Episode 113 - Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 113 - بلال صاحب - شکیل احمد چوہان

Bilal Shaib in Urdu
بلال بیڈ پر نوشی کے ساتھ بیٹھ گیا تکیے کی طرف، بلال نے سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی جہاں پر پہلے ہی سے ایک جیولری باکس پڑا ہوا تھا، اُس نے وہ نکالا اور اُسے کھولا ایک خوبصورت کنگن تھا اُس باکس کے اندر۔
”نوشی جی یہ آپ کے لیے……“ بلال نے نوشی کا دایاں ہاتھ پکڑا اور اُسے وہ کنگن پہنا دیا ۔
نوشی پھر بھی کچھ سہمی ہوئی تھی، مگر بلال بڑا پر اعتماد تھا۔

”ایک بات کہوں“ نوشی نے شرماتے ہوئے پوچھا
”جی ضرور“
”آج تو تم بالکل بھی نہیں شرما رہے۔شادی سے پہلے تو………“ نوشی نے کہا 
”اب آپ میرے نکاح میں ہو………“ بلال نے اعتماد سے جواب دیا 
”حلوہ بہت مزیدار تھا……… میٹھا ایک دم برابر………بناتے ہوئے چیک کیا ہوگا…“ ”نہیں تو آج جمعہ ہے…میرا روزہ تھا“ بلال نے کہا تھا۔

(جاری ہے)

”نوشی جی آج ہم نے نئی زندگی کا آغاز کیا ہے مختصر سی چند باتیں آپ سے کرنا چاہتا ہوں، میاں بیوی میں اختلاف اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب وہ غیروں کی سنتے ہیں اور غیروں سے کہتے ہیں، اگر وہ آپس میں بات کریں تو کافی سارے مسائل پیداہی نہیں ہوتے، ماموں جان کی وفات کے بعد سے میں نے جب بھی آپکو دیکھا ہے مجھے ہمیشہ ایسا ہی لگا جیسے آپ کے دل میں میرے لیے نفرت، غصہ، گلے وشکوے کچھ تو ہے ایسا……… آج میں وہ سب آپ کی زبان سے سننا چاہتا ہوں“ بلال اپنی بات کر کے خاموش ہو گیا تھا مگر نوشی ادھر اُدھر نظریں چرا رہی تھی۔

بلال نے نوشی کو اعتما دینے کے لیے اُس کا ہاتھ پکڑا اور اُسے اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا۔ نرمی سے محبت کے ساتھ
 ”چلیں پہلے میں کہہ دیتا ہوں………میں آٹھ سال کا تھا اور آپ چھ سال کی……تب امی نے مجھے کہا تھا، بلال بیٹا اگر نوشی کی مرضی ہو تو شادی اُسی سے کرنا۔ شادی کا تو پتہ نہیں تھا، اُس وقت، لیکن ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میں نے نوشی ہی سے شادی کرنی ہے۔

وقت گزرتا گیا ماں کے اُس فرمان نے کب محبت کی شکل اختیار کر لی پتہ ہی نہیں چلا۔ پہلے آپ کی نظروں میں میرے لیے کوفت اور بیزاری تھی، پھر اُن کی جگہ محبت اور بے قراری نے لے لی جس دن مجھ پر الزام لگا، اُس دن آپ کی نظر وں میں میرے لیے شکایت اور ناراضی تھی، اب آپ کی نظروں میں کیا ہے میرے لیے……وہ آپ خود بتائیں“
بلال نوشی کو دیکھ رہا تھا مسحور کن نگاہوں کے ساتھ ایک لمحہ کے لیے نوشی کی بلال سے نظریں چار ہوئی ہیں تھیں۔

نوشی نے اپنی پلکیں جھپکیں اب نوشی کی نظریں ادھر سے اُدھر مٹرگشت کر رہیں تھی۔ اُسے کچھ اور سمجھ نہیںآ یا تو وہ بلال سے لپٹ گئی
 ”بلال میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں………اب تو میں آپ کے نکاح میں ہوں……اب مجھے خود سے جدا مت کیجیے گا۔ کمرے میں یک دم خاموشی چھاگئی ۔ صرف چوڑیوں کے کنگنوں سے کھن کھنانے کی آواز تھی اور بالیوں کے جھمکوں سے ٹکرانے کی آواز تھی دو گھنٹے بعد نوشی بلال کی پہلو میں لیٹی ہوئی تھی۔

وہ بلال کے دئیے ہوئے کنگن سے کھیل رہی تھی۔ اُس وقت نوشی بہت خوش تھی۔ 
”بلال تمہارا دیا ہوا تحفہ بہت خوبصورت ہے“ نوشی نے لیٹے ہوئے کنگن کو اپنی انگلیوں میں گھمایا ۔ بلال کو یہ بات سُن کر کچھ یاد آگیا ۔
”چلو جلدی سے اُٹھو………“ بلال نے ایک بار پھر سائیڈ ٹیبل والا دراز کھولا اور اُس میں سے کچھ نکال کر اپنے ٹروزر کی سائیڈ والی پاکٹ میں ڈال لیا ۔

”رات کے دو بجے……”مگر کیوں“ نوشی نے سستی سے کہا…ایک سرپرائز ہے……“ بلال نے اپنا ہاتھ نوشی کی طرف بڑھا یا، نوشی نے جلدی سے بلال کا ہاتھ تھاما اور اپنے بستر سے باہر آگئی۔
بلال اُسے پورچ میں لے گیا۔ یورچ میں کھڑی گاڑی پر سے بلال نے کالا کپڑا ہٹا دیا۔
 Suzuki Swift 2015 Red Colour کی گاڑی تھی۔
”نوشی جی یہ آپ کے لیے“ بلال نے مسکراتے ہوئے کہا۔

نوشی نے ایک نظر گاڑی پر ڈالی ”OH MY GOD“ نوشی نے اپنی باہیں بلال کے گلے میں ڈال دیں ”THANKS بلال“ نوشی کے چہرے پر ملین ڈالر مسکراہٹ تھی بلال نے اپنے ٹروزر کی جیب سے چابی نکال کر نوشی کے حوالے کر دی ۔
”LONG DRIVE پر چلیں“ نوشی نے جان لیوا مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا ”کل صبح چلیں گے ابھی بہت سردی ہے آپ اندر آجاؤ“ بلال نے نوشی کی کلائی پکڑی اور اُسے بیڈ روم میں واپس لے آیا ۔

”نوشی جی مجھے آرہی ہے نیند صبح تہجد کے لیے اُٹھنا ہے“ بلال نے کروٹ لی اور آنکھیں بند کر لیں نوشی کی طرف اُس کی پشت تھی۔ نوشی بھی بستر کے اندر آچکی تھی اور وہ بلال کی پشت سے لپٹ کر بولی۔
”بلال میں نے سنا ہے شادی کی پہلی رات میاں بیوی میں سے جو بھی پہلے سوتا ہے وہ پہلے مر جاتا ہے“
”ٹھیک ہے……مجھے پہلے ہی مرنے دو“ بلال بند آنکھوں کے ساتھ بولا۔

کیا آنکھیں بند کرنے سے آدمی مر جاتا ہے؟“ نوشی نے معصومیت سے پوچھا
”نوشی جی دراصل آنکھیں بند ہونے کے بعد ہی تو آنکھیں کھلتی ہیں“
”اگر کبھی آپ کو لگے کہ کل آپ کی زندگی کا آخری دن ہے تو ……؟ “ نوشی نے مستی سے پھرپوچھا 
”تو کچھ نہیں بابا جمعہ فرماتے تھے بلال بیٹا انسان کی سوچ نہیں مرنی چاہیے اور اُس کے شروع کیے ہوئے اچھے کام اُس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہیں تو۔

وہ شخص لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے جسم تو مٹی کی امانت ہے“ بلال اُسی طرح لیٹا ہوا کہہ رہا تھا
”نوشی جی شب خیر……“ بلال سو گیا تھا
###
اگلی صبح سات ساڑھے سات بجے نوشی تیار ہو کر بیڈروم سے باہر نکلی ۔ 10 جنوری 2015 کو لاہور میں ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔
بلال حسب معمول تہجد کے وقت اُٹھ گیا تھا۔ اُس نے سب سے پہلے غسل کیا پھر لاؤنج میں آگیا۔

تہجد ادا کی، اُس کے بعد مسجد میں نماز پڑھ کر آیا۔ قرآن شریف پڑھنے کے بعد وہ ایزی چیز پر اپنی ٹانگیں پھیلا کر سکون سے بیٹھا ہوا تھا۔
گیس ہیٹر ON تھا۔ بلال کی گرم چادر اُس کے کاندھوں پر تھی۔ جب نوشی لاؤنج میں آئی تھی۔
” GOOD MORNINGبلال“ نوشی نے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔ پھر کرسی کھینچ کر اُس کے بالکل سامنے بیٹھ گئی۔
”اسلام وعلیکم………اُٹھ گئی آپ “ بلال مسکراتے ہوئے بولا۔

نوشی نے وال کلاک پر نظر ڈالی ”ابھی تو سواسات ہی ہوئے ہیں………کب آٹھ بجیں گے اور کب آپ کی سالی ناشتہ لے کرآئے گی………بلال مجھے تو بہت بھوک لگی ہے“
”کچھ بنادوں………انڈے اور بریڈ ہے فریج میں……“ نوشی نے تعجب سے دیکھا بلال کو 
”نوشی جی……… میں اپنی سالی کو تھوڑی بتاؤں گا………کہ میری گھر والی نے ناشتہ کر لیا ہے…“ بلال نے نوشی کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔

تم اب بھی میری آنکھوں میں کچھ تلاش کر رہے ہیں“ نوشی نے خفگی سے کہا 
”میری تلاش ہمارے نکاح سے پہلے ہی ختم ہوگئی تھی۔ ایک شوہر کو اپنی بیوی کی آنکھوں میں محبت سے صرف محبت کو دیکھنا چاہیے۔ میں بھی وہی کر رہا ہوں“
”تم کو میری آنکھوں میں اپنے لیے محبت نظر آئی“ نوشی نے پوچھا 
”تلاش جاری ہے………نکاح کی برکت سے مجھے میری کھوئی ہوئی محبت مل جائے گی…“ بلال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔

”بلال محبت سے پیٹ نہیں بھرتا……مجھے سخت بھوک لگی ہے……“
”چائے یا کافی……“ بلال نے پوچھا
”چائے…… مگر میں خود بناؤں گی……“ نوشی نے کہا 
”جیسے آپ کی خوشی“ بلال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ نوشی کچن میں چلی گئی 
”دودھ فریج میں ہے باقی سب کچھ کیبن میں ہے“ بلال نے بتایا ۔
”چینی نہیں مل رہی ہے“ نوشی نے کچن میں سے آواز لگائی۔
”چینی نہیں ہے، گڑ ہے۔ اُسی کیبن میں رکھا ہوا ہے“ بلال نے صدا لگائی وہیں پر بیٹھے بیٹھے ہی۔
تھوڑی دیر بعد نوشی چائے لے کر آگئی تھی۔ بلال کا مگ اُس نے ایزی چیر کے ساتھ میز پر رکھ دیا تھا۔ اور اپنا مگ اپے ہاتھ میں تھام لیا تھا۔

Chapters / Baab of Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

آخری قسط