میں شرمندہ ہوں

منگل 7 دسمبر 2021

Saif Awan

سیف اعوان

رسالت مآب ﷺ کی شان بڑھانے اور ان پر درود و سلام پڑھنے کیلئے فرشتے ہی کافی ہیں ۔ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار فرشتے رات کے وقت آپ سرکار دو عالم ﷺ پر درودوسلام پڑھتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ کی شان اللہ تعالی نے بلند کردی ۔اس شان اور مرتبے کوکسی مخلوق خداکام نہیں کہ وہ اس کو بڑھاسکے یا کم کرسکے۔مکہ میں جب آپ ﷺ پر شریر بچوں نے اور انکے بزرگوں نے پتھر مارے تو آپ کے جسم اقدس سے خون نکلنے لگا۔

لیکن آپ نے ان کیلئے بھی بددعا نہیں کی ۔جبکہ آپ ﷺکے پاس حضرت جبریل آئے او ر کہا اگر آپ کہیں تو ان پر عذاب الہی نازل کردیا جائے تو آپ ﷺنے فرمایا میں ان بچوں اور ان کی آنے والی نسلوں میں اسلام کا نور دیکھ رہا ہوں ۔اگر ہم اہلبیت کی بات کریں تو بی بی فاطمہ سلام اللہ علہاء کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد کیا سلوک کیا گیا وہ بھی ناقابل بیان ہے۔

(جاری ہے)

شیر خدا حضرت علی علیہ سلام کو مسجد میں دوران نماز شہید کردیا گیا۔امام حسن علیہ سلام کو زہر دے دیا گیا۔امام حسین علیہ سلام اور انکے اہلخانہ کو تین دن بھوکے پیاسے رکھ کے ناحق شہید کردیا گیا۔حضرت عیسیٰ علیہ سلام کو صلیب پر چڑھادیا گیا لیکن کیا ان کے پیروکاروں نے کسی سے بدلہ لیا؟انبیاء کرام میں بہت کم ایسے نبی تھے جن کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک نہ رکھا گیا ہو لیکن کسی نبی نے اپنی امت سے بدلہ نہیں لیا بلکہ اس کا اجر انکو اللہ تعالیٰ نے دیا۔

امام حسن عسکری سے امام ابو حنیفہ،امام شافی،امام حنبل سے کیا سلوک روا رکھا گیا ؟اگر ان سب مقدس ہستیوں سے روا رکھے سلوک کی میں تفصیل بیان کرنا شروع کردوں تو ایک مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ ان سب ہستیوں کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک روا رکھنے والے بھی مسلمان تھے۔اگر ہم بات کریں صحابہ کرام کی تو حضرت عثمان غنی کو شہید کرنے والے بھی مسلمان تھے۔

اولیاء کرام میں عبدالقادر جیلانی،داتا علی ہجویری،خواجہ اجمیر شریف،مولانا جلال الدین رومی ،شاہ رکن عالم ،شاہ شمس تبریز سمیت تمام اولیاء کرام کی تضحیک کی لیکن ان سب کو اللہ تعالیٰ نے سرخرو کیا۔ان تمام مقدس ہستیوں نے اپنی تضحیک کا کسی سے بدلہ نہیں لیا اور کسی کو انتقام کا نشانہ بنایا بلکہ اللہ پر بھروسہ کیا۔آج کئی صدیوں بعد بھی ہر مسلمان انہی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اسلام امن،بھائی چارے،محبت اور حسن سلوک کا درس دیتا ہے۔آپ دنیا کے جتنے بھی بڑے اور نامور غیر مسلم شخصیات کی زندگی کو پڑھ کر دیکھ لیں وہ سب اسلام اور مسلمانوں کے نبی اکرم ﷺ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔آج دنیا کے اکثر غیر مسلم ممالک میں قرآن مجید کا اپنی اپنی مقامی زبانوں میں ترجمہ کرکے دنیا قرآن مجید سے مستفید ہو رہی ہے۔قرآن مجید آسمانی کتابوں میں واحد کتاب ہے جس کی حفاظت کاذمہ اللہ تبارک نے خود اٹھایا ہے۔

چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود قرآن مجید اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔جبکہ باقی آسمانی کتابیں اور صحیفے اصل حالت میں موجود نہیں اگر ہیں تووہ بھی بہت ناپید ہیں۔جب قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ ،نبی اکرم ﷺ کی شان مبارک اللہ تعالی نے خود بلند کی ہے تو کسی بنی نو ع انسان میں اتنی جرات کیسے پیدا ہوسکتی ہے کہ وہ ان کی شان میں کمی لاسکے یا گستاخی کرسکے۔


سیالکوٹ واقعہ نے پوری قوم کو شرمندہ کرکے رکھ دیا ہے۔سری لنکا سے ہمیشہ پاکستان کے اچھے تعلقات رہے ہیں ۔لیکن اس ایک شرمناک واقعے نے پوری قوم کو سری لنکن قوم کے سامنے شرمندہ کرکے رکھ دیا ہے۔چند جذباتی اور ناسمجھ درندوں کی دانستہ غلطی نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بدنام کرادیا ہے۔لیکن یہاں اس واقعہ کے فوری بعد عورت مارچ،لبرل ازم کے پیروکار اور آزاد خیال طبقے کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کو ہدف تنقید پر رکھا۔

اس کا بڑا جواز اس طبقے کی جانب سے پیش کیا گیا کہ ہجوم نے ٹی ایل پی والے نعرے لگائے۔جبکہ تحریک لبیک کی جانب سے اس واقعہ کی فوری مذمت بھی کی گئی اور اپنے کارکنوں کو سوشل میڈیا پر اس واقعہ کا دفاع کرنے سے بھی سختی سے روک دیا گیا۔اب اگر ہم تھوڑاسا کچھ سال پیچھے جائیں ۔قصور کے علاقہ کوٹ رادھا کشن میں دو میاں بیوی کو توہین مذہب کے الزام میں زندہ جلادیا گیا ۔

کیا ان دونوں میاں بیوی کو زندہ جلانے والے تحریک لبیک کے لوگ تھے؟پھر یوحنا آباد میں دو نوجوانوں کو توہین مذہب کے الزام میں زندہ جلادیا گیا ۔کیا ان دونوں نوجوانوں کو زندہ جلانے والے تحریک لبیک کے کارکن تھے؟پھر آسیہ مسیح توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہوتی ہے۔کیا اس کے گھر اور اہلخانہ کو ہراساں کرنے والے تحریک لبیک کے لوگ تھے؟پھر بادامی باغ لاہور میں مسیحیوں کے کئی گھر نذ آتش کردیے گئے ۔

کیا یہ گھر جلانے والے بھی تحریک لبیک کے لوگ تھے؟ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے ”نہیں“۔تو ہر مذہبی انتشار پسندی کے معاملے میں تحریک لبیک کو رگڑا لگانے کا مطلب اپنی اپنی دکانداری چمکانا اور اسی ایجنڈے کے تحت بیرونی دنیا سے فنڈنگ لینا ہے۔مذہبی انتشار پسندی کی کوئی سیاسی و مذہبی جماعت حمایت نہیں کرتی۔یہ صرف جنونیت اور حوانیت ہے جو کسی بھی انسان کے اندر موجود ہوتی ہے۔اس نفرت انگیز اور شر انگیز فتنے کے خاتمے کیلئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو فوری ایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا ۔ اس سے پہلے کہی اور ایسا واقعہ نہ پیش آجائے جس کی وجہ سے ہمیں یہ کہنے پر مجبور نہ ہونا پڑے کہ میں بطور پاکستانی شرمندہ ہوں ۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Mein Sharminda Hoon Column By Saif Awan, the column was published on 07 December 2021. Saif Awan has written 115 columns on Urdu Point. Read all columns written by Saif Awan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.