اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی پیدا کرنے کیلئے چارونڈ پاور پلانٹ تیار، جلد افتتاح ہوگا:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14مارچ ۔2009ء)قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ ملک میں تجارتی پیمانے پربجلی پیدا کرنے کیلئے چار ونڈ پاور پلانٹ مکمل ہو چکے ہیں جن کا افتتاح وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جلد کریں گے ۔ ہفتہ کو وقفہ سوالات کے دوران پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے ایوان کو بتایاکہ متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ نے ملک میں متبادل توانائی کیلئے کئی منصوبے شروع کیے ہیں حکومت کی ترجیح ہے کہ زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی کیذریعے چلایا جائے ۔ اس ضمن میں عالمی بنک کے تعاون سے تجرباتی منصوبے پر کام جاری ہے توقع ہے کہ اس سال کے آخر تک زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا کام شروع کردیا جائے گا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایاکہ بائیوڈیزل کی تیاری کیلئے مشاورتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے اور دس ہزار ٹن سالانہ بائیوڈیزل کی پیداوار کیلئے جائزے کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ دیا میربھاشا ڈیم کے دو پاور سٹیشنوں میں سے ایک شمالی علاقہ اور ایک صوبہ سرحد میں قائم کیا جائے گا ایک اورسوال کے جواب میں محنت وافرادی قوت کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے ایوان کو بتایاکہ اس سال چارلاکھ تیس ہزار پاکستانی بیرون ملک بھیجے جائیں گے یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک لاکھ پچاس ہزار زیادہ ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ ہمار امعاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ہماری خواتین بیرون ملک جاکر محنت مزدوری کرسکیں ۔وفاقی وزیرنے بتایاکہ گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے یورپین یونین نے 1330,301 امریکی ڈالر اور آئی ایل او نے 1331,568 امریکی ڈالر کی رقوم فراہم کی گئیں یہ رقم ہتک آمیز چائلڈ لیبر کا خاتمہ ٹو  پراجیکٹ کیلئے استعمال کی جارہی ہے جو کہ آئی ایل او کا اسلام آباد دفتر چلا رہا ہے ایک اور سوال کے جواب میں وزیر پانی وبجلی نے ایوان کوبتایا کہ انرجی سیورز کی تقسیم کے ضمن میں شروع کردہ پراجیکٹ کوختم نہیں کیا گیا اگرچہ اس پراجیکٹ میں کچھ تاخیر ہوئی ہے تاہم پھر بھی سال2009ء کے آخر تک انرجی سیورز کی خریداری کمل کیے جانے کی توقع ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کے درمیان خالص ہائیڈل منافع کے تنازعہ کے حل کیلئے جلد ہی ایک میٹنگ بلانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔انہوں نے بتایاکہ واپڈا وفاقی حکومت کی ہدایت پر حکومت سرحد کو باقاعدگی سے سالانہ چھ ہزار ملین روپے نیٹ ہائیڈل پراجیکٹ کی ایڈہاک ادائیگی کے طورپر ادا کررہا ہے ۔ رواں سال کیلئے اس وقت تک پندرہ سو ملین روپے ادائیگی کی جاچکی ہے جبکہ 4500 ملین روپے کی رائلٹی 30جون2009ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ادا کردی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں وزیرپانی و بجلی راجہ پرویزمشرف نے بتایاکہ پیپکو کے نظام کے تحت ملک میں ہائیڈل پاور کے چھ یونٹوں کے ذریعے 6444میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جنریٹر کے ذریعے پیدا کی جانیوالی بجلی کی مقدار4840 میگا واٹ ہے رینٹل کے ذریعے 285 اور آئی پیز کے ذریعے 8552 میگاواٹ بجلی پیداکرنے کی گنجائش ہے انہوں نے بتایاکہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک میں ساٹھ ہزار813 ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں اس سال دس ہزار پانچ سو ٹیوب ویل لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جس سے جنوری 2009ء تک 6202 ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں اور تمام ٹیوب ویل سیلف فنانس کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پارلیمانی امور کی وزیرمملکت مہرین انور راجہ نے بتایاکہ اسلام آباد میں غیر ملکی کمپنیوں کو الاٹ کیے گئے پلاٹس سے زرمبادلہ حاصل ہوا ہے اور اس سے ریونیو میں اضافہ ہو گا ایگرو فارمز کے حوالے سے انہوں نے بتایاکہ ایگرو فارمز کے پلاٹ متاثرہ افراد کو دیئے گئے ہیں جبکہ 13پلاٹ کھلی نیلامی کے ذریعے الاٹ کیے گئے ۔

14/03/2009 14:01:56 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے