اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی چوری روکنے میں ناکام رہے، وزیر پانی و بجلی کا اعتراف:
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10جولائی۔2010ء)وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ غریبوں کے نام پر دی جانے والی بجلی کی سبسڈی امیر طبقات کھارہے ہیں۔سزاؤں کے باوجود میٹر ریڈر کی ملی بھگت سے بجلی کی چوری کو نہیں روک سکے۔لاہور ایوان صنعت و تجارت میں ایک اجلاس سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کے بحران کے حل کی تمام کوششیں کررہے ہیں، لیکن اس کے خاتمے کی حتمی تاریخ اب نہیں دوں گا۔راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ تھر کول سے ایک سو میگاواٹ کا تجرباتی بجلی گھر ایک سال میں پیداوار شروع کردے گا، جبکہ صدر زرداری کا چین سے بونجی ڈیم کی تعمیر کا نیا معاہدہ اہم پیش رفت ہے۔راجہ پرویز اشرف نے اعتراف کیا کہ پچھلے سال بجلی پر دی جانے والی ایک سو سینتالیس ارب روپے کی سبسڈی کا بہت کم حصہ غریبوں کو مل سکا۔پانی کی قلت کے سوال پر راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ تین صوبوں کے اختلافات کی موجودگی میں کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صنعت کار چاہیں تو بجلی کی تقسیم کی کمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کو تیار ہیں، حکومت کو چار ہزار میگاواٹ بجلی کی فراہمی کا دعویٰ کرنے والے صنعتکار دو سو میگاواٹ بھی نہ دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ لائن لاسز میں کچھ کمی ہوئی ہے لیکن محکمے کی ملی بھگت سے بچلی چوری روکنے میں بڑی کامیابی نہیں مل سکی۔وفاقی وزیرپانی و بجلی جو لاہور میں تاجروں کو بجلی کے منصوبوں کے بارے میں بتارہے تھے کہ اس دوران بجلی چلی گئی اور انھیں اندھیرے میں خطاب اور ایک بار پھر شرمندگی کا سامناکرناپڑا۔

10/07/2010 19:28:53 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے