اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

پنجاب کے مختلف شہروں سمیت ملک بھر میں بدترین لوڈ شیڈنگ جاری:
اسلام آباد،لاہور،ملتان،شیخوپورہ،گوجرانوالہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔11اپریل ۔2010ء)پنجاب کے مختلف شہروں سمیت ملک بھر میں بدترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔مظاہروں کے بعد لاہور ریجن میں لوڈشیڈنگ میں دو گھنٹے کمی کے احکامات جاری کر دیئے گئے ۔ جبکہ راولپنڈی کے تاجروں نے بھی احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا۔بجلی کے بحران کی وجہ سے شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے جبکہ دیہات میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ۔ طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کاروبارزندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ۔ ملک بھر میں عوام لوڈشیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے ہیں ۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صنعتی علاقوں میں ایک شفٹ بند ہوگئی ہے ۔ جس سے ہزاروں افراد کے بیروزگار ہونے خدشہ پیدا ہوگیاہے۔16سے 18گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف لاہور ، ملتان ،گجرانوالہ ، شیخوپورہ اور گردونواح کے علاقوں میں شہریوں، تاجروں اور صنعتکاروں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔ مظاہرین نے وفاقی حکومت اور واپڈا کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور سرعام حکومت کو غلیظ گالیوں سے نوازا ہے۔مظاہرین نے میڈیا کو بھی انتباہ کیا ہے کہ وہ فضولیات سے ہٹ کر عوام کے بڑے مسائل لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے خلاف عوام کی آواز کو بلند کریں۔ صوبائی دارالحکومت لاہور ، ملتان ،گجرانوالہ ، شیخوپورہ اور گردونواح کے علاقوں میں بجلی کی 16سے 18تک کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں می شدت آگئی ہے۔ مظاہرین نے انتباہ کیا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری رہی تو وہ مظاہرے جاری رکھیں گے۔دوسری جانب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی گزشتہ روز لندن میں قیام کے دوران وزیر پانی وبجلی راجہ پرویز اشرف سے رابطہ کرکے پنجاب کے اہم شہروں بالخصوص لاہور میں لوڈشیڈنگ کے شیڈول پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی ۔ وزیراعظم کی ان ہدایات کے باوجود لوڈشیڈنگ کے شیڈول پر جائزہ نہیں لیا جاسکا پنجاب کے مختلف شہروں میں بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں اور جلاوٴ گھیراوٴ کا سلسلہ جاری ہے ۔ اور اس حوالے سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ مختلف شہروں میں شیڈول کے علاوہ کئی کئی گھنٹوں بجلی کی بندش کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ جو کہ مظاہروں کے حوالے سے جلتی پر تیل کاکام دے رہی ہیدوسری طرف تین سو میگاواٹ کا چشمہ ایٹمی بجلی گھر جون تک سالانہ مرمت کے لئے بند کر دیا گیا۔لاہور میں پیپکو حکام نینجی ٹی وی کو بتایا کہ بجلی کی مجموعی پیداوار دس ہزار دو سو اڑتالیس میگاواٹ کے مقابلے میں چار ہزار آٹھ سو اکہتر میگاواٹ کی قلت کا سامنا ہے۔حکام نے کہا ہے کہ لاہور میں پچھلے دو روز کے احتجاجی مظاہروں کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت کے مطابق لوڈ شیڈنگ دو گھنٹے کم کرنے پر عمل درآمد کے لئے نیا شیڈول تیار کیا جارہا ہے۔صوبائی دارالحکومت میں گیارہ کے بجائے نو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا لیکن غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے بارے میں خدشات ختم نہیں ہوئے۔ سولہ گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف فیصل آباد،گوجرانوالہ اور ملتان میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔مظاہرین نے ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کردی اور شدید نعرے بازی کی گئی۔پیپکو کے ڈائریکٹر جنرل محمد خالد نے کہا ہے کہ تین سو میگاواٹ کے چشمہ نیوکلیئر بجلی گھر کو مرمت کے لئے جون تک بند کردیا گیا ہے لیکن گدو بجلی گھر میں ایک سو اسی میگاواٹ کا بند یونٹ نے دوبارہ پیداوار شروع کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی کی ہدایت پر اتوار کے روز بھی دفاتر کھول کر لوڈ شیڈنگ کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹوں میں شام چھ بجے سے رات دس بجے تک لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد پیر سے ہونے کا امکان ہے۔واپڈا کے قانونی مشیرمنیراحمدخان نے نجی ٹی وی کوبتایا کہ لاہورمیں مظاہروں کے بعد وفاقی وزیر پانی وبجلی اسلام آباد میں قائم نیشنل پاورکنٹرول سینٹر پہنچے اور آیندہ خودتمام شہروں کی لوڈ شیڈنگ مانیٹرکرنے کا اعلان کیا۔ راجا پرویزاشرف نے ورلڈ بینک، پٹرولیم حکام اور تیل کمپنیوں سے ہنگامی مذاکرات کیے اورلاہورمیں لوڈشیڈنگ کادورانیہ دوگھنٹے کم کرکے 9گھنٹے اورنواحی دیہات میں 11گھنٹے کردیا، تاہم ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال4600میگاواٹ پر برقرار ہے۔کے ای ایس سی ذرائع کے مطابق شہر میں بجلی کی طلب اور رسد کا فرق ساڑھے تین سو میگا واٹ ہے۔اندرون سندھ حیدرآباد، لاڑکانہ،نواب شاہ،گھوٹکی،بدین،ٹھٹہ،سکھر ،میر پور خاص اور دیگر علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے اور دیہی علاقوں میں سولہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔فیصل آباد کے شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ آٹھ گھنٹے سے زائد اور دیہی علاقوں میں دس گھنٹے سے تجاوز کرگیا ہے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آٹھ گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 18گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔کیسکوکے مطابق صوبے میں بجلی کی ضرورت 1160میگا واٹ ہے لیکن صرف 660میگاواٹ بجلی دستیاب ہے۔پشاور کے شہری علاقوں میں 12 سے 14 جبکہ دیہی علاقوں میں 18 سے 20 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ مردان، کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، اور مانسہرہ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو دہرے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

11/04/2010 17:51:42 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے