا آجاتا ہے اور کسی رونے کے لمحے کو یاد کریں تو ہنسی آجاتی ہے۔ مطلب کہ انسان کے موجودہ حالت کو الٹ پلٹ کے رکھ دینا یاد کا کام ہے۔ اگر سوچا جائے تو یاد حال پر چھا جاتی ہے اور اگر حال میں گم ہوں تو یاد ماضی میں ڈوب جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں، آنسو ، آنکھوں کو خوبصورت بناتے ہیں، درد دل کو قیمتی بناتا ہے۔

(جاری ہے)

میں کہتا ہوں کہ یاد ہی حال کو خوبصورت اور یاد ہی حال کو دردناک بناتی ہے۔ یاد ، یاد ہی ہوتی ہے۔ اچھی بڑی نہیں ہوتی، بس یاد ہوتی ہے۔ وہ حالات جس میں آپ اسے یاد کرتے ہیں اسے اچھا یا بُرا بناتے ہیں۔ مزید یہ کہ ایک ہی یاد کسی کے لئے ہنسی کا سبب بنتی ہے اور کسی کے لئے رو نے کا۔
کچھ یادیں انسان کے روٹین کا حصہ بن جاتی ہیں اور اسے ان کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

مگر کچھ یادیں اچانک آتی ہیں اور تند و تیز آندھی کی طرح سب کچھ اپنے ساتھ اڑا لے جاتی ہیں۔ دوست کی یاد بہت رلاتی ہے۔ رقیب کی یاد بہت جلاتی ہے اور محبوب کی یاد بہت تڑپاتی ہے۔ اگر یہ تینوں یادیں اکٹھی ہی یاد آئیں تو انسان اپنے اندر مرجاتا ہے ۔ بظاہر زندہ رہتا ہے لیکن ایک لاش کی طرح۔
کچھ یادیں کسی چیز، واقعے، موقع ، شخص یا وقت کے ساتھ نتھی ہوتی ہیں۔

اور کچھ وقت بے وقت آجاتی ہیں۔ کچھ یادیں ، یاد کی جاتی ہیں اور کچھ یادیں ، یاد دلا دیتیں ہیں۔ کچھ یادیں فریاد کرتی ہیں اور کچھ یادیں انسان کو حال سے آزاد۔
لوگ کہتے ہیں کہ بھول جانا ایک اچھی بات ہے ، ورنہ انسان کا ماضی اسے زندہ نہ رہنے دے۔ لیکن یہ بھی دیکھیں کہ خدا نے بھول جانے کے ساتھ انسان کو یاد کرنے کی صفت بھی دے دی۔ کہ بھولو پھر یاد کرو ۔

بھولو پھر یاد کرو ۔ بھولو پھر یاد کرو۔ لہذا بھولنا انسان کے لئے مفید نہیں اور نہ ہی یاد کرنا نقصان دہ۔ اگریہ دونوں ایک دوسرے کی جگہ بدلتی رہیں۔ اگر مسلسل بھولتے گئے اور یاد نہ کیا تو بھی جینا دشوار۔ اگر مسلسل یاد کیا اور بھولے نہ تو بھی جینا مشکل۔
جو یادیں ، یاد رکھی جاتیں ہیں تو ان کو یاد کرنے کے بھی کچھ طریقے اور کچھ آداب ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ یاد کو تنہائی میں محسوس کرتے ہیں۔ کچھ لوگ دیا جلاتے ہیں ، جام سجاتے ہیں ، محفل لگاتے ہیں اور پھر یاد کرتے ہیں۔ محفل لگا کر یاد کرنے کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے ۔ لوگ موجود ہوتے ہیں اور محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ یاد کتنی مدت کے بعد اور شدت سے آپ کو یاد آئی۔ لوگوں کا اور یادوں کا بھی ایک تعلق ہے۔ کسی نے لکھا تھا کہ میں نے تمہاری یاد کو شہر کے گلی کوچوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ آنے جانے والے لوگوں کی دھول میں یہ دھندھلا جائے۔


لیکن یادیں کب دھندھلاتی ہیں۔ ان پر جتنی بھی دھول جمع ہو پھر بھی وہ ختم نہیں ہوتیں۔ اور جب یاد آتی ہیں تو وہ دھول اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس لئے یادوں کو دھول میں نہیں دبانا چاہئے ، ان کو یاد کرنا چاہئے۔ یاد کرو ، بھلادو ، یاد کرو ، بھلادو۔ یاد کرو ، بھلا دو۔ اس عمل میں جتنا لطف ہے اتنا ہی یہ اس یاد کی شدت کو کم کرنے میں مفید ہے۔
جب حال ماضی میں بدل جاتا ہے تو انسان کے پاس کچھ نہیں رہتا ۔

اس وقت اس کا سب سے بڑا سرما یہ اس کی یادیں ہوتی ہیں۔ یاد یں علم کی طرح ایک ایسا سرمایہ ہیں جو انسان کا ذاتی اثاثہ ہوتی ہیں۔ اسے کو ئی نہیں چھین سکتا ۔
میرے خیال سے یادیں ہی انسان کو زندہ رکھتی ہے ۔یادوں سے ہی انسان زندہ رہتا ہے ۔جب انسان پرانی یادوں کو یاد کرتا ہے ۔تو وہ ایک خواہش ظاہر کرتا ہے کہ کاش وہ وقت کتنا اچھا تھا چاہے وہ وقت جیسا بھی گذرا ہوں لیکن انسان کو وہ وقت حال کے نثبت اچھا لگتا ہے ۔

اور یہ فطرت بھی ہے انسان پرانے چیز کو یاد کرتا ہے کہ وہ اچھا تھا ۔فلاں وقت اچھا تھا ہم یہ کرتے تھے ہم وہ کرتے تھے ۔بچپن کی یادیں انسان کو زندگی میں زیادہ یاد ہوتی ہے ۔کیونکہ بچپن میں انسان کے زندگی میں مسلے مسائل نہیں ہوتے اور انسان ایک ازادانہ زندگی بسر کرتے ہیں ۔لیکن جب اہستہ اہستہ زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو مسائل کا سامنے کرتے ہیں اور زندگی پہلے سے تھوڑی مشکل ہوجاتی ہیں ۔

سکول کا وقت انسان کو زیادہ تر یاد ہوتا ہے کیونکہ سکول کا دور ہی ایک ایسا دور ہوتا ہے کہ اس میں انسان بہت سارے دوستوں سے دوستیاں بناتا ہے اور پھر بہت عرصہ ان ہی کے ساتھ گذارتے ہیں ۔جب جدا ہوتے ہیں تو بہت دکھ ہوتا ہے ان کو ایک دوسرے سے الگ ہوکر آج ہم جب اپنے سکول کے کسی دوست سے ملتے ہیں تو ہمیں ڈائریکٹ وہی سکول کا دور یاد اجاتا ہے ۔ہم جب کسی پرانے چیز کو آج کے جدید دور میں دیکھتے ہیں تو ہمیں پرانے دور میں لے جاتی ہیں اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ پرانہ وقت ہی اچھا تھا ۔

پرانہ چیز ہی اچھا تھا اج کے جدید دور کے بدولت ۔پرانے دور میں تو نا کیمرہ نا ٹی وی وغیرہ تھے ۔بس کچھ ہی چیزیں ہے جو کہ کیمرے نے سنبھال کر رکھی ہے۔آج کل تو ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے ہر وقت اور ہر لمحے کو اسانی سے محفوظ کر سکتا ہے ۔آج کے دور کا ایک چیز ایک لمحہ اگر اج سے 30 35 سال بعد لوگ دیکھے گے تو حیران رہ جائے گے ۔اسی لئے ہر لمحے کو محفوظ کرلینا چائیے تاکہ مسقبل میں انسان کیلئے کچھ اچھی یاد بن جائیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Kuch Purani Yaadain Column By Sadiq Anwar Mian, the column was published on 27 November 2020. Sadiq Anwar Mian has written 22 columns on Urdu Point. Read all columns written by Sadiq Anwar Mian on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.