اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

73کے آئین کو اصل شکل میں بحال کریں گے، ججز کی بحالی کے بعد بجلی کے بحران پر بھی قابو پالیا جائے گا  وزیراعظم یوسف رضا گیلانی،پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا  تمام پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں  مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں دہشت گردی کے سد باب کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کر نا ہوگا، میڈیا دہشتگردوں کو ہیرو کے طور پر پیش نہ کرے موجودہ حالات میں میڈیا کو قومی مفاد کا خیال رکھنا ہوگا سی پی این ای کے ارکان سے خطاب:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9اپریل۔2009ء)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ 1973کے آئین کو اصل شکل میں بحال کریں گے، ججز کی بحالی کے بعد اب بجلی کے بحران پر بھی قابو پالیا جائے گا  پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا  تمام پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں تاہم مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں  دہشت گردی ملک میں کینسر کی طرح پھیل رہی ہے اس کے سد باب کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کر نا ہوگا  میڈیا دہشتگردوں کو ہیرو کے طور پر پیش نہ کرے موجودہ حالات میں میڈیا کو قومی مفاد کا خیال رکھنا ہوگا وہ اسلام آباد میں سلام آباد میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر ز(سی پی این ای) کے ارکان سے خطاب کر رہے تھے وزیر اعظم نے کہاکہ سیاست میں نشیب و فراز اور عروج و زوال کاتجزیہ اور زمانے کی نبض شناسی میں صحافت کی اہمیت اور افادیت کا پہلے سے زیادہ قائل ہوں بلکہ مجھ پریہ حقیقت بھی اجاگر ہوئی کہ وطن عزیز ایسی نظریاتی ریاست میں ایک ذمہ داراور جرات مند میڈیا کی واقعی غیر معمولی اہمیت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا واقعی کسی جمہوری ریاست کا چوتھا ستون ہوتا ہے.آپ حقیقی معنوں میں اس قوم کے جذبات کے ترجمان اور سوچ کے نمائندہ ہیں اور آپ سے زیادہ کوئی اس حقیقت سے باخبر نہیں کہ وطن عزیزان دنوں کن خطرات اور خدشات سے دوچار ہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جب ہم نے اقتدار کی ذمہ داریاں سنبھالیں، تو درپیش حالات کی نزاکت اور نوعیت کیا تھی؟۔ ہمیں ورثے میں دہشت گردی، معاشی مشکلات، مہنگائی اور توانائی کے بحران اور سیاسی محاذ آرائی سمیت دیگر گھمبیر عوامی مسائل ملے جن کو ہم نے اپنے محدود وسائل کی مدد سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری کوششوں کے خوشگوار اور مثبت نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہماری کوششوں کو کامیاب بنانے میں یقینی طور پر میڈیا کا بڑا اہم کردار ہے اور میں کھلے دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ آپ نے اپنی بروقت اور تعمیری تنقید سے ہماری رہنمائی کی جس سے پالیسی سازی میں ہمیں مدد ملی اور ہماری حکمت عملی کے خدو خال اجاگرہوئے۔ میڈیا کے اس کردار نے ہمارے فیصلوں اور اقدامات کو موثر ،ثمر بار اور معتبربنایا۔ ایک منتخب اور جمہوری حکومت کی حیثیت سے ہم اس اختلاف رائے کا احترام اپنی ذمہ داری خیال کرتے ہیں جو عوامی جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے آپ ہمارے ساتھ کرتے ہیں۔ ہم میڈیا کی آزادی پر غیر متزلزل اور کامل یقین رکھتے ہیں۔ ہم ہر مشکل اور آزمائش کے وقت میں صحافت اور اہل صحافت کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آپ کا اور ہمارا ساتھ قومی تاریخ کا ایک انتہائی شاندار، قابل فخر اور معتبر حوالہ ہے۔میڈیا کے بارے ہماری بڑی واضح اور غیر مبہم پالیسی ہے اور یہ کہ ہم میڈیا کوایسا ادارہ سمجھتے ہیں جو معاشرے اور حکومت کا احتساب کر سکتاہے، ہم میڈیا سے کچھ نہیں چھپانا چاہتے، ہم میڈیا کو اپنا حریف یا مد مقابل تصور نہیں کرتے، ہم میڈیا کے استحقاق کا احترام کرتے ہیں، ہم میڈیا کی مثبت اور تعمیری تنقید کا خندہ پیشانی سے خیر مقدم کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل کا مورخ ہمیں میڈیا دوست حکومت کے زمرے میں شمار کرے۔ مجھے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے بے حد مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت میں میڈیا کو مثالی آزادی حاصل ہے اور اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ آج کوئی چینل ، کوئی اخبار، کوئی میگزین کسی پابندی یا انتقامی کارروائی کا شکار نہیں۔ اس کے جواب میں ہم میڈیا سے اتنی توقع ضرور رکھتے ہیں کہ وہ معروضی خبر نگاری کی روایت کو زیادہ توانا اور مروج کرنے میں اپنے تیئں اقدامات کرے گا اور غیر جانبدار رپورٹنگ کو اپنا امتیازی وصف بنائے گا ۔دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر کو ہیرو کے روپ میں پیش نہ کرے، اخبارات کے صفحات اور ٹی وی سکرینوں پر ایسے مناظر نہ دکھائے جو عوام کو مایوس اور پریشانی میں مبتلا کر دیں۔میڈیا کے حوالے سے ہم زرد صحافت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کی توقع نہیں رکھتے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم میڈیا پر کوئی پابندی عائد نہیں کریں گے لیکن میڈیا خود اپنا ضابطہ اخلاق مرتب کرکے اس پر عمل کرے۔ میڈیا اگر ملک و قوم کا محاسبہ کر سکتا ہے تو یہ اپنا محاسبہ بھی ضرور کر سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہماری طرح آپ کے بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ قلم کی کاٹ، تلوار کی کاٹ سے زیادہ گہری اور اثر انگیز ہوتی ہے۔ آپ کے ہاتھوں میں آ کر عام قلم ایک نشتر بن جاتا ہے لہذا اس کو سرجن کی طرح جان بچانے کے لئے استعمال کیجئے۔آپ دل کھو ل کر اختلاف کیجئے مگر حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپ کڑی تنقید کیجئے مگر شخصیات اور ذاتیات سے بالاتر رہتے ہوئے، آپ بلا خوف اپنی رائے کا اظہار کیجئے مگر ملک و قوم کے وسیع تر مفادات کو فوقیت دیتے ہوئے، آپ اپنا آزادی اظہار کا حق استعمال کیجئے مگر یاد رہے کہ ہر حق، ایک کی فرض کی ادائیگی سے مشروط ہوتا ہے اور میڈیا کے حوالے سے آپ کا فرض ہے وطن عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا ۔وزیراعظم نے کہاکہ آج وطن عزیز کو جن گو ناگوں مسائل کا سامنا ہے ان میں دہشت گردی سب سے زیادہ نمایاں ہے اور اسی سبب یہ ہماری حکومت کی سر فہرست ترجیح ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ دہشت گردی ایک کینسر کی طرح پھیل رہی ہے لیکن ہم اس کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم نے اس کے لئے یہ موثر حکمت عملی اختیار کی ہے کہ ہتھیار پھینکنے والے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کئے جائیں، شورش زدہ علاقوں میں عوام کی بحالی اور ان کی سماجی و معاشی ترقی کے لئے ہمہ پہلو اقدامات کئے جائیں اور اگر اس کے باوجود کوئی شخص یا گروہ حکومت اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرے تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ انہوں نے کہاکہ آپ یقینا میرے اس عزم کے حامی ہوں گے کہ 16کروڑ عوام کے ہاتھ دہشت گردوں کے اس ٹولے تک ضرور پہنچیں گے اور جلد پہنچیں گے، جو دلیر، غیرت مند، شجاع اور محب وطن قبائلیوں کی مہمان نوازی اور وضعداری کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ہمارے