اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

حالیہ دنوں میں لوڈ شیڈنگ کی بنیادی وجہ پانچ نئے پاوور پلانٹس کو گیس کی عدم فراہمی ہے، راجہ پرویز اشرف:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 18دسمبر۔ 2009ء)پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں لوڈ شیڈنگ کی بنیادی وجہ گیس نہ ملنے کے باعث 1200میگاواٹ کے پانچ نئے نجی پاور پلانٹس کی پیداوار شروع نہ ہونا اور بھل صفائی کی وجہ سے نہروں کی سالانہ بندش ہے ۔ کہ ان دنوں میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ ہماری توقعات کے برعکس ہے کیونکہ پانچ نئے پاور پلانٹس 98فیصد تیار ہیں لیکن گیس نہ ہونے اور سیکورٹی صورتحال کے باعث ان کی پیداوار شروع نہیں ہو سکی ہے جو کہ دسمبر تک شروع ہونا تھی ۔انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز اپنے دفتر میں صحافیوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے کہی ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 1800میگاواٹ کے آٹھ نئے پاور پلانٹس میں سے 600میگاواٹ کے تین پاور پلانٹس کا افتتاح ہو چکا ہے اور انہوں نے اپنی پیداوار شروع کر دی ہے ۔ جبکہ باقی پانچ پلانٹس کو گیس کی کمی کی وجہ سے ٹیسٹ اور کمیشن ہونے کے لئے گیس فراہم نہیں کی گئی ہے ۔ جبکہ ملکی امن و امان کی صورتحال کے باعث ان پاور پلانٹس کو چلانے کیلئے بیرونی ممالک سے انجینئرز بھی پاکستان میں آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت پٹرولیم کی طرف سے 120ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی ڈیمانڈ کی بجائے صرف 38ایم ایم سی ایف ڈی گیس مل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تین نئے پاور پلانٹس کو چلانے کیلئے باری باری جنوری سے لے کر مارچ تک کے عرصے میں گیس فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ تاکہ یہ پلانٹس اپنی جنریشن شروع کر سکیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ 21دسمبر سے لے کر 31جنوری تک نہریں ہر سال بند کی جاتی ہیں اور پن بجلی میں کمی واقع ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال یہ کمی 3000میگاواٹ سے لے کر 4000میگاواٹ تک تھی لیکن اس مہینے شارٹ فال 1500سے 2000میگاواٹ سے زیادہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سالوں د سمبر جنوری میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ آٹھ گھنٹے تک تھا لیکن اس دفعہ ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرکلر ڈیٹ جیسے بڑے مسئلے کو ختم کر دیا ہے۔پبلک سیکٹر تھرمل پاور پلانٹس کی کارکردگی کو بہتر کیا ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بجلی کے صارفین جو ماضی میں اپریل کے مہینے میں چھ سے آٹھ گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ برداشت کرتے رہے ہیں۔ اس دفعہ اس میں نمایاں کمی دیکھیں گے بلکہ شاید محسوس بھی نہیں کر پائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاور سیکٹر کی ترقی کے لئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو سرمایہ کاری کے لئے موبلائز کیا ہے ۔ ڈسٹری بیوشن انفراسٹرکچر اور پاور ٹرانسمشن میں بہتری کے لئے ورلڈ بینک ،اے ڈی بی ، JICA،AFD،KFW،GTZاور دوسرے ڈونر اور ڈویلمپنٹ انجینئر سے سرمایہ کاری کے فاسٹ ٹریک پروگرام پر کو آرڈینیشن اور باہمی رابطے کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بچت کے لئے عوام سے اپیل کی جبکہ بجلی کی چوری ختم کرنے کے لئے اہداف اور بھر پور مہم چلانے کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کیپٹوپاور پلانٹس کوPay and Takeکی بنیادوں پر اپنے سسٹم میں شامل کیا گیا۔ نئی کیپٹو پاور پالیسی بنائی گئی جس کے تحت ان پلانٹس سے250میگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پبلک سیکٹر جنریشن کیپسٹی انہا سمنٹ پلان پر بھی کام کیا جارہا ہے جس سے 2015تک قومی گرڈ میں 10ہزار میگاواٹ شامل کرنے کا منصوبہ ہے ۔ جبکہ تھر سے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے ۔ بھاشا ڈیم سمیت دیگر ہائیڈل پاور منصوبوں اور وسطی ایشیا کی ریاستوں اور ایران سے بجلی کی درآمد کے منصوبوں پربھی کام جاری ہے ۔

18/12/2009 20:15:18 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے