اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"کیری لوگر بل" پر مزید کوریج

این آر او کے ذریعے حکومت میں آنیوالے کیری لوگر بل کے سائے میں اقتدارکو دوام دینا چاہتے ہیں، سید منور حسن:
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔09 اکتوبر ۔2009ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے کہاہے کہ این آر او کے ذریعے حکومت میں آنے والے کیری لوگر بل کے سائے میں اقتدارکو دوام دینا چاہتے ہیں۔کیری لوگر بل پاکستان کے خلاف چارج شیٹ ہے، امریکہ کے ساتھ بھارتی غلامی کو بھی بخوشی قبول کرلیا گیا ہے۔ کورکمانڈر کانفرنس کے بعد بیان جاری کرنے کے حق میں نہیں۔ جمہوریت کی بقا کے لیے اس نظام کا چلتے رہنا بہتر ہے مگر قوم کو امریکی غلامی میں دینے کی حکومتی روش قبول نہیں۔ فوج کو گڈگورننس سے روکنا ہوگا، امریکی ضمانتوں سے فوجی مداخلت کو نہیں روکا جاسکتا۔ قومی اسمبلی میں بل پر بحث خوش آئند ہے،قوم میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے پارلیمنٹ اس بل کو کلی طور پرمسترد کردے۔وفاقی دارالحکومت پر امریکی جنگی طیاروں کا گشت خطرے سے خالی نہیں، حکومت وضاحت کرے۔قبلہ اول کی آزادی کے لیے امت مسلمہ کو متحد ہو کر جدوجہد کرنی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جامع مسجد منصورہ میں نماز جمعہ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیدمنورحسن نے کہا کہ کورکمانڈرز اجلاس کے بعد آئی ایس پی آر کو بیان جاری نہیں کرنا چاہیے تھا، ہم اس کے حق میں نہیں ہیں۔ سید منورحسن نے کہا کہ صدر،وزیراعظم اور وزیر اطلاعات نے کیری لوگر بل کے حق میں بیان دیے اورپیپلز پارٹی کو متحرک کرنے اور مخالفین کو جواب دینے کے احکامات جاری کیے لیکن کورکمانڈر کانفرنس کے بعدحمایتی ’پارے‘ میں کمی آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت فوج کے بارے میں شقوں پر خوش ہے کہ وہ حکومت میں مداخلت نہیں کرے گی۔حالانکہ فوج امریکی دباوٴ سے نہیں، گڈ گورننس سے رکے گی۔انھوں نے کہا کہ کیری لوگر بل پاکستان کے خلاف چارج شیٹ ہے۔اس کے ذریعے پاکستان کو امریکہ کے ساتھ بھارت کا بھی غلام بنایا گیا ہے اورحکومت نے اس کو بخوشی قبول کرلیا ہے۔انھوں نے کہا کہ بھارت نے مگ طیارے پاکستانی سرحد پر لگا دیے ہیں اور اعلانیہ طور پر پاک سرحد پر فوج میں اضافہ کررہاہے۔جبکہ پاکستان سے کہا جارہاہے کہ بارڈر خالی کرکے فوج مغربی سرحد پر لے جائے اور جنوبی وزیرستان اور کوئٹہ میں آپریشن کرے۔انھوں نے کہا کہ دوسری طرف امریکی جنگی طیارے اسلام آباد پر گشت کررہے ہیں اور وہاں منی پنٹاگون بن رہاہے اور ایلیٹ میرینز کے نام جنگجو فوجی تعینات کیے جارہے ہیں تاکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کنٹرول حاصل ہو اور پاک بھارت جنگ کی صورت میں پاکستان کچھ نہ کرسکے۔سید منورحسن نے کہا کہ امریکی طیاروں کا کھلے عام وفاقی دارالحکومت پر گشت کرنا خطرے سے خالی نہیں مگر ان کی آمد کو کوئی دہشت گردی قرار نہیں دیتااور نہ کورکمانڈرز اس کا نوٹس لیتے ہیں نہ کوئی بیان دیتے ہیں۔البتہ اس کے خلاف احتجاج کرنے والے انتہاپسند کہلوائیں گے۔ یہ جنگی طیارے فوجی رسد، کمک اور فوجیوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوئی نہیں جو پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر سوال کرے کہ یہ جنگی طیارے کیوں آرہے ہیں اور اسلحہ اور فوجی سازوسامان کہاں ڈمپ کیاجارہاہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی اس کی وضاحت کرنی چاہیے ورنہ عوام خاموش نہیں رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے انتہاپسندی بڑھے گی اور بعض لوگ ان طیاروں کو ہٹ کرنے کی تدابیر اختیار کرسکتے ہیں۔ سید منورحسن نے کہا کہ کوئٹہ شوری ایک افسانہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ سرحد میں امریکی پہلے ہی حملے کررہے ہیں،اب بلوچستان میں داخلے کا بہانہ تلاش کررہے ہیں۔ کوئی نہیں جو معذرت کے خول سے باہر نکل کر بات کرے۔انھوں نے کہا کہ حکمران ثبوت مانگنے کے بجائے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں اور امریکی خوشنودی کے لیے کام کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ این آر اواور قومی مفاہمت کا فائدہ صرف آصف زرداری اور الطاف حسین اوران کے حواریوں کو ہواہے۔ یہاں ظالموں کا راج اور قوم دیوار کے ساتھ لگ گئی ہے۔

09/10/2009 18:41:52 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے