اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

مہنگائی میں اضافے کی شرح موجودہ سطح پر رہی تو آئندہ ماہ شرح سود کم کر دی جائے گی  اسٹیٹ بینک ،وفاقی وزارت خزانہ کا نئے مالی سال میں بجلی کے نرخ مرحلہ وار 17 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ،نئے مالی سال میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کا مرحلہ یکم جولائی سے شروع ہو گا  سلمان صدیق:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17جون۔2009ء)اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کی شرح موجودہ سطح پر رہی تو آئندہ ماہ شرح سود کم کر دی جائے گی جبکہ وفاقی وزارت خزانہ نے نئے مالی سال میں بجلی کے نرخ مرحلہ وار 17 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک سید سلیم رضا نے بتایا کہ افراط زر کی شرح موجودہ سطح پر برقرار رہی تو جولائی میں ڈسکاوٴنٹ ریٹس میں کمی ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے نئے قانون میں مانیٹری پالیسی کے اعلان کے لئے خود مختار کمیٹی بنانے کی تجویز دی جائے گی، اور منی سپلائی کنٹرول کرنے کے لئے گورنمنٹ سکیورٹیز کو میوچل فنڈ کی سطح پر لایا جائے گا۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ اگست سے ڈیزل کی ادائیگیاں بھی اوپن مارکیٹ سے کی جائیں گی۔ آئندہ ماہ سے شرح سود مزید کم کی جائے گی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم رضا نے کمیٹی کو بتایا کہ افراط زر کی شرح مئی میں 14 فی صد تک آ چکی ہے ، جولائی میں اسی حساب سے شرح سود میں کمی کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگست تک اسٹیٹ بینک قوانین کی تجاویز تیار کرلی جائیں گی جن کے تحت مرکزی بینک زیادہ فعال اور خود مختار ادارہ بنایا جائے گا جبکہ سرحد اور بلوچستان کے لئے قرضوں کی ادائیگی کا شیڈول از سر نو تبدیل کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔وفاقی سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق نے کمیٹی کو بتایا کہ نئے مالی سال میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کا مرحلہ یکم جولائی سے شروع ہو گا،نرخوں میں اضافے کا مقصد تقسیم کار کمپنیوں کو سالانہ 35 ارب روپے کے سود سے بچانا ہے ۔

17/06/2009 20:54:50 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے