اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری، ملک بھر میں مظاہرے ،صدر زرداری کی زیر صدارت اجلاس،گھریلو صارفین کیلئے گیس کی لوڈشیڈنگ ختم۔اپ ڈیٹ:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2جنوری۔2008ء)ملک میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلوں صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کے خلاف ملک بھر کے مختلف شہروں میں مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ لوگ بڑی تعداد میں گلیوں اور سڑکو ں پر نکل آئے ۔ مشتعل مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس کے باعث ایک طرف تو گھریلو صارفین سخت پریشان ہیں تو دوسری طرف صنعتیں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ادھرصدر مملکت آصف علی زرداری نے ہدایت کی ہے کہ ملک میں گھریلو صارفین کیلئے قدرتی گیس کی لوڈ شیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے اور بجلی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے متعدد قلیل اور طویل مدتی منصوبے فوری طور پر شروع کیے جائیں ۔ ایوان صدر اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ملک میں بجلی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کیلئے گیس لوڈ شیڈنگ کا سہارا نہ لیا جائے کیونکہ اس سے عوام کے مسائل میں اضافہ ہو گا۔ صدر نے طویل مدتی بنیاد پر بجلی کی قلت دور کرنے کیلئے جدت کے حامل اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا جیسا کہ پی پی پی کی حکومت نے 1990ء کی وسط دہائی میں کئے تھے ۔ صدر نے کہا کہ تیل و گیس کی تلاش کیلئے سرمایہ کاروں کو مراعات فراہم کرنے کیلئے مجوزہ پٹرولیم پالیسی کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ متعدد چینی کمپنیوں نے تیل و گیس کی تلاش میں دلچسپی ظاہر کی ہے اس لیے ان کے ساتھ اس مقصد کیلئے رابطہ کیا جانا چاہئے ۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے توانائی کی مجموعی صورتحال کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے پاس تمام وسائل سے 6500 میگاواٹ بجلی دستیاب ہے جبکہ قومی طلب 11000 میگاواٹ ہے ۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ پنجاب حکومت کے اتفاق کی صورت میں ارسا کو فوری طور پر پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیلئے پانی کی اضافی مقدار جاری کرنی چاہئے ۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کے ای ایس سی کو بجلی کی پیداواری استعداد بڑھانے کیلئے 50 ملین میٹرک مکعب فٹ اضافی گیس اور 8000 ٹن ایندھن فراہم کی جائے ۔ اس سے واپڈا سے بوجھ کم ہو گا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بجلی کی پیداوار کی ایندھن لاگت کو جزوی طور پر پورا کرنے کیلئے فوری طور پر 7.5 ارب روپے جاری کئے جائیں۔اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن، وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف، مشیر خزانہ شوکت ترین، وزیراعظم کے مشیر برائے پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین اور واپڈا، تیل و گیس سے متعلق سرکاری کارپوریشنز، ارسا اور کے ای ایس سی کے نمائندوں کے علاوہ دیگر نے شرکت کی۔ وفاقی حکومت نے گھریلو صارفین کو گیس کی لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے ۔اور ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے فیول کی خریداری کیلئے وزارت خزانہ نے ساڑھے سات ارب روپے جاری کئے ہیں۔ یہ بات اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن اور وفاقی وزیر پانی و بجلی نے صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتائی۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے کہا کہ ملک کو اس وقت ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کی ایک وجہ آبی ذخائر میں پانی کی کمی اور ان سے پانی کا کم اخراج ہے ۔انہوں نے کہا کہ صدر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بجلی اور گیس کے بحران پر قابو پانے کیلئے مانیٹرنگ کمیٹیاں بنانے پر بھی اتفاق ہوا اور جون سے قبل سسٹم میں دوہزار میگاواٹ بجلی مزید لانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔اس موقع پر وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ایک سو اٹھاون ارب کا سرکلر ڈیٹ اور ایک سو پندرہ ارب روپے کی سبسڈی حکومت کیلئے مشکلات کا باعث بن رہی ہے جبکہ ماضی میں پاوور سیکٹر پر توجہ بھی نہیں دی گئی اسلئے سرکلر ڈیٹ کو چھ ماہ کے اندر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اور بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ دسمبر دوہزار نو تک ملک میں پینتیس سو میگاواٹ بجلی مزید پیدا کرنے کے منصوبے مکمل ہونے کے بعد لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا اور فیول سے بجلی پیداکرنے کیلئے تیس ہزار ٹن فیول روزانہ بجلی گھروں کو فرایم کرنے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اکتیس جنوری کے بعد ملک میں آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں اضافے کے بعد صورتحال میں بہتری آئے گی۔جبکہ بجلی کے بلوں کی مد میں کے ای ایس سی کے ذمہ اسی ارب اور فاٹا کے ذمہ ستر ارب روپے واجب الادا ہیں اور دوہزار پندرہ تل توانائی کے شعبے میں تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی جس میں نجی سیکٹر کا حصہ بیس ارب ڈالر ہے

02/01/2009 23:08:59 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے