Episode 93 - Qalander Zaat Part 3 By Amjad Javed

قسط نمبر 93 - قلندر ذات (تیسراحصہ) - امجد جاوید

” بیٹا بیٹھو تو سہی، ہم بات کرتے ہیں۔ میں انہیں سمجھاتا ہوں۔ کوئی صلح کی راہ نکالتے ہیں۔“ سردار ویر سنگھ نے کہا تو جسپال بولا
” آپ سے تو اب تعلق رہے گا، یہ ہم چاہیں گے، وہ دونوں ہم سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں تو جو میں نے کہا ہے، وہی کریں، باقی میں خود دیکھ لوں گا۔“ یہ کہہ کر وہ کوئی سنے بنا باہر کی طرف چل پڑا۔بلبیر سنگھ پینچ اور انوجیت بھی اس کے ساتھ چلتے ہوئے گاڑی میںآ بیٹھے۔
ان کے ڈیرے سے نکل کر جب وہ اوگی پنڈ کی طرف جانے کے لئے سڑک پر چڑھے تو ساتھ بیٹھے ہوئے بلبیر سنگھ نے پوچھا
” جسپال، تو نے بہت سخت بات کر دی۔وہ دونوں یہ کبھی نہیں چاہیں گے۔ وہ تو بڑا دکھی تھا۔“
” نہیں پینچ صاحب ایسا نہیں ہے، وہ ویر سنگھ بھی ڈرامہ کر رہا ہے۔ اس کا یہ لہجہ اور انداز اب صرف ان دونوں کو بچانے کے لئے ہے۔

(جاری ہے)

کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ دونوں اس ویر سنگھ کی مخالفت میں ایک قدم بھی اٹھا سکیں۔

ان سب کی ملی بھگت ہے۔“ جسپال نے ڈرئیونگ کرتے ہوئے سڑک پر دیکھتے ہوئے کہا
” تمہیں یہ کیسے احساس ہوا؟“ بلبیر سنگھ نے پوچھا
”اس نے جو باتیں کی یں، ان پر غور کریں۔ وہ اپنے دکھ نہیں سنا رہا تھا ، ان دونوں کی صفائی دے رہا تھا۔ اس نے بالکل ویسا ہی کیا ہے جو میں نے رات بشنام سنگھ سے باتیں کر کے سوچا تھا۔“ اس نے جواب دیا
” تم بشنام سنگھ سے ملے تھے؟“ انوجیت نے پوچھا
” ہاں۔
! میں اور ہر پریت ، وہیں سے ، شادی والے گھر ہی سے بشنام سنگھ کے گھر چلے گئے تھے۔ میں نے بڑی تفصیل سے بات کی ہے اس کے ساتھ۔ یہ ویر سنگھ دوہری چال چل رہا ہے۔“ جسپال نے کہا
” بہت دکھ ہوا یہ سن کر۔“ بلبیر سنگھ نے تاسف بھرے لہجے میں کہا
” دُکھ تو اس بات کا پینچ صاحب کہ یہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ نہیں دے رہے ہیں، بلکہ یہ دھرم کے ساتھ بھی کھلواڑ کر رہے ہیں۔
نام دھرم کا لیتے ہیں لیکن قوت اپنے لئے حاصل کرتے ہیں۔ میں نے پورے علاقے میں اس کا زیادہ دھرم کو ماننے والا چنا تھا، مگر وہ کچھ اور ہی نکلا۔خیر، اب دیکھتا ہوں یہ کرتے کیا ہیں۔“ جسپال نے سر جھٹکتے ہوئے کہا ۔ ان کے درمیان شاید مزید بات چلتی،تاہم اسی لمحے ہر پریت کی کال آ گئی۔ انکے گھر کچھ مہمان آ ئے ہوئے تھے۔ ان میں خاموشی پھیل گئی تھی۔
یہ خاموشی اوگی پنڈ تک ایسے ہی رہی۔ وہ بلبیر سنگھ کو اس کے گھر اتار کر واپس چل پڑے۔ جسپال سنگھ خود پر بہت حد تک قابو پا چکا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب سے کھیلے گا۔
وہ گھر پہنچے تو ان کے لان میں بشنام سنگھ کے ساتھ تین افراد مزید بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ گاڑی پورچ میں روکنے کے بعد انہی کی جانب بڑھ گئے۔ اس کی آ مد پر وہ چاروں ہی کھڑے ہو گئے تھے۔
” ست سری اکال جی۔“ اس نے فتح بلائی تو سب نے بھی ایسے ہی فتح بُلا دی تو اس نے کہا،” جی بیٹھیں ، تشریف رکھیں۔“
وہ سب بیٹھ گئے تو بشنام سنگھ نے مسکراتے ہوئے ان کا تعاف کرایا۔ ان میں سے ایک جالندھر کا وکیل تھا، اور دو نکودر سے کاروباری تھے۔ ان تینوں کا تعلق اسی پارٹی سے تھا جس کا بشنام سنگھ ممبر تھا اور پرتاب سنگھ مجھیٹیا اس پارٹی کا وزیر تھا۔
وہ خیر سگالی کے طور پر اس کے پاس آئے تھے۔ جسپال کو معلوم تھا کہ وہ کس کے کہنے پر آئے ہیں۔ پھر بھی ان کی خاصی آؤ بھگت کی گئی۔ وہ دیر تک ان کے ساتھ بیٹھا گپ شپ لگاتا رہا ، یہاں تک کہ وہ اپنی تمام تر نیک تمناؤں کا اظہار کر کے چلے گئے۔ انہوں نے اس پر خاصا زور دیا تھاکہ وہ ایک بار چندی گڑھ ضرور جائے۔ اس نے بشنام سنگھ سے طے کر لیا کہ آج کل میں ضرور جاتے ہیں۔
جسپال اپنے کمرے میں چلاگیا۔ وہ فریش ہوا اور ایک کرسی پر آکر بیٹھ گیا۔ وہ ان تازہ حالات پر سوچنے لگا تھا۔ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ایسے میں ہر پریت کمرے میںآ گئی ، اس نے غور سے جسپال کو دیکھا اور مصنوعی حیرت سے بولی
” یہ کیا ، ابھی تو اچھے بھلے تھے تم؟“
اس پر جسپال نے اسے دیکھا اور پھر اسی طرح مسکراتے ہوئے بولا
” تمہیں سوچ رہا تھا، اور ظاہر ہے تم ایسی شے ہو ، جو بندے کو پاگل کردے۔
رات کی تم تو میرے حواسوں پر چھا گئی ہو۔“
” اچھا ، رات سے حواسوں پر چھائی ہوئی ہوں، پہلے کہاں پرچھائی ہوئی تھی؟“ اس نے شوخی سے پوچھتے ہو ئے دوسری کرسی قریب کی اور اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
” پہلے صرف دماغ پر ۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا
 ”مطلب میں تمہارے دل میں نہیں ہوں۔“ وہ حسرت آ میز لہجے میں بولی تو فضا ایک دم سے سوگوار سی ہو گئی۔ چند لمحے وہ خاموش رہی اور پھر تیزی سے اٹھ کر چلی گئی۔ جسپال اسے حیرت سے دیکھنے لگا کہ یہ تو اچھی بھلی تھی اسے کیا ہوا؟ پھر یہی سوچ کر بیٹھا رہا کہ یہ بھی اس کی کوئی ادا ہی ہوگی۔ خود ہی مان جائے گی۔
                                   #…#…#

Chapters / Baab of Qalander Zaat Part 3 By Amjad Javed

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

آخری قسط