اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اراضی کا حصول مئی جون میں شروع ہو گا ، چیئرمین واپڈاشکیل درانی ، جولائی میں کنٹریکٹر کالونی کی تعمیر بھی شروع ہو جائے گی، چین نے خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور فاٹا میں بجلی کے منصوبوں پرکام کرنے سے انکار کر رکھا ہے، بجٹ کے بعد ڈیموں کی فنڈ ریزنگ کیلئے انٹرنیشنل ڈونر کانفرنس بلائی جائے گی ، ایران سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی درآمد میں تین سال لگیں گے، یو ایس ایڈ نے پاور جنریشن کے تین منصوبوں کیلئے 125 ملین ڈالر فراہم کر دیئے ہیں ،سیکرٹری پانی وبجلی شاہد رفیع ، قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کوبریفنگ:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26اپریل ۔2010ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کو بتایا گیا ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اراضی کا حصول مئی جون میں شروع ہو جائیگا جبکہ جولائی میں کنٹریکٹر کالونی کی تعمیر بھی شروع ہو جائے گی، چین نے خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور فاٹا میں بجلی کے منصوبوں پرکام کرنے سے انکار کر رکھا ہے، بجٹ کے بعد ڈیموں کی فنڈ ریزنگ کیلئے انٹرنیشنل ڈونر کانفرنس بلائی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو چیئرمین لشکری رئیسانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے دیگراراکین کے علاوہ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف، سیکرٹری پانی و بجلی شاہد رفیع، چیئرمین واپڈا شکیل درانی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے ملک میں پانی اور بجلی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور وزارت کو جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین واپڈا شکیل درانی نے کمیٹی کو بتایا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی لینڈ ایکوزیشن کے معاملات طے پا گئے ہیں اور مئی جون میں اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ چینی انجینئرز نے خیبر پختونخواہ ،بلوچستان اورفاٹامیں بجلی کے منصوبوں پر کام کرنے سے انکار کر رکھا ہے اس لئے ہم دوسرے انجینئرز سے کام لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ منڈا ڈیم منصوبے کا کیس سپریم کورٹ میں پڑا ہے ہماری کوشش ہے کہ اسے جلد از جلد نمٹایا جائے اور اس منصوبے کو مکمل کیا جائے، ملک میں آئی پی پیز کے 10 منصوبے پائپ لائن میں ہیں جن سے 2066 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی ،دو منصوبے ایک ،دوروز میں کام شروع کر دیں گے جن سے اڑھائی سو میگاواٹ بجلی ملے گی۔ سیکرٹری پانی و بجلی شاہدرفیع نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارا ہدف 32 ڈیم بنانے کا ہے مگر اس سال پی ایس ڈی پی میں پیسے ریلیز نہیں کئے گئے۔ ایران سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی درآمد میں تین سال لگیں گے۔ یو ایس ایڈ نے پاور جنریشن کے تین منصوبوں کیلئے 125 ملین ڈالر فراہم کر دیئے ہیں جبکہ وہ ڈیموں کیلئے ساڑھے پانچ ارب ڈالر بعد میں فراہم کرے گا۔ وزیراعظم کی طرف سے قائم کردہ 20 ارب روپے کا انرجی فنڈ مزید مضبوط اور مستحکم کیا جائیگا اور اس کی رقم پانی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ کمیٹی نے بلوچستان کے وندر ڈیم کے معاملے پر بھی غور کیا جس میں کم بولی دینے والی کمپنی آغا کنسٹرکشن کو ٹھیکہ نہیں دیا گیا جنہوں نے 11 ارب روپے کی بولی دی تھی۔ 12 ارب کی بولی والی جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے وہ پورٹ قاسم کیس میں بلیک لسٹ ہے۔ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی چوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارش کی کہ بجلی چوروں کیخلاف سخت سے سخت ایکشن کیا جائے اور اس حوالے سے کسی اثرو رسوخ کو خاطر میں نہ لایا جائے۔

26/04/2010 21:33:28 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے