Episode 98 - Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 98 - بلال صاحب - شکیل احمد چوہان

Bilal Shaib in Urdu
”ویسے ایک بات ہے، بلال کے ساتھ سے ہم سب بڑی بڑی باتیں کرنا شروع ہو گئے ہیں۔وہ کیا کہا تھا تم نے جب ضرورت دفن ہو جائے تو محبت زندہ ہو جاتی ہے ملک فاضل صاحب یاد آگئے تھے تمہاری یہ بات سُن کر………
تمہارا سچ مجھے پہلے سے معلوم تھا، بلال نے بتایا تھا، بلال نے کہا تھا، جس دن توشی کو تم سے سچی محبت ہو جائے گی وہ خود یہ بات تمہیں بتائے گی اور آج مجھے یقین ہو گیا ہے تمہیں مجھ سے سچی محبت ہو گئی ہے…یہ ضرور بلال ہی کی دعا ہو گی“ محسن رضا نے اندازہ لگایا جو کہ سچ تھا۔

بلال مسجد نبوی کے سامنے واقع ٹیلی فون بوتھ سے سیدھا مسجد نبوی کے صحن میں آیا جہاں بیسمنٹ میں وضو خانہ ہے اُس کے اوپر بیرونی دروازے سے کچھ آگے کی طرف بلال کی پیشانی سجدے میں تھی اور اُس کے ہونٹوں پر یہ مختصر الفاظ تھے۔

(جاری ہے)

”یا اللہ…… میرے مالک…… تو کھلاتا ہے پھول کلیوں سے……… اور بناتا ہے جوڑے آسمانوں پر……اس جوڑے کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے سچی محبت ڈال دے……… آمین……“ یہ دعا مانگتے ہوئے بلال کے دو آنسو آنکھوں سے گِر کر مسجد کے صحن میں رہ گئے بلال سجدے سے اُٹھ کر اپنے ہوٹل کی طرف چل دیا جہاں سے اُس نے جدہ ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہونا تھا۔

جدہ سے دبئی بلال کی ٹکٹ کنفرم تھی۔ بلال کے پاس امارات کا RESIDENCE VISA پہلے سے تھا۔ بلال13 مارچ کی صبح دبئی ٹرمینل ONE پر پہنچا، وہاں سے اُس نے ٹیکسی لی اور شارجہ میں ایک جگہ ہے رولا وہاں ROTANA HOTEL میں روم لے کر اپنا سامان رکھا اور وہاں سے پیدل رولامین بازار میں آگیا، جہاں پر اُس نے کراچی دربار ریسٹورنٹ سے ناشتہ کیا، اور انتظار کرنے لگا شارجہ رولا میں حج اور عمرہ کاکام کرنی والی بہت ساری ٹریول ایجنسیاں تھیں، جن کے آفس صبح 9 بجے کے آس پاس کھلتے تھے اُس وقت صبح کے 8 بج رہے تھے۔

بلال نے وقت گزاری کے لیے دو تین کپ پھیکی چائے کے پیئے تھے۔
ٹھیک 9 بجے وہ شاطی ٹریول کے آفس میں تھا۔ بلال نے ایک مہینے کے ویزے کے لیے اپنا پاسپورٹ اور مطلوبہ رقم جمع کروادی۔ ٹریول ایجنٹ محمد شفیق نے بلال کو یقین دلایا ایک ہفتے کے اندر اُن کا ویزہ لگ کر آجائے گا۔
”بلال صاحب ایک ہفتے کا ٹائم میں آپ سے لے رہا ہو یہ کام دوتین دن کا ہے اگر کل جمعہ نہ ہوتا تو میں آپکو تین دن کے اندر بجوا دیتا پھر بھی انشااللہ امید ہے پیر کو آپ مکہ ہوں گے“ محمد شفیق نے بلال سے کہا تھا۔

لفظ جمعہ سن کر بلال کے زخم ہرے ہو گئے ایک تو بابا جمعہ اور دوسرا اگلے دن بروز جمعہ اُس کا نکاح تھا جواب نہیں ہو رہا تھا۔
###
اگلے دن 14 مارچ بروز جمعہ نوشی کی شادی ولید ہاشمی سے ہو گئی بڑی دھوم دھام کے ساتھ ڈیفنس میں واقع ایک مقامی ہوٹل میں۔
دودھ پلائی کی رسم کے دوران عادل عقیل کی نظر توشی پر پڑی وہ اُسے دیکھ کر حیران رہ گیا توشی نے بھی عادل کو دیکھ لیا تھا۔

”آپ یہاں…… یہ لڑکی……“ عادل نے حیرت سے ڈوبی ہوئی آواز میں آدھ سوال پوچھا
”یہ میری بہن نوشی ہے“ توشی پریشان ہو گئی تھی عادل کے غصے کو دیکھ کر
”کیا انتخاب ہے…… آپ کی بہن کا……“ عادل یہ بول کر غصے سے چلا گیا وہاں سے توشی نے ایک نظر ولید ہاشمی کی طرف دیکھا جو کہ نوشی ساتھ بیٹھا ہوا مسکرارہا تھا۔
نوشی اور ولید کے اردگرد عورتوں اور لڑکیوں کا ہجوم تھا۔

ولید کی شادی میں اُس کے سارے خاندان نے شرکت کی تھی۔ ولید کا باپ پیرداود ہاشمی اُس کے چچا عقیل ہاشمی اُس کی دادی اور سارے رشتے دار سب لوگ بارات کے ساتھ آئے تھے سوائے ولید کے چچا عقیل ہاشمی کے اکلوتے بیٹے عادل عقیل ہاشمی کے عادل اور ولید کی بچپن سے نہیں بنتی تھی جوان ہو کر اُن دونوں کے اختلافات میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔
عادل شادی میں شرکت نہیں کرنا چاہتا تھا، اُس کی دادی کے بار بار فون کرنے پر وہ نکاح کے بعد آیا تھا، صرف خانہ پُری کے لیے اُس وقت نکاح ہو چکا تھا۔

جب اُس کی نظر توشی پر پڑی تھی۔ولید نے ایک کنال کا گھر رینٹ پر لیا ہوا تھا جہاں اُس کے سارے مہمان آئے تھے۔
ولید ہاشمی کا بیڈ روم سرخ گلابوں سے مہک رہا تھا اور نوشی اُس کی سیج پر اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی۔ ولید اپنے بیڈروم میں آیا۔
”واقعی تم بہت خوبصورت ہیں………میں یہ منظر بھی زندگی میں کبھی نہیں بول سکوں گا“
ولید نے نوشی کے پہلو میں بیٹھے ہوئے کہا تھا یہ جملہ سن کر نوشی نے کچھ سوچا
”میں وہی ہوں…… جس کے بارے میں تم سوچ رہی ہو……جس نے تمہیں گرتے ہوئے سنبھالا تھا……کون بے وقوف کہتا ہے پہلی نظر میں محبت نہیں ہوتی………مجھے تو تم سے پہلی نظر میں ہی محبت ہو گئی تھی“ ولید نے بڑی انگلی سے نوشی کا چہرہ اوپر اُٹھاتے ہوئے کہا تھا ۔

نوشی نے آنکھیں اُٹھا کر ولید کی طرف دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
”اگر محبت سچی ہو تو آپ آپنے محبوب کو پا ہی لیتے ہیں۔ جیسے میں نے تمہیں پا لیا نوشی میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں میں ہر کام جلدی کرتا ہو…دیکھو نا ایک لمحے میں تم سے محبت ہوئی، دس دن کے اندر تم سے شادی بھی کر لی اب جلدی سے ایک بڑا بزنس مین بننا چاہتا ہوں۔ اس شہر کا سب سے بڑا بزنس مین، میں بھی ایڈیٹ ہوں بزنس کی باتیں کر رہا ہو، اپنی پہلی رات کو یہ میں تمہارے کے لیے لایا تھا“
ولید نے ایک ڈائمنڈ کا سیٹ جو کہ باکس میں سجا ہوا تھا، نوشی کو پیش کیا منہ دکھائی کے طور پر نوشی کی اُس سیٹ پر نظر پڑی تو اُسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔

 
”یہ تمہارے لیے ہے پکڑلو……“ ولید نے نوشی کی خوشی اُس کے چہرے سے پڑھ لی تھی۔
”آپ خود ہی پہنا دیں“ نوشی دھیرے سے بولی شرماتے ہوئے
”تم بولتی بھی ہو……ولید ہار پہناتے ہوئے بولا تھا
”آپ نے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا“نوشی نے اعتماد سے کہا
”نوشی یہ آپ واپ ادب ، آداب مجھے پسند نہیں ہے۔ تم مجھے ولید کہہ سکتی ہو، میں نے دیکھا ہے تم لوگ ڈیفنس میں رہ کر بھی ٹپیکل مڈل کلاس فیملیز کی طرح رہتے ہو۔

تم جاؤ اور اس ہیوی جیولری سے جان چھڑاؤ تم جا کر Changeکر لو میں تو سوچ رہا تھا، تم نے اب تک Changeکر لیا ہو گا یہ لہنگا وغیرہ یہ ہیوی کا سٹیوم………“
ولید کی نظر نوشی کی جیولری پر پڑھ چکی تھی سونے کے بڑے بڑے سیٹ چوڑیاں ایک ہاتھ میں دوسرے ہاتھ کنگن ”یہ تو خود ہیں سونے کی کان ہے“ ولید نے دل میں کہا تھا نوشی کپڑے Changeکرنے جا چکی تھی۔

نوشی کے آنے سے پہلے ہی ولید اپنی شیروانی تبدیل کر چکا تھا بیڈروم کے اندر ہی جب نوشی باہر نکلی کپڑے تبدیل کرکے تو ولید کی نظر نوشی پر پڑی
”یہ سونے کی کان کے ساتھ ساتھ حسن کی دکان بھی ہے“ ولید نے ایک بار پھر اپنے دل میں سوچا تھا۔
عین اُس وقت بلال اپنے ہوٹل کے کمرے میں لیٹا ہوا تھا، چھت کی طرف نظریں جمائے جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔

”میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا، نوشی اور ممانی ویسے ہی انکار کر دیتیں، نوشی میری محبت تھی اور میری محبت اب کس اور کی بیوی ہے، مجھ سے میری یہ محبت بھی چھین لی گئی……“بلال اپنے خیالوں میں گم سوچ رہا تھا۔ عین اُسی لمحے بلال کو بابا جمعہ کا کہا ہوا ایک جملہ یاد آیا۔
(دیکھو بلال بیٹا محبت میں حاصل کرنے کی شرط نہیں ہوتی اگر شرط ہو تو پھر محبت نہیں ہوتی)
بلال کے چہرے پر مسکراہٹ اُبھری اُس نے کمرے کی لائٹ آف کی اور آیت الکرسی پڑھ کر سو گیا۔
###

Chapters / Baab of Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

آخری قسط