اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

پاکستان اور ایران کے درمیان بجلی کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے کا سمجھوتہ طے پا گیا۔ ایران کی زاہدان کے قریب 1000 میگا واٹ پلانٹ کو پاکستان کو بجلی برآمد کرنے کیلئے مختص کرنے کی پیشکش۔پاکستان میں 37 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے 22000 میگا واٹ بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے منصوبوں میں اظہار دلچسپی:
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین31دسمبر2008 )پاکستان اور ایران کے درمیان بجلی کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے اور موجودہ منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے کیلئے سمجھوتہ طے پا گیاہے۔ ایران نے زاہدان کے قریب گیس سے چلنے والے 1000 میگا واٹ پیداواری صلاحیت کے حامل پاور پلانٹ کو پاکستان کو بجلی برآمد کرنے کیلئے مختص کرنے کی پیشکش کی ہے اور2025 ء تک 37 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے 22000 میگا واٹ بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف منصوبوں کی تکمیل کی مدت مقرر کرنے اور رکاوٹیں دور کرنے کیلئے وزارتی سطح پر ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ 100 میگا واٹ بجلی کی درآمد کیلئے ٹرانسمیشن لائن 2009 ء کے اختتام تک ایرانی کمپنی کی جانب سے مکمل کر لی جائیگی۔ جبکہ ایران سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی درآمد کرنے کی فزیبلیٹی سٹڈی کی تیاری کے دوران ایک ہزار میگا واٹ اضافی بجلی کی فراہمی کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔پہلے سے جاری اور نئے طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کیلئے ایرانی نائب وزیر توانائی عباس علی عابدی اور پیپکو کے منیجنگ ڈائریکٹر فضل احمد خان کو اپنے اپنے ممالک کی جانب سے رابطہ کار مقرر کیا گیا۔
ایران کے نائب وزیر اور وزارت پانی و بجلی کے مشیر نے اعلامیے پر دستخط کئے۔ سرکاری بیان کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کے ایرانی وفد نے وزیر توانائی انجینئر پرویز فتح کی سربراہی میں 29 سے 31 دسمبر تک پاکستان کا دورہ کیا۔ انہیں اس دورے کی دعوت پاکستان کے وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے دی تھی۔فریقین نے گوادر پورٹ کیلئے 100 میگا واٹ بجلی کی درآمد ، ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب اور زاہدان(ایران) اور کوئٹہ (پاکستان) کے درمیان ہزار میگا واٹ ٹرانسمیشن لائن کی فزیبلیٹی سٹڈی پر کام کی سست روی کا بھی نوٹس لیا۔ ایرانی جانب سے یہ پیشکش کی گئی کہ زاہدان کے قریب گیس سے چلنے والے 1000 میگا واٹ پیداواری صلاحیت کے حامل پاور پلانٹ کو پاکستان کو بجلی برآمد کرنے کیلئے مختص کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیشکش پہلے سے ہزار میگا واٹ کی فراہمی کی پیشکش کے علاوہ ہے۔ پاکستانی جانب سے بتایا گیا کہ پاکستان میں پانی و بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں۔ اس حوالے سے 16000 میگا واٹ پیداواری صلاحیت کے منصوبوں نشاندہی کی گئی جن پر2025 ء تک 26 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اس کے علاوہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کیلئے 6000 میگا واٹ کی منصوبوں کی بھی نشاندہی کی گئی جو 7 ارب ڈالرکی لاگت سے 2015 ء تک پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔ دریں اثناء ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن سسٹم کے علاوہ نئے جنریٹنگ پلانٹس کا معاملہ بھی زیر غور آیا جن پر 4 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا ہے۔ ایران کی جانب سے مذکورہ تمام منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا اور یقین دلایا گیا کہ ایران کی سرکاری و نجی کمپنیاں ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کے امکان کا جائزہ لیں گی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایرانی کمپنی میسرز فراب انرجی کی جانب سے 130 میگا واٹ کے زیر تعمیر سہرا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں ایرانی حکومت تعاون کرے گی۔

31/12/2008 18:58:39 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے