اس کہانی کی کہانی
یہ کہانی مجھے کیسے ملی؟
ہوا یوں کہ مجھے چولستان کے دُور افتادہ علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس صحرا نوردی کا مقصد کچھ اور تھا۔ کہانی یا اس سے متعلق کسی دوسری معلومات کی تلاش میں سرگرداں ہرگز نہیں تھا۔ اسی صحرا نوردی میں وہ جگہ ہمارے راستے ہی میںآ ئی تھی۔ ایک چھوٹی سی بستی سے ذرا ہٹ کر درختوں کا جُھنڈ تھا۔
اس کے ساتھ ہی گوپا(مقامی انداز کی جھونپڑی) جس کے آگے کچے تھڑے پر خس کی صفیں پڑی ہوئی تھیں۔درختوں کے نیچے چارپائیاں دھری ہوئیں تھیں۔ قریب ہی ایک کنواں تھا۔اچھی خاصی صاف ستھری جگہ تھی، جیسے صحرا میں کوئی نخلستان ہو۔ صحرا میں یہ نظارہ دلفریب توتھا ہی لیکن سراب کے جیسی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہاں دو مہنگی فوروہیل جیپیں ، تین چار کاریں اور چند موٹر سائیکل کھڑے تھے۔
(جاری ہے)
اس ماحول کو دیکھ کرہمارے گائیڈ نے صلاح دی
”کیا خیال ہے کچھ دیر آرام کرنا چائیں گے ؟“
”یہاں…؟“ میرے دوست نے جواب دینے کی بجائے سوال کر دیا۔
”جی…اور اس کے ساتھ ساتھ میں آپ کو ایک ایسے بندے سے ملواؤ جو اپنی ذات میں بہت عجیب شے ہے۔“ گائیڈ نے مسکراتے ہوئے کہا
”کون ہے وہ بندہ؟“مجھے تجسس ہوا
” سمجھیں اس چولستان کا تحفہ ہے ۔
باقی آپ مل کر ہی اندازہ لگا سکیں گے… اگر اس کے پاس وقت ہوا تو…مہر اللہ یار نام ہے اس کا۔“گائیڈ نے میرے تجسس کو مزید ہوا دے دی ۔ میں نے اقرار میں سر ہلا دیا ۔ گائیڈ نے گاڑی رکوا دی۔ کچھ دیر بعد ہم اس گوپے کے اندر تھے۔
وہ اُدھیڑ عمرکے تنومند انسان تھے۔ گہرا سانولا رنگ، سفید کُرتا ،نیلی دھوتی، سفید رنگ کا پگڑ۔ گلے میں نسواری رنگ کا پَرنا ، خشخشی داڑھی، بھاری مونچھیں اور بڑی بڑی نشیلی آنکھیں۔
انہوں نے ہماری طرف گہری نگاہوں سے دیکھا۔ گائیڈ نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تعارف کرایا۔
” آپ ہیں مہر اللہ یار خان…“
وہ بہت تپاک سے ملے۔ میں نے محسوس کیا کہ ہم ان کی باتوں میں مخل ہوئے ہیں۔ تبھی انہوں نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
” آپ چند منٹ بیٹھو، میں ان سے اپنی بات مکمل کر لوں تو گپ شپ کرتے ہیں۔“
ہم باہر درختوں کے جھنڈ میں آکر بیٹھ گئے۔
زیادہ سے زیادہ دس منٹ کے بعد مہر اللہ یار خان ہماری پاس آگئے۔وہ ہمیں لے کر گوپے میں چلے گئے۔ تعارف ،تمہیدی باتوں اور جدید مشروبات سے تواضع کرنے کے بعد انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا
” آپ کوئی بات پوچھنا چاہتے ہیں؟“
میں ان کے چہرہ پڑھنے کی صلاحیت کا معترف ہوگیا کیونکہ میرے اندر ایک نہیں کئی سوال ” اُبل “ رہے تھے۔
میں نے ان سے یہ سوال کیا
” اس دور افتادہ علاقے میں، جنگل اوربیابانوں میں دو طرح کے لوگوں کا ڈیرہ ہوتا ہے۔ وہ یاتو چور ہوتے ہیں یا پھردرویش… آپ کیا ہیں؟ جو اس طرح کے لوگ آپ کے پاس…“
وہ کھلکھلا کر ہنس دئیے پھر چند لمحے بعد بولے۔
” بیٹا، میں نہیں جانتا کہ میں کون ہوں چور یا سادھ ،ہاں مگر اتنا جانتا ہوں کہ کس ریچھ کو کہاں سے پکڑنا ہے، کس بندر کو کیا اشارہ دینا ہے اور کس کتے کو کیا ڈالنا ہے۔
“
” مطلب آپ جانور…“ میں نے سمجھنے کے لیئے پوچھا تو وہ سنجیدگی سے بولے
” نہیں بیٹا۔! انسان بھی ایسے جانوروں والی خصلت رکھتے ہیں، جیسے منافق سانپ سے بھی زہریلا ہو تا ہے۔ جیسے کتا ایک دفعہ کسی در سے کھا لے تو وہ وفا نبھاتا ہے ، مگر بعض آدمی برس ہا برس ایک جگہ کھاتے رہنے کے بعد بھی کسی انسان کو کاٹ لیتے ہیں ، وہ انسان کتوں سے بھی بدتر ہوتے ہیں، “
” مہر صاحب یہ کیا بات کر رہے ہیں آپ ،انسان تواشرف المخلوقات ہے اور اسی کو آپ ایسے کہہ رہے ہیں؟“
” وہ سنا ہے بابا جی بلّھے شاہ نے ، کتے تیتھوں اُتے ، یا پھر میاں محمد بخش نے کہا، کیکر تے انگور چڑھایا،“ یہی کہہ کر وہ چند لمحے خاموش رہے پھر بولے۔
” سورة التین کوسمجھا ہے آپ نے۔۔“
” آپ اسے سمجھا سکتے ہیں ذرا تفصیل سے؟“ میں نے دھیمے لہجے میں کہا
” ہاں، مگر اس کم وقت میں نہیں۔“،یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رُکے پھر بولے ” آج رات میرے مہمان بن جاؤ ، ساری بات سمجھ میں آجائے گی۔ پھر جب تک تمہارا دل چاہئے رہو ادھر“
اور میں رات وہاں پر رہا۔کہانی تو مجھے مل گئی۔ لیکن میں پہلی باراس ”قلندرذات “ سے متعارف ہوا ،جس نے میری سوچ ہی کو نہیں، خیالات میں بھی تلاطم برپا کر دیا۔
میں ” قلندر “ کے بارے جاننے کے لئے تین سال تک سرگرداں رہا ہوں۔ ہر اس جگہ حاضری دی جہاں سے مجھے اس بارے علم کی ذرا سی بھی امید تھی ۔الحمداللہ میری مراد پوری ہوئی ۔اب اس کی کیا کیا تفصیلات ہیں ، میرے سوال کا جواب کیا ملا ۔ یہی” قلندر ذات “ کا موضوع ہے۔
میں شکر گذار ہوں جناب حافظ محمد عباس صاحب کا کہ انہوں نے میری توجہ اس موضوع کی طرف دلائی اور اس بارے کافی حوصلہ دیا۔
میں شکر گذار ہوں اپنی بہن محترمہ رخسانہ بشیر صاحبہ کا ، جو محترم جناب سید سرفراز احمد شاہ صاحب تک رسائی کا وسیلہ بنیں۔جنہوں نے بہت سارے عقدے حل کئے۔
میں شکر گذار ہوں جناب عمران احمد قریشی صاحب کا ،کہ انہوں نے اس داستان میں بھر پور دلچسپی لی اور اپنے موقر جریدے ” نئے اُفق“ میں اہتمام سے شائع کیا۔
میں شکر گذار ہوں اپنے مربی ، دوست اور بھائی جناب گل فراز احمد صاحب جنہوں نے ” قلندر ذات“ کو کتابی صورت میں شائع کر کے اس سلسلے کو نئی زندگی دی۔
میں شکر گذار ہوں،ملک محمد حسین صاحب کا جنہوں نے اس سلسلے کو لکھنے اور لکھتے رہنے کے لئے مہمیز کا کام کیا۔جناب حکیم اقبال کا جنہوں نے تصور سے حقیقت کے سفر کا ادراک دیا۔ جناب فرحت عباس شاہ کا ،جن کے ذریعے سے مجھے اک ” خاک نشین“ سے ملنے کا موقع ملا۔حافظ محمد اصغر کا ، جس سے خاصی بحث رہی۔ اپنے بچوں سمن فاطمہ، احمدبلال، احمد جمال اور عائزہ فاطمہ کا جن کا وقت بھی میں نے اس داستان کو دیا۔
اگر آپ کو اس داستان سے کچھ بھی اچھا لگے، تو عرض ہے ، میرے لئے دل سے دعا کر دیجئے گا۔ رَبّ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
امجد جاوید