کھلیانوں کو ویران، گلی کوچوں کوسنسان، تعلیمی اداروں کو تباہ، عبادت گاہوں کو مقتل، ہنستی مسکراتی زندگی کو اشکبار اور ہماری آنکھوں سے مستقبل کے خوبصورت خواب چھین لینا چاہتا ہے۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ ہم وطن عزیز میں جمہوری کلچر کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی قائم کرنے، 1973ء کے آئین کو اس کی حقیقی اور اصل روح کے ساتھ روبہ عمل لانے ، عوام کو بلا امتیاز روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنے، معاشی مشکلات کو دور کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے، صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے، پسماندہ اور محروم طبقوں اور علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے اور ایک عظیم تر پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں چنانچہ آپ نے بخوبی مشاہدہ کیا کہ معزول جج بحال ہو چکے ہیں۔ اس سال کے آخر تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل کرنے کے لئے تسلی بخش انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اجراء کیاگیا۔ کم تنخواہ اور کم آمدن والے افراد کے لئے ہاؤسنگ سکیمیں شروع کی گئیں اور خواتین کے معاشرتی حقوق کی بحالی کیلئے آغاز کیا گیا۔ ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے ضمن میں پروقار خارجہ پالیسی اختیار کی گئی۔ مہذب دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہے اور عالمی برادری تسلیم کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار اور خدمات دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلہ میں سب سے زیادہ اور موثر ہیں، ہم مسئلہ کشمیر بارے اپنے اصولی موقف پر بدستور قائم ہیں، ہم نے بمبئی دھماکوں کے بعد کی صورت حال کا صبر و تحمل اور شائستگی سے سامنا کیا اور سرخرو رہے۔میں دو ٹوک اور واضح الفاظ میں دنیا پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور ہم تمام ممالک کے ساتھ خاص طور پر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں مگر ہماری اس خواہش کو ہماری کمزوری سے تعبیر کرناٹھیک نہ ہوگا۔ ہمارے عوام اور ہماری مسلح افواج اپنے سبز ہلالی پرچم کی سربلندی اور آبرو کے لئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد اور چوکنا ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم اپنی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ بلاشبہ ہمیں گو ناگوں مسائل کا سامنا ہے لیکن یہ امر باعث مسرت اور اطمینان ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے قوم متحد ہے، جمہوری ادارے اور جمہوری قوتیں پروان چڑھ رہے ہیں، مفاہمت اور تحمل و برداشت کا جذبہ فروغ پا رہا ہے ۔ ہم نے ایک سال کی مختصر مدت میں کئی اہم سنگ میل عبور کئے ہیں لیکن ابھی اس سفر میں بہت آگے جانا ہے۔ اس سفر میں حکومت کو میڈیا اور اس سے وابستہ افراد کی دانش اور بصیرت سے استفادہ کرنے کی ہمہ وقت ضرورت ہے ، حکومت کو آپ سے بے پناہ توقعات ہیں کیونکہ آپ لوگ مولانا محمد علی جوہر،مولانا ظفر علی خان، شورش کاشمیری، ممتاز حسین ،حمید نظامی، فیض احمد فیض، اے ٹی چوہدری، اے بی ایس جعفری ،میر خلیل الرحمن، مولانا صلاح الدین ، ظہیر کاشمیری اورحنیف رامے ایسی نامور روزگار شخصیات کی سنہری اور شاندار روایات کے امین ہیں جنہوں نے آمریت، جبر اور استحصال کی قوتوں کے پھیلائے ہوئے اندھیروں میں ٓزادی اظہار ، عوام کی ترجمانی اور حق پرستی کے وہ چراغ روشن کئے جو آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔

09/04/2009 23:20:47 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